Sunday , June 24 2018
Home / شہر کی خبریں / سوائن فلو سے 3اموات،27 متاثر

سوائن فلو سے 3اموات،27 متاثر

حیدرآباد۔/25فبروری، ( سیاست نیوز؍پی ٹی آئی) تلنگانہ میں سوائن فلو پر اب تک قابو نہیں پایا جاسکا اور آج مزید 3اموات ہوئی ہیں۔ اس طرح H1N1 سے ریاست میں مرنے والوں کی جملہ تعداد 54تک پہنچ گئی۔ آج 27مزید افراد سوائن فلو سے متاثر پائے گئے۔ سرکاری بلیٹن میں بتایا گیا ہے کہ جاریہ سال یکم جنوری سے 24فبروری تک جملہ 4242 نمونوں کی جانچ کی گئی جن میں 1352

حیدرآباد۔/25فبروری، ( سیاست نیوز؍پی ٹی آئی) تلنگانہ میں سوائن فلو پر اب تک قابو نہیں پایا جاسکا اور آج مزید 3اموات ہوئی ہیں۔ اس طرح H1N1 سے ریاست میں مرنے والوں کی جملہ تعداد 54تک پہنچ گئی۔ آج 27مزید افراد سوائن فلو سے متاثر پائے گئے۔ سرکاری بلیٹن میں بتایا گیا ہے کہ جاریہ سال یکم جنوری سے 24فبروری تک جملہ 4242 نمونوں کی جانچ کی گئی جن میں 1352 مثبت رہے۔ سوائن فلو اور دیگر پیچیدگیوں کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد 54 رہی۔ بلیٹن کے مطابق کل 146نمونوں کی طبی جانچ کی گئی جن میں 27متاثر قرار دیئے گئے۔ گزشتہ چھ دن کے دوران متاثرہ کیسیس کی تعداد میں کسی قدر کمی دیکھی گئی ہے۔ حکومت نے کہا ہے کہ مختلف ہاسپٹلس میں ادویات کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور اس کے علاوہ طبی معائنہ کیلئے کٹس بھی کافی تعداد میں موجود ہیں۔ عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ تیز بخار، سردی اور اعضاء شکنی کی صورت میں فوری ہاسپٹل سے رجوع ہوں۔اس دوران ملک بھر میں سوائن فلو کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد 800سے متجاوز ہوگئی ہے

اورنامور سائنسداں رفیع احمد ڈائرکٹر ایموری ویاکسن سنٹر ،اٹلانٹا ( امریکہ ) نے اس پر قابو پانے کے سلسلہ میں بعض تجاویز پیش کیں۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت سوائن فلو کیلئے جو دوا دی جارہی ہے اس کے ساتھ ساتھH2N3 اور ٹائپ B کا ٹیکہ بھی ملا کر دیا جانا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ سوائن فلو پر اب تک قابو نہیں ہوپایا ہے اس سے یہ اشارہ مل رہا ہے کہ فلو کافی حد تک پھیل چکا ہے چنانچہ H1N1کے ساتھ ساتھ فلو کی دیگر اقسام H2N3اور ٹائپ B کے بھی طبی معائنے کئے جانے چاہیئے۔ رفیع احمد ڈپارٹمنٹ آف بائیو ٹکنالوجی حکومت ہند کی مشاورتی کمیٹی میں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تینوں اقسام کے فلو کیلئے مشترکہ ٹیکہ تیار کرتے ہوئے ہندوستان نہ صرف اس کی روک تھام بلکہ عالمی سطح پر بھی اہم رول ادا کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پبلک ہیلت سے وابستہ عہدیداروں اور سائنسدانوں کو یہ معلوم کرنا چاہیئے کہ کیا سوائن فلو وائرس کے ساتھ ساتھ دیگر اقسام کے فلو بھی موجود ہیں۔ اگر ایسا ہو تو پھر اس کے کافی اثرات مرتب ہوں گے۔

TOPPOPULARRECENT