Monday , May 28 2018
Home / دنیا / سوئٹزرلینڈ کی پروقار ادبی تقریب میں اردو کا بول بالا

سوئٹزرلینڈ کی پروقار ادبی تقریب میں اردو کا بول بالا

زیورچ، 3مارچ (سیاست ڈاٹ کام) سوئزرلینڈ کے شہر زیورچ میں ادبی ادارے لٹریچرہاؤس نے ‘ہندوستانی ادب کے دن ‘ کے موضوع پر پچھلے ہفتے ایک پروقار ادبی تقریب کا انعقاد کیا تھا جس میں ہندوستان ، لندن، جرمنی اور دیگر ممالک کے سرکردہ ادیب ، صحافی اور پبلیشرز نے شرکت کی۔ رحمن عباس کے ناول روحزن کا جرمن زبان میں ترجمہ ماہر لسانیا ت الموٹ دیگنر نے کیا ہے اردو کی طرح جرمن زبان میں بھی ناول کو پذیرائی ملی ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ سوئٹزرلینڈ کے اہم ادبی ادارے لٹریچر ہاؤں کی انتظامیہ نے ناول کو اپنے ادبی پروگرام کا حصہ بنایا اور رحمن عباس کو بھی شرکت کی دعوت دی۔ ناول پر مذاکرے ، جرمن اور اردو میں قرأت اور رحمن عباس سے ان کی ناول نگاری پر گفتگو کے لیے ۹۰ منٹ مختص کیے گئے تھے ۔ تقریباً دو سو ادب نواز افراد نے تقریب میں شرکت ۔ جرمن صحافی جینفرخاکشوری نے رحمن عباس کا تعارف پیش کیا اور کہا کہ اردو ناول نگاری میں رحمن عباس نے اپنے اسلوب اور موضوعات کے تنوع سے اپنی الگ پہچان بنائی ہے جس کے معترف ہندوستان، پاکستان اور ان علاقوں میں ہیں جہاں اردو زبان لکھی پڑھی جاتی ہے ۔ جرمن اسٹیج اور ٹی وی اداکار ڈینیل ہجدو نے جرمن ناول سے پندرہ منٹ قرأت کی جسے سامعین نے بہت سراہا۔ اس کے بعد رحمن عباس نے ایک مختصرپیراگراف اردو میں پڑھ کر سنایا تا کہ جرمن اور فرانسیسی شرکاء کو اردو زبان سننے کا موقع ملے ۔ مشہور جرمن نقاد اور اردوہندی اسکالر ہنز ویسلر نے رحمن عباس کی اردد گفتگو کو براہ راست جرمن زبان میں ترجمہ کر کے لوگوں تک پہنچایا۔ روحزن کے جرمن پبلشر کرسٹین وائی نے کہا کہ روحزن ایک اہم ہندستانی ناول ہے جس میں ممبئی کی زندگی کا مشاہدہ بہت گہرائی سے دکھائی دیتا ہے ۔ برسوں بعد ہندوستان سے کسی ناول نے انھیں متاثر کیا اور اسی لیے انھوں نے فوراً اس ناول کو شائع کرنے کا فیصلہ کیا۔ کرسٹین نے مزید کہا کہ مئی اور جون میں اس ناول پر جرمنی کے چھ شہروں میں گفتگو ہوگی، سوئٹزرلینڈ کی تقریب ایک شاندار ابتدا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT