Thursday , September 20 2018
Home / ہندوستان / سوئیز بینکس ‘ ہندوستانی اکاؤنٹ ہولڈرس سے ترک تعلق کے خواہاں؟

سوئیز بینکس ‘ ہندوستانی اکاؤنٹ ہولڈرس سے ترک تعلق کے خواہاں؟

ممبئی 23 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) سوئیٹزر لینڈ کے بڑے بینکس اس بات کیلئے کوشاں ہیں کہ ان ہندوستانی اکاؤنٹ ہولڈرس سے ترک تعلق کرلیں جنہوں نے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے ۔ بینکس چاہتے ہیں کہ ان کی وجہ سے انہیں مستقبل میں کسی طرح کی پشیمانی کا سامنا کرنا نہ پڑے ۔ کہا گیا ہے کہ کم از کم چار افراد کو کو مشورہ دیا گیا ہے کہ اپنی رقومات 31 ڈسمبر تک

ممبئی 23 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) سوئیٹزر لینڈ کے بڑے بینکس اس بات کیلئے کوشاں ہیں کہ ان ہندوستانی اکاؤنٹ ہولڈرس سے ترک تعلق کرلیں جنہوں نے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے ۔ بینکس چاہتے ہیں کہ ان کی وجہ سے انہیں مستقبل میں کسی طرح کی پشیمانی کا سامنا کرنا نہ پڑے ۔ کہا گیا ہے کہ کم از کم چار افراد کو کو مشورہ دیا گیا ہے کہ اپنی رقومات 31 ڈسمبر تک دستبردار کرلیں۔ کہا گیا ہے کہ ان میں سے تین افراد کا تعلق ممبئی سے اور ایک کا دہلی سے ہے اور یہ سوئیٹزر لینڈ میں کئی بینک اکاؤنٹس رکھنے کیلئے جانے جاتے ہیں۔ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران ان اکاؤنٹ ہولڈرس کو بینک کے ریلیشن شپ مینیجرس سے فون کالس موصول ہوئے ہیں اور ان سے کہا گیا ہے کہ وہ کئی اکاؤنٹس بند کردیں ۔ معلوم ہوا ہے کہ ایک شخص کو تو 30 اکٹوبر تک اپنا اکاؤنٹ بند کردینے کو کہا گیا ہے جبکہ ایک اور سے کہا گیا ہے کہ وہ یہ شواہد پیش کرے کہ جو رقومات ان بینکس میں رکھی گئی ہیں ان کا ٹیکس ادا کیا گیا ہے ۔

کہا گیا ہے کہ یہ اکاؤنٹس زائد از ایک دہے سے چل رہے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ سوئیٹزر لینڈ کے بینکس میں کچھ ایسے ٹرسٹس کے اکاؤنٹس بھی ہیں جن کے ٹرسٹیز ہندوستانی شہری ہیں اور یہ وہاں بھاری رقومات رکھتے ہیں۔ ذرائع کے بموجب جن افراد کے شخصی اکاؤنٹس ہیں انہیں زیادہ پریشانی لاحق ہوسکتی ہے بہ نسبت ٹرسٹ کے اکاؤنٹس کے ۔ بعض ٹرسٹیز ضرورت پڑنے پر ٹیکس اداروں اور حکام کے علاوہ عدالتوں میں بھی یہ ادعا پیش کرسکتے ہیں کہ ان کے نام ٹرسٹیز کی حیثیت سے ان کی علم و اطلاع کے بغیر شامل کرلئے گئے ہیں اور ان ٹرسٹس سے انہیں کوئی مالی فائدہ حاصل نہیں ہوا ہے لیکن شخصی اکاؤنٹس رکھنے والوں کیلئے ٹیکس حکام کی کارروائی اور عدالتی کشاکش مشکلات پیداکرسکتی ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ سوئیز بینکوں میں اکاؤنٹس رکھنے والے کچھ افراد اور ادارے ان رقومات کو کسی دوسرے ملک کو منتقل کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں تاکہ تحقیق کنندگان کو ان کا پتہ نہ چل سکے ۔

TOPPOPULARRECENT