Sunday , September 23 2018
Home / ہندوستان / سوریہ نمسکار کے مخالفین سمندر میں غرق ہوجائیں یا کوٹھری میں خود کو بند کرلیں

سوریہ نمسکار کے مخالفین سمندر میں غرق ہوجائیں یا کوٹھری میں خود کو بند کرلیں

وارناسی ؍ لکھنو 9 جون (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی کے شعلہ بیان لیڈر یوگی آدتیہ ناتھ نے یہ کہتے ہوئے ایک اور تنازعہ پیدا کردیا ہے کہ جو لوگ سوریہ نمسکار کی مخالفت کررہے ہیں انھیں سمندر میں غرق کردینا چاہئے۔ ان کا یہ ریمارک 21 جون کو بین الاقوامی یوم یوگا کے موقع پر یوگا کی مشق کے خلاف مسلم تنظیموں کے احتجاج پر آیا ہے۔ آر ایس ایس نے بھی یو

وارناسی ؍ لکھنو 9 جون (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی کے شعلہ بیان لیڈر یوگی آدتیہ ناتھ نے یہ کہتے ہوئے ایک اور تنازعہ پیدا کردیا ہے کہ جو لوگ سوریہ نمسکار کی مخالفت کررہے ہیں انھیں سمندر میں غرق کردینا چاہئے۔ ان کا یہ ریمارک 21 جون کو بین الاقوامی یوم یوگا کے موقع پر یوگا کی مشق کے خلاف مسلم تنظیموں کے احتجاج پر آیا ہے۔ آر ایس ایس نے بھی یوگا کے خلاف اعتراض پر تنقیدی بیان دیا ہے۔ گورکھپور کے ایم پی آدتیہ ناتھ نے متنازعہ ریمارک وزیراعظم کے پارلیمانی حلقہ وارناسی میں کیا ہے۔ جس پر اپوزیشن نے الزام عائد کیاکہ وہ فرقہ وارانہ منافرت پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ آر ایس ایس کے نظریہ ساز ایم جی ویدیہ نے کہاکہ جو لوگ یوگا اور سوریہ نمسکار کی مخالفت کررہے ہیں وہ قوم کے نظریہ کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ تاہم مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے یوم یوگا کے تنازعہ کو نظرانداز کرتے ہوئے کہاکہ پروگرام میں شرکت بالکلیہ رضاکارانہ ہے جسے مذہب اور ذات پات سے نہیں جوڑنا چاہئے۔ بعض اقلیتی گروپس کی جانب سے 21 جون کو بین الاقوامی یوم یوگا تقاریب میں سوریہ نمسکار شامل کرنے کے خلاف احتجاج پر آدتیہ ناتھ نے کہاکہ سورج ہمارے جسم کو حرارت اور توانائی فراہم کرنے کا ایک ذریعہ ہے اور کوئی بھی یہ سمجھتا ہے کہ سورج بھی فرقہ پرست ہے۔ ان سے یہ عجز و انکسار کے ساتھ درخواست کرتا ہوں کہ اپنے آپ کو سمندر میں غرق کرلیں یا پھر تاریک کوٹھری میں اپنے آپ کو بند کرلیں۔اُنھوں نے کہاکہ سورج بھگوان، مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر کسی سے امتیاز نہیں کرتے کیونکہ وہ سورج کو فرقہ وارانہ بندھن میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ میں ان کی ذہنیت اور انداز فکر پر شرمندہ ہوں۔ لہذا مخالفین سے یہ میری درخواست ہے کہ وہ سورج کی روشنی اور نہ ہی توانائی حاصل کریں۔ زعفرانی لیڈر کا یہ ریمارک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے بیان کے بعد آیا ہے جس نے سوریہ نمسکار اور اسکولوں میں یوگا کو لازمی قرار دینے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کا اعلان کیا ہے۔

یوگا کو ذات پات، مذہب سے نہ جوڑیں : راجناتھ
لکھنو ، 9 جون (سیاست ڈاٹ کام) یوگا کرنے پر بعض اقلیتی گروپوں کے اعتراضات کے درمیان مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے آج کہا کہ اس ضمن میں ’’کوئی جبر نہیں‘‘ ہے اور یہ کہ یوگا کے عمل کو کسی ذات، نسل یا مذہب سے نہیں جوڑنا چاہئے۔ انھوں نے یہاں میڈیا والوں کو بتایا کہ ’’21 جون کو بین الاقوامی یوم یوگا پر یوگا کرنے کیلئے کوئی زبردستی نہیں ہے۔ جو لوگ چاہیں اسے کرسکتے ہیں اور جو نہیں چاہتے نہ کریں … لیکن ہم اپیل کرتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو یوگا ڈے میں حصہ لینا چاہئے۔ ایک کتابچہ جاری کیا گیا ہے کہ اُس روز کیا کرنا چاہئے‘‘۔ ’سوریہ نمسکار‘ اور یوگا کو اسکولس میں لازمی بنانے کے کسی بھی اقدام کے خلاف آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے مہم چھیڑنے سے متعلق فیصلہ کی بابت پوچھنے پر راجناتھ نے کہا، ’’میں بورڈ کے موقف پر کوئی تبصرہ کرنا نہیں چاہتا … میں بس اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ یوگا کا کسی ذات پات، نسل اور مذہب سے تعلق نہیں پیدا کرنا چاہئے۔ یہ ذہنی اور جسمانی صحت کیلئے اچھی مشق ہے۔‘‘ مسلم پرسنل لا بورڈ نے کل یہاں عزم کیا کہ اسے لازمی قرار دینے کی کوئی بھی کوشش کے خلاف فاضل عدالت سے رجوع ہوں گے۔

TOPPOPULARRECENT