Tuesday , December 11 2018

سوائن فلو سے 17 اموات باعث تشویش ، حکومت وبائی امراض روکنے میں ناکام، محمد علی شبیر کا بیان

حیدرآباد /6 جنوری (سیاست نیوز) ڈپٹی فلور لیڈر کونسل محمد علی شبیر نے سوائن فلو سے 17 افراد کے فوت ہونے اور 100 سے زائد افراد کے متاثر ہونے پر تشویش ظاہر کی۔ آج احاطہ اسمبلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت کے 7 ماہ مکمل ہو چکے ہیں، تاہم چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے آج تک وبائی امراض روکنے کے لئے ایک بھی ج

حیدرآباد /6 جنوری (سیاست نیوز) ڈپٹی فلور لیڈر کونسل محمد علی شبیر نے سوائن فلو سے 17 افراد کے فوت ہونے اور 100 سے زائد افراد کے متاثر ہونے پر تشویش ظاہر کی۔ آج احاطہ اسمبلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت کے 7 ماہ مکمل ہو چکے ہیں، تاہم چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے آج تک وبائی امراض روکنے کے لئے ایک بھی جائزہ اجلاس طلب نہیں کیا، جب کہ شہر حیدرآباد کے گاندھی ہاسپٹل اور عثمانیہ ہاسپٹل میں سوائن فلو سے متاثرہ کئی افراد شریک ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حالیہ 6 دونوں میں 5 اموات ہوئی ہیں اور حکومت تماشائی بنی ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ریاستی وزیر صحت نے صرف سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے گاندھی ہاسپٹل میں شب بسری کی اور سوائن فلو وباء کی تردید کی، تاہم بعد میں اعتراف کیا کہ احتیاطی تدابیر کے سلسلے میں سرد مہری ظاہر کی جا رہی ہے۔ مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ شہر اور اضلاع میں سرکاری اسپتالوں کی صورت حال ابتر ہے، کئی آلہ جات ناکارہ ہیں اور آلہ جات کار کرد ہیں تو ٹیکنیشنس کی جائدادیں مخلوعہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے سرکاری اسپتالوں کے لئے بجٹ جاری نہیں کیا گیا۔ انھوں نے وبائی امراض کے روک تھام کے لئے جائزہ اجلاس طلب کرنے حکومت سے مطالبہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ایمسٹ امتحان کے سلسلے میں تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے وزرائے تعلیم تنازعہ کھڑا کرکے طلبہ کی زندگیوں سے کھلواڑ کر رہے ہیں، لہذا مرکزی حکومت اور گورنر نرسمہن کو چاہئے اس مسئلہ پر فوری توجہ مرکوز کریں اور طلبہ کا تعلیمی سال ضائع ہونے سے بچائیں۔ انھوں نے کہا کہ تنازعہ پیدا ہونے کی وجہ سے طلبہ دوسری ریاستوں کا رخ کر رہے ہیں۔ اسی طرح گزشتہ سال بھی تنازعہ کے باعث 11 ہزار انجینئرنگ کالجس کی نشستیں مخلوعہ رہ گئی تھیں، جن میں 50 سے زائد اقلیتی کالجس شامل تھے۔ انھوں نے کہا کہ اسکالر شپس سے متعلق حکومت کی فاسٹ اسکیم، سلو اسکیم میں تبدیل ہو گئی ہے، جب کہ حکومت کی جانب سے فنڈس کی عدم اجرائی کے سبب تعلیمی اداروں کا انتظامیہ، طلبہ اور ان کے سرپرستوں پر فیس کی ادائیگی کے لئے دباؤ ڈال رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT