Tuesday , December 12 2017
Home / مذہبی صفحہ / سورۂ فاتحہ کا آفاقی پیغام امریکہ کے عیسائی ، اسلامی عقیدۂ توحید سے متاثر

سورۂ فاتحہ کا آفاقی پیغام امریکہ کے عیسائی ، اسلامی عقیدۂ توحید سے متاثر

ہندوستان کی اکثریت بت پرست اور مشرک ہے ، شرک اﷲ سبحانہ و تعالیٰ کے نزدیک ناقابل معافی جرم ہے ، اس کے مرتکبین اﷲ سبحانہ و تعالیٰ کی لعنت و غضب کے مستحق ہیں ، اس کے باوجود ہندوستان میں زندگی کا ایک طویل عرصہ ہم نے گزارا ہے ، لیکن کبھی غیرمسلم بت پرستوں کے سامنے اسلام کی تعلیمات و عقائد کو پیش کرنے اور غیرمسلم برادران وطن کو اسلام اور مسلمانوں سے قریب کرنے کے لئے کوئی عملی اقدامات نہیں کئے۔ متعدد دینی محافل میں شرکت کئے ، بڑے عظیم الشان جلسہ ہائے دین سے خطاب کیا لیکن کبھی غیرمسلمین کو دعوت دیکر ان کے سامنے اسلام کو بیان کرنے کی کوشش نہیں کی اور نہ یہ رجحان ہندوستان کے مسلمانوں میں پایا جاتا ہے ۔ آج کے دور میں ضرورت اس بات کی ہے کہ دینی مدارس کے نصاب میں ایسا مواد پڑھایا جائے اور غیرمسلمین میں دعوت و تبلیغ کے لئے افراد کو تیار کیا جائے۔ اس جانب توجہہ کرنا ، لٹریچر فراہم کرنا اور افراد کی ذہن سازی ایک اہم فریضہ ہے ۔ہندوستان کے غیرمسلم برادران وطن اگرچہ وہ مسلمانوں سے اختلاط کی بناء اسلامی طور طریق عادات و تقالیہ سے واقف ہیں لیکن نفرت و بغض کی جو آگ شدت پسند غیرمسلمین کی طرف سے بھڑکانے کی کوشش کی جارہی ہے ایسی صورتحال میں سیکولر غیرمسلم کے ساتھ ملکر عملی اقدامات کرنا وقت کا اہم تقاضہ ہے ورنہ نفرت و عداوت کا یہ سیلاب آنے والی نسلوں میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کے بیج بونے اور دراڑ قائم کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے ۔

امریکہ میں گرچہ سیاسی طورپر خصوصاً اور میڈیا کے ذریعہ عموماً مسلمانوں سے متعلق بدظنی و بدگمانی پھیلانے اور سادہ لوح عوام کو مسلمانوں سے متعلق متنفر اور مشکوک کرنے کی کوشش جاری ہے اور وہ بڑی حد تک کامیاب ہوئے ہیں لیکن یہ بات اٹل ہے کہ حق پر تاریکی کا پردہ ہمیشہ نہیں رہتا ، بہت جلد تاریکی کے پردے ، سپیدی کے روشنی سے زائل ہوجاتے ہیں اور دیکھتے دیکھتے دنیا کے طول وعرض میں روشنی عام ہوجاتی ہے ۔ ۷ اگسٹ ۲۰۱۶؁ء کو یونائیٹیڈ چرچ آف کرائسٹ واقع یون ٹاؤن ، نارتھ کارولینا کی دعوت پر بون ٹاؤن جانے کا اتفاق ہوا ۔ بون ٹاؤن ، نارتھ کارولینا کا پہاڑی علاقہ ہے ۔ اپنے محل وقوع کی بناء دنیا کے کئی ایک سیاح کی سیر و سیاحت کا مرکز بنا ہوا ہے۔ امریکہ کی مختلف ریاستوں سے لوگ گرما گزارنے کے لئے یہاں آتے ہیںاور فطری و قدرتی جمال و خوبصورتی سے محظوظ ہوتے ہیں۔ اونچے اونچے سرسبز و شاداب پہاڑوں کے درمیان واقع بون ٹاؤن کے عام گھروں میں پالتو جانور بکرے ، گائے، گھوڑے ، گدھے ، بلی ، مرغ وغیرہ پالتے ہیں ۔ اکثر و بیشتر اپنے گھر کے فارمس میں ترکاری خود اُگاتے ہیں۔ ہر موسم میں علاقہ کا رنگ خوشنما ہوتا ہے ۔ وہ بالعموم سرخ و سپید امریکیوں کا گڑھ ہے ، کہتے ہیں کہ وہاں کے لوگ بڑے شدت پسند ہیں اپنے غیرکو دیکھنا پسند نہیں کرتے ۔ چھوٹے سے مقام میں مختلف فرقوں کے سینکڑوں چرچ نظر آئیں گے ۔ یونائیٹیڈ چرچ آف کرائسٹ نہایت آزاد قسم کا چرچ ہے جس کے پاس حرام نام کی کوئی چیز نہیں ، وہ اﷲ پر ایمان رکھتے ہیں ، حضرت عیسیٰ سے متعلق ان کا عقیدہ عام عیسائیوں کے نظریات کے مطابق ہے ، البتہ حلال و حرام کا کوئی تصور نہیں ، ہرقسم کا جنسی تعلق ان کے پاس روا ہے ، انسانیت کے کام آنے کا جذبہ ہے۔ ہر مکتب خیال کو اپنے چرچ میں آنے کی دعوت دیتے ہیں ۔

اس بار ان کی دعوت پر میں نے ان سے خواہش کی کہ اپنی تقریر کے علاوہ میں کچھ ویڈیوز دکھانا چاہتا ہوں ۔ تو ہم نے دو ویڈیوز کا انتخاب کیا ۔ پروگرام کا آغاز ہی ’’اذان‘‘ سے ہوا ۔ خوبصورت آواز میں اذان کے دوران پروجیکٹر کے پردہ پر دنیا کے مختلف مقامات کے مساجد کی خوبصورت ترین تصاویر دکھائی گئیں۔ چونکہ عیسائیوں کے پاس موسیقی عبادت ہے ۔ موسیقی کے ذریعہ وہ لوگ ’’زبور‘‘ کی نظمیں پڑھتے ہیں اور ہروقت مجھ سے سوال کرتے ہیں کہ اسلام میں موسیقی جائز ہے یا نہیں؟ کیا مسلمان مساجد میں عبادت کے مراسم کے ساتھ موسیقی کا استعمال کرتے ہیں یا نہیں؟ اس کا جواب دینے کے لئے میں نے انگریزی میں حضور پاک ﷺ کی نعت شریف کا انتخاب کیا تھا جو میری تقریر کے فوری بعد سامعین کو سنائی گئی ۔ راقم نے تمہید میں بتایا کہ دینِ اسلام کی بنیاد قرآن مجید پر ہے ۔ قرآن مجید کلام الٰہی ہے جو ۲۳ سال کے عرصہ میں حضور پاک ﷺ پر نازل ہوا اور وہ ناقابل تنسیخ ، ناقابل تبدیل اور ناقابل تحریف معجزہ ہے ۔ تاحال اس کے ایک حرف میں بھی تبدیلی واقع نہیں ہوئی اور قیامت تک واقع نہیں ہوسکے گی ۔ مزید برآں اُمت اسلامیہ کا اعجاز ہے کہ اس نے حضور پاک ﷺ کے ہزارہا فرمودات کو محفوظ کیا ہے ۔ احادیث شریفہ شریعت کا ایک اہم حصہ ہیں ، باضابطہ مسلمان اس کی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور اس کے احترام کو مقدم رکھتے ہیں اس کے باوصف وہ حضور پاک ﷺ کے ایک ارشاد کو قرآن میں شامل کرنے تیار نہیں ۔ ان کے نزدیک کلام الٰہی ، کلام الٰہی ہے ، کلام رسالت ، کلام رسالت ہے ۔ قرآن ۱۱۴ سورتوں اور ۶۶۶۶ آیات پر مشتمل ہے ۔ اس کو سمجھنے کے لئے ان سب کو پڑھنے کی ضرورت نہیں صرف قرآن مجید کا پہلا سورہ ’’الفاتحہ‘‘ کو پڑھ لیاجائے تو پورے قرآن مجید کا مختصر لب لباب سمجھ میں آجائیگا اور پتہ چل جائیگا کہ یہ سائنس کی کتاب نہیں ہے اگرچہ اس میں محیرالعقول سائنسی انکشافات ہیں ، وہ کوئی تاریخی کتاب نہیں ، اگرچہ مختلف فیہ تاریخی اختلافات کی وہ تصحیح کرتی ہے ۔ اس کتاب کا موضوع درحقیقت ’’ہدایت‘‘ ہے ۔ قرآن اپنی وضاحت کرتے ہوئے ناطق ہے ’’ھدی للناس‘‘ کہ وہ ساری انسانیت کے لئے ہدایت کا سرچشمہ ہے اور سورہ فاتحہ جو درحقیقت دعاء ہے اس میں بندہ مومن خدا ئے ذوالجلال کا حمد و شکر بجالاتے ہوئے اس کے صفات عالیہ کا ذکر کرتا ہے اس کی ربوبیت اور سارے جہانوں کی محکومیت ، اس کی رحمت و رآفت نیز عدل و انصاف ، قوت وملوکیت کی دہائی دیتے ہوئے اپنے عجز و انکسار کا اظہار کرتا ہے ، اسی وحدۂ لاشریک کی عبادت کرنے کا تاحیات اقرار کرتا ہے ، اس کی طرف لوٹنے اور اسی سے مدد طلب کرنے کا عہد و میثاق کرتا ہے ۔ پھر جب اپنے مدعاء پر آتا ہے تو دین و دنیا کی کوئی چیز طلب نہیں کرتا بلکہ صرف ’’اھدنا الصراط المستقیم‘‘ کی صدا بلند کرتا ہے کہ پروردگارا میں تیرا بندہ ہو ، تیری عبادت کرتا ہوں ، تیرا قرب و رضا کا طلبگار ہوں ۔ دنیا میں تجھ تک پہچانے کے ہزارہا دعویدار ہیں ، ہزارہا راستے ہیں ، تو ہی مجھ پر رحم فرما اور تو ہی مجھے تیرا سیدھا راستہ بتا ، میں تجھ سے تجھ تک پہنچنے کے لئے تیری رضا کے حصول کے لئے ہدایت کی بھیک مانگتا ہوں ۔ مجھے ان لوگوں کاراستہ بتا جس پر تونے انعام و اکرام فرمایا ہے، جو تیرے دربار میں محبوب و مراد ہیں ، تجھ سے محبت کے بہت سے دعویدار ہیں ، مجھے ان لوگوں کا راستہ نہ چلا جن پر تیرا غضب نازل ہوا ہے اور ان لوگوں کاراستہ بھی نہ بتا جو تجھ پر ایمان اور تیری محبت کا دم بھرتے ہیں لیکن منزل مقصود کو پہنچنے کیلئے غلط راستے پر چلے گئے اور حیران و پریشان بھٹک رہے ہیں ۔

اﷲ سبحانہ و تعالیٰ حدیث قدسی میں فرماتا ہے ۔ سورۃ فاتحہ میرے اور میرے بندے کے درمیان نصف نصف منقسم ہے ۔ جب بندہ ابتدائی تین آیات پڑھتا ہے تو اﷲ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے نے میری حمد و ثنا کی ، میری بزرگی بیان کی اور میری تقدیس و تمجید کی اور جب وہ سورۂ فاتحہ ختم کرتا ہے تو اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے نے جو دعاء کی اس کو میں نے قبول کیا اور قبولیت کی علامت یہ ہے کہ جب وہ ’’صراط مستقیم‘‘ کی ہدایت کی دعاء کرتا ہے تو اﷲ نے اس کی دعاء کی قبولیت کے طورپر اس کے سامنے سارا قرآن رکھ دیا اور ایک ایک ایک حقیقت کھول کر بیان کردی کہ عقیدۂ توحید کیا ہے؟ اس کے صفات کاملہ اور اختیارات کیا ہیں ؟ یوم جزاء اور آخرت کا عقیدہ کیا ہے؟ صراط مستقیم کیا ہے ؟ انعام یافتہ بندے کون اور کیسے ہیں، ان کے اعمال و صفات کیا ہیں ؟ اﷲ کی بارگاہ میں مبغوض اعمال اور مبغوض بندے کون ہیں ؟ کون سیدھی راہ سے ہٹے ہوئے ہیں اور کون سیدھی راہ کو پانے کے بعد اس کے غضب کے حقدار ہوئے ۔ غرض اﷲ سبحانہ و تعالیٰ نے بندہ کی دعاء قبول کی اور ہدایت و رہنمائی کے لئے واضح بیان و ارشاد نازل فرمایا گویا سارا قرآن ، سورۂ فاتحہ کے اجمال کی تفصیل اور تفسیر ہے ۔

TOPPOPULARRECENT