Tuesday , September 18 2018
Home / Top Stories / سوئٹزرلینڈ سے بینک معلومات میں شراکت داری کی خواہش

سوئٹزرلینڈ سے بینک معلومات میں شراکت داری کی خواہش

نئی دہلی۔ 23 جون (سیاست ڈاٹ کام) یورپی ملک سے معلومات میں شراکت داری حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے آج کہا کہ حکومت سوئٹزرلینڈ کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے ہندوستانیوں کے غیرمحسوب رقم کی تفصیلات سوئز بینکوں سے حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔ مرکزی وزیر فینانس کا یہ تبصرہ حکومت سوئٹزرلینڈ کے ایک عہدیدار کی جانب سے

نئی دہلی۔ 23 جون (سیاست ڈاٹ کام) یورپی ملک سے معلومات میں شراکت داری حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے آج کہا کہ حکومت سوئٹزرلینڈ کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے ہندوستانیوں کے غیرمحسوب رقم کی تفصیلات سوئز بینکوں سے حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔ مرکزی وزیر فینانس کا یہ تبصرہ حکومت سوئٹزرلینڈ کے ایک عہدیدار کی جانب سے پی ٹی آئی کو یہ اطلاع دینے کے بعد منظر عام پر آیا ہے کہ بعض افراد اور شخصیات جو سوئٹزرلینڈ کے عہدیداروں کی زیرنگرانی ہیں، کے بارے میں تفصیلات میں ہندوستان کو شریک کیا جائے گا۔ جیٹلی نے کہا کہ اس سلسلے میں سرکاری طور پر ہنوز کوئی مکتوب وصول نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اپنے طور پر آج سوئز عہدیداروں کو مکتوب روانہ کررہا ہے، جن کے ساتھ مرکزی وزارت ِ فینانس ربط میں ہے تاکہ عہدیداروں سے جتنی بھی ممکن ہوسکے، معلومات حاصل کی جائیں۔ حکومت ِ ہند اور سوئز عہدیداروں کے درمیان تعاون قائم کیا جائے جس کے ثمرآور نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہی مکتوب روانہ کردیا جائے گا۔ وہ سوئز بینکوں میں غیرمحسوب رقم جمع کرنے والے ہندوستانیوں کے مسئلہ کا حوالہ دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سوئز عہدیداروں کے حوالے سے ذرائع ابلاغ کے مختلف گوشوں میں خبریں شائع ہوئی ہیں کہ وہ حکومت ِ ہند کے ساتھ سرگرم تعاون کرنے تیار ہے اور سوئز بینکوں میں غیرمحسوب رقم جمع کروانے والے ہندوستانیوں کے بارے میں تفصیلات فراہم کریں گے۔ سوئٹزرلینڈ کے سنٹرل بینک کے تازہ ترین اعداد و شمار کے بموجب 2013ء میں سوئز بینکوں میں جمع ہندوستانی رقم میں 43% اضافہ ہوا تھا اور وہ 14 ہزار کروڑ روپئے کے قریب ہوگئی تھی۔ اس میں ہندوستانیوں کی جانب سے راست طور پر جمع کروائی گئی رقمیں بھی شامل ہیں۔ کالادھن واپس لانے کی کوشش کے ایک حصہ کے طور پر نریندر مودی کی کابینہ نے پہلے ہی دن ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم قائم کردی تھی تاکہ ناجائز آمدنی کا پتہ چلایا جاسکے جس کے سربراہ ایم بی شاہ ہیں اور کمیٹی کا پہلا اجلاس 2 جون کو منعقد کیا جاچکا ہے۔ ٹیم میں سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج اریجیت پسائت نائب صدرنشین، معتمد مالیہ، ڈائریکٹرس سی بی آئی، آئی بی، را، ای ڈی ، سی بی ڈی ٹی کے صدرنشین اور آر بی آئی کے ڈپٹی گورنر بحیثیت ارکان شامل ہیں۔

TOPPOPULARRECENT