Wednesday , January 17 2018
Home / ہندوستان / سنیما گھروں میں قومی ترانہ بجانا اختیاری

سنیما گھروں میں قومی ترانہ بجانا اختیاری

لزوم کے سابقہ احکام میں ترمیم، سپریم کورٹ کا اعلان
نئی دہلی 9 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے اپنے قبل ازیں معلنہ احکام میں ترمیم کرتے ہوئے سنیما گھروں میں فلم کی نمائش کے آغاز سے پہلے قومی ترانہ بجانے کو اب اختیاری قرار دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے 30 نومبر 2016 ء کو جاری کردہ اپنے احکام میں ترمیم کی ہے جن میں تمام سنیما گھروں میں فلم کی نمائش سے قبل قومی ترانہ بجانا لازمی قرار دیا گیا تھا۔ چیف جسٹس دیپک مصرا نے کہا ہے کہ مرکز کی طرف سے تشکیل شدہ 12 رکنی بین وزارتی کمیٹی سنیما گھروں میں قومی ترانہ بجانے کے بارے میں قطعی فیصلہ کرے گی۔ عدالت عظمیٰ نے گزشتہ سال اکٹوبر میں اس تاثر کا اظہار کیا تھا کہ عوام کو اپنی حب الوطنی کی نمائش کرنے کے لئے مجبور نہیں کیا جاسکتا اور یہ نہیں سمجھا جانا چاہئے کہ اگر کوئی فرد قومی ترانہ بجاتے وقت ایستادہ نہ ہوتا ہے تو وہ ’کم محب وطن‘ ہے۔ جس کے بعد مرکز نے یہ فیصلہ کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اس تاثر کا اظہار کیاکہ ملک کو ’’اخلاقی پولیس‘‘ کی ضرورت نہیں ہے اور کہا تھا کہ آئندہ مرتبہ حکومت یہ چاہے گی کہ عوام ٹی شرٹس اور شارٹس پہن کر سنیما گھر نہ آئیں کیونکہ اس سے قومی ترانہ کی توہین ہوسکتی ہے۔ اس بنچ نے جس میں جسٹس اے ایم کھانویلکر اور جسٹس ڈی وائی چندرا چوڑ بھی شامل ہیں، کہاکہ کمیٹی کو چاہئے کہ وہ قومی ترانہ بجانے سے متعلق تمام پہلوؤں کا جائزہ لے اور درخواست گذاروں کو اس کمیٹی میں نمائندگی کی اجازت دی جائے۔ اس بنچ نے اپنے پاس زیرتصفیہ تمام درخواستوں کی یکسوئی کرتے ہوئے یہ واضح کیاکہ قبل ازیں معذورین کو قومی ترانہ بجاتے وقت ایستادہ ہونے سے استثنیٰ دیا گیا تھا اور کمیٹی کے قطعی فیصلہ تک یہ طریقہ کار برقرار رہے گا۔ عدالت عظمیٰ نے حکومت کا حلفنامہ قبول کرلیا جس میں کہا گیا ہے کہ 12 رکنی پیانل نے قومی اعزاز کی اہانت کے انسداد سے متعلق 1971 ء کے قانون میں تبدیلیوں سے اتفاق کرلیا ہے۔ اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے کہاکہ یہ کمیٹی اندرون چھ ماہ اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT