Tuesday , December 11 2018

سن رائزس حیدرآباد کو آج دہلی کے خلاف کامیابی کا بہتر موقع

نئی دہلی ۔ 9 مئی (سیاست ڈاٹ کام) سن رائزس حیدرآباد جس نے گذشتہ رات راجستھان رائلس کے خلاف کم اسکور کے مقابلہ میں ایک قابل ستائش کامیابی حاصل کی ہے اور کل یہاں فیروز شاہ کوٹلہ گراونڈ پر کھیلے جانے والے مقابلہ میں اسے دہلی ڈیر ڈیولس کے خلاف کامیابی حاصل کرنے کا ایک اور موقع دستیاب رہے گا کیونکہ میزبان دہلی کی ٹیم مسلسل ناکامیوں کی وجہ س

نئی دہلی ۔ 9 مئی (سیاست ڈاٹ کام) سن رائزس حیدرآباد جس نے گذشتہ رات راجستھان رائلس کے خلاف کم اسکور کے مقابلہ میں ایک قابل ستائش کامیابی حاصل کی ہے اور کل یہاں فیروز شاہ کوٹلہ گراونڈ پر کھیلے جانے والے مقابلہ میں اسے دہلی ڈیر ڈیولس کے خلاف کامیابی حاصل کرنے کا ایک اور موقع دستیاب رہے گا کیونکہ میزبان دہلی کی ٹیم مسلسل ناکامیوں کی وجہ سے نہ صرف پریشان ہیں بلکہ ٹیموں کے جدول میں وہ آخری مقام پر بھی پہنچ چکی ہے جس کے بعد ٹورنمنٹ کے اگلے مرحلہ میں اس کی رسائی انتہائی مشکل ترین ہوچکی ہے۔ 8 مقابلوں میں دہلی ڈیر ڈیولس نے صرف دو فتوحات حاصل کئے ہیں اور اسے اب مشکل ترین حالات کا سامنا ہے جہاں کوئی کرشمہ ہی اسے اگلے مرحلہ میں پہنچا سکتا ہے۔ ہندوستانی واپسی کے بعد آئی پی ایل دہلی کیلئے ایک ڈراونا خواب بن چکا ہے

کیونکہ اسے ملک میں ہنوز پہلی کامیابی حاصل کرنی ہے۔ دہلی کو ٹورنمنٹ میں دو فتوحات متحدہ عرب امارات میں ہی حاصل ہوئی ہیں۔ ہندوستان میں کھیلے گئے تین مقابلوں میں اسے پہلے راجستھان رائلس کے خلاف 7 وکٹوں کی، چینائی سوپرکنگس کے خلاف 8 وکٹوں اور پھر کولکتہ نائیٹ رائیڈرس کے خلاف بھی شکست برداشت کرنی پڑی ہے۔ نفسیاتی طور پر دہلی ڈیر ڈیولس کے کھلاڑیوں کا اعتماد کافی پستی میں پہنچ چکا ہے۔ دہلی ڈیرڈیولس کیلئے سب سے زیادہ نقصان اس کے بیٹنگ شعبہ کے مظاہروں میں استقلال کا فقدان ہے جبکہ بولروں میں محمد سمیع، وینی پارنیل، سدھارتھ کول اور شہباز ندیم نے کوئی خاطرخواہ مظاہرہ نہیں کیا ہے۔ انگلش ٹیم کے سابق کپتان کیون پیٹرسن کی بحیثیت کپتان ٹیم میں واپسی بھی حالات بدل نہیں پائی کیونکہ وہ خود 5 اننگز میں صرف 62 رنز اسکور کر پائے ہیں۔ ٹیم کے کوچ گیری کرسٹن نے یقیناً اپنی ٹیم سے اس طرح کے مظاہروں کی قطعی امید نہیں کی ہوگی۔ کل کھیلے جانے والے مقابلہ میں دہلی ڈیر ڈیولس کی کوشش ہوگی کہ وہ سن رائزس حیدرآباد کے خلاف کھیلے گئے گذشتہ مقابلہ میں ہوئی شکست کا حساب برابر کرے۔ دوسری جانب سن رائزس حیدرآباد جس نے گذشتہ رات کم اسکور کے مقابلہ کا کامیاب دفاع کرتے ہوئے راجستھان رائلس کے خلاف 32 رنز کی کامیابی حاصل کی اور سرفہرست چار ٹیموں میں شمولیت کے اپنے امکانات کو بھی برقرار رکھا ہے نیز اس کامیابی سے کھلاڑیوں کے حوصلے کافی بلند ہیں۔

سن رائزس حیدرآباد نے 7 مقابلوں میں 3 فتوحات کے ذریعہ ٹیموں کے جدول میں پانچواں مقام حاصل کرلیا ہے۔ دہلی کی طرح حیدرآبادی بیٹنگ شعبہ کے مظاہروں میں بھی استقلال کا فقدان ہے جیسا کہ گذشتہ مقابلہ میں راجستھان کے خلاف حیدرآبادی ٹیم 20 اوورس میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 134 رنز اسکور کر پائی تھی۔ بھونیشور کمار نے 14 رنز کے عوض 4 کھلاڑیوں کو آوٹ کرتے ہوئے نہ صرف راجستھان کو 102 رنز پر ڈھیر کرنے میں کلیدی رول ادا کیا بلکہ ٹیم کی کامیابی کے معمار بھی ثابت ہوئے۔ اس کامیابی میں بھونیشور کمار کے سینئر ساتھی بولر ڈیل اسٹین نے 33 رنز کے عوض 2 جبکہ کرن شرما، موسیس ہینرکس اور عرفان پٹھان نے فی کس ایک کھلاڑی کو آوٹ کیا۔ اس کامیابی کے باوجود ٹیم کے کپتان شکھر دھون پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہیکہ وہ بیٹنگ شعبہ میں بہتر کارکردگی کے ذریعہ مثال قائم کریں۔

TOPPOPULARRECENT