Monday , June 25 2018
Home / مذہبی صفحہ / سود کی لعنت

سود کی لعنت

مریم النساء

مریم النساء
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا اور صدقات کو بڑھاتا ہے‘‘ (سورۃ البقرہ۔۲۷۶) قرض پر لئے جانے والے نفع کو سود کہتے ہیں، چاہے سود ذاتی ضرورت کے لئے ہو یا کاروبار کے لئے، دونوں قسم کے قرضوں پر لیا جانے والا سود حرام ہے۔ سود لینے اور دینے والے کے لئے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے وعیدیں سنائی ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس رات مجھے معراج ہوئی، میں کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا، جن کے پیٹ اس طرح پھولے ہوئے تھے کہ جیسے گھر معلوم ہوتا تھا، ان میں سانپ ہی سانپ تھے اور یہ سانپ باہر سے نظر آتے تھے۔ میں نے پوچھا ’’اے جبرئیل! یہ کون لوگ ہیں؟‘‘۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے بتایا ’’یہ سود خور ہیں‘‘۔

سود سے باز رہنے کے لئے صرف مذکورہ حدیث شریف ہی کافی ہے، اس کے باوجود کئی وعیدیں قرآن و سنت میں موجود ہیں۔ پہلے تو اللہ تعالیٰ نے سود سے باز رہنے کا حکم دیا، اس کے بعد بھی اگر کوئی باز نہ آئے تو فرمایا: ’’وہ اللہ اور رسول سے جنگ کا اعلان کر رہا ہے‘‘۔ کوئی بی فرد، کوئی بھی قوم اور کوئی بھی امت اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی خلاف ورزی کرکے نہ کامیاب ہوئی ہے اور نہ بلندی تک پہنچ سکی ہے۔ جب وضاحت کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سود سے مسلمانوں کو روک دیا اور اس کی سزا بھی سنادی تو اس کے بعد بھی اگر کوئی مسلمان سود لیتا، دیتا یا اس کا گواہ بنتا ہے تو پھر گویا وہ اپنے آپ کو جہنم طرف دھکیل رہا ہے۔ واضح رہے کہ سود کا کاروبار کرنے والا خواہ کتنا ہی امیر ہو، وہ تنگدست ہی رہتا ہے۔ یعنی جب اللہ اور اس کے رسول نے سود سے نفرت اور بیزاری کا اعلان فرمادیا ہے تو پھر سود کا کاروبار کرنے والا کس طرح کامیاب ہو سکتا ہے؟۔

سودی کاروبار پر اتنی سخت سزا مقرر کرنے کے باوجود ہم مسلمانوں کے درمیان سود کا لین دین عام ہو گیا ہے۔ شاید اسی لئے مسلمان اللہ کے غضب کے مستحق اور دن بہ دن ذلت و پستی کا شکار ہو رہے ہیں۔ یعنی جو قوم بلندی سے ہمکنار تھی، آج وہ تاریک گڑھے میں گر رہی ہے، جس کی سب سے بڑی وجہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی ہے اور وہ سودی کاروبار کو جائز سمجھ رہی ہے۔ لہذا ہمیں جہنم کی آگ اور اللہ و رسول کی لعنت سے بچنے اور آخرت میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے سود جیسی لعنت کو ترک کردینا چاہئے، ورنہ ہمیں دنیا میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہم یہ نہ سوچیں کہ صرف ہمارے بچنے سے کیا ہوگا، بلکہ یہ سوچیں کہ اگر ہمیں دیکھ کر کوئی دوسرا شخص بھی برائی ترک کردے تو وہ ہمارے لئے ثواب جاریہ بن جائے گا۔ اور اگر ہم مسلمانوں نے اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے سود کی لعنت کو نہ چھوڑا تو پھر ہم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوگا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو اپنے غضب اور لعنت سے بچائے۔

TOPPOPULARRECENT