Wednesday , December 12 2018

سوامی اگنی ویش پر حملے کیخلاف جھارکھنڈ اسمبلی میں احتجاج

RANCHI, JULY 18 (UNI) - Social activist Swami Agnivesh with senior Congress leader Subodh Kant Sahay, former Jharkhand Chief Minister Babulal Marandi, Former Jharkhand Assembly Speaker Alamgir Alam and other opposition party leaders during a press conference in Ranchi on Wednesday. UNI PHOTO-44u

ایوان اسمبلی کے اجلاس میں مسلسل ہنگامہ ، کانگریس ، جے ایم ایم اور جے وی ایم کارکنوں کا احتجاج ، اجلاس دوپہر تک دوبار ملتوی
رانچی ۔18 جولائی ۔( سیاست ڈاٹ کام ) اپوزیشن پارٹیوں نے آج جھارکھنڈ اسمبلی میں سماجی کارکن سوامی اگنی ویش پر کل پاکور میں حملے کے خلاف پرشور احتجاج کیا جس کے نتیجہ میں ایوان کااجلاس ظہرانہ کے وقفہ تک کیلئے ملتوی کردیا گیا ۔ ایوان میں ریاستی وزیر برائے اُمور مقننہ نیل کنٹھ سنگھ منڈا کے یہ کہنے کے باوجود کہ چیف منسٹر رگھوور داس نے ایک تحقیقاتی کمیٹی فوری قائم کردی ہے جو معلومات کے وصول ہونے کے بعد تحقیقات کا آغاز کرے گی ۔ منڈا نے مزید کہا کہ ایسے واقعات جمہوریت میں ہوتے ہی رہتے ہیں ۔ اپوزیشن نے اپنی نعرہ بازی اور ایوان کے وسط میں جمع ہوکر خاطی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرنا جاری رکھا ۔ ریاستی وزیر نے اُن سے خواہش کی کہ وہ اس مسئلہ کو گزشتہ ماہ کے ہونٹی اجتماعی عصمت ریزی مقدمہ کے ساتھ نہ جوڑیں لیکن اپوزیشن کا پرشور احتجاج جاری رہا ، اس میں جھارکھنڈ مکتی مورچہ ، کانگریس اور جھارکھنڈ وکاس مورچہ (پراجا تانترک ) کے ارکان نے حصہ لیا۔ اپوزیشن ارکان نے اپنے مطالبات کی تائید میں پلے کارڈس بھی لہرائے، جنھیں واچ اینڈ وار ایوان کے عملے نے ضبط کرلیا ۔

قائد اپوزیشن ہیمنت سورین نے خاطیوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ اسپیکر دنیش اوروں نے کہا کہ تحریک التواء جو جھارکھنڈ وکاس مورچہ (پراجا تانترک ) رکن اسمبلی پردیپ یادو نے اس مسئلہ پر پیش کی ہے مسترد کی جاچکی ہے کیونکہ متعلقہ وزراء ایوان میں بیان دے چکے ہیںکہ ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کی جاچکی ہے ، ارکان سے وقفۂ سوالات جاری رکھنے کی اجازت دینے کی خواہش کرتے ہوئے اسپیکر نے بار بار ایوان میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کی اپیل کی لیکن شوروغل جاری رہا ۔ ابتداء میں ایوان کا اجلاس 12:45 دوپہر تک کیلئے ملتوی کردیا گیا ۔ بعد ازاں جب اجلاس کا دوبارہ آغاز ہوا تو شوروغل مسلسل جاری تھا ، چنانچہ اسپیکر نے کارروائی 2 بجے دن تک کیلئے ملتوی کردی ۔ سوامی اگنی ویش ملک گیر سطح پر ایک ممتاز 79 سالہ سماجی کارکن ہیں جو جبری مزدوری کے خلاف اپنی جدوجہد کیلئے شہرت رکھتے ہیں۔ انھیں چانٹے رسید کئے گئے تھے اور لاتیں ماری گئیں تھیں ۔ جھارکھنڈ کے قصبہ ٹاؤن میں یہ واقعہ پیش آیا تھا ۔ اُن کو زدوکوب کرنے سے پہلے اُن کے ساتھ بدگوئی بھی کی گئی تھی ۔ ایک ہجوم نے ایسا کیا تھا جو سوامی اگنی ویش کے بموجب بی جے پی سے ملحق نوجوانوں کے ایک گروپس کے کارکن تھے۔ انھوں نے اُن پر ہندوؤں کے خلاف بیانات دینے کا الزام عائد کیا تھا۔ جھارکھنڈ شہری ترقیاتی وزیر سی پی سنگھ نے اخباری نمائندوں سے اسمبلی کے باہر بات چیت کرتے ہوئے سوامی اگنی ویش کے خلاف تلخ لب و لہجہ میں تبصرہ کرتے ہوئے اُنھیں فراڈ اور غیرملکی ایجنٹ قرار دیا تھا ۔ راج بھون کے ذرائع نے تاہم کہا کہ پاکور کا واقعہ اور بعد ازاں سماجی کارکن کے ریاستی حکومت کے خلاف بیانات کے نتیجہ میں گورنر سے اُن کی طئے شدہ ملاقات منسوخ نہیں کی گئی۔ انھوں نے کہاکہ گورنر سے اُنھوں نے کل دوپہر ٹیلی فون پر ملاقات کا وقت مانگا تھا جسے قبول کرلیا گیا لیکن بعد ازاں گورنر کی ضروری پیشگی مصروفیت کی بناء پر اُسے منسوخ کردیا گیا ۔

TOPPOPULARRECENT