Tuesday , September 25 2018
Home / ہندوستان / سوشیل میڈیا نے اردو زبان کو عوام سے قریب تر کردیا

سوشیل میڈیا نے اردو زبان کو عوام سے قریب تر کردیا

نئی دہلی ۔9 ۔ اپریل (سیاست ڈاٹ کام) آج اردو زبان کے متعدد مشہور و معروف شعراء اور ادباء کا یہ استدلال ہے کہ فیس بک ، ٹوئیٹر اور دیگر سوشیل میڈیا ویب سائٹس کی وجہ سے اردو جیسی شیریں زبان عوام سے قریب تر ہوئی ہے ۔ پاکستان کے شہر کراچی میں رہنے والی ترقی پسند ادیبہ و شاعرہ فہمیدہ ریاض نے کہا کہ سوشیل میڈیا ویب سائٹس کے ذریعہ شاعر کو اپنی ت

نئی دہلی ۔9 ۔ اپریل (سیاست ڈاٹ کام) آج اردو زبان کے متعدد مشہور و معروف شعراء اور ادباء کا یہ استدلال ہے کہ فیس بک ، ٹوئیٹر اور دیگر سوشیل میڈیا ویب سائٹس کی وجہ سے اردو جیسی شیریں زبان عوام سے قریب تر ہوئی ہے ۔ پاکستان کے شہر کراچی میں رہنے والی ترقی پسند ادیبہ و شاعرہ فہمیدہ ریاض نے کہا کہ سوشیل میڈیا ویب سائٹس کے ذریعہ شاعر کو اپنی تخلیقات راست طور پر ایک بڑے اجتماع تک پہنچانے کا موقع ملتا ہے ۔

پاکستانی شاعرہ اردو غزلوں اور نظموں کے ایک سمپوزیم کے16 ویں ایڈیشن میں شرکت کیلئے یہاں آئی تھیں جہاں ہندوستان کے علاوہ پاکستان اور جاپان کے کئی ادباء اور شعراء نے شرکت کی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ سوشیل میڈیا کی وجہ سے اردو زبان کو جو فروغ حاصل ہوا ہے وہ یقیناً ایک خوش آئندہ بات ہے کیونکہ غیر اردو داں حضرات بھی اب اس شیریں زبان کو سیکھنے کے جتن کر رہے ہیں ۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ اردو مبان کا مستقبل انتہائی تابناک ہے اور ا یک وقت ایسا آئے گا کہ لوگ اپنی روز مرہ کی گفتگو میں بھی اردو زبان کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں گے ۔ اس موقع پر دہلی کی مشہور و معروف شخصیت گلزار دہلوی نے بھی فہمیدہ ریاض کے خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ بے شک اردو زبان کا مستقبل بیحد تابناک ہے ۔

انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ اردو زبان میں بھی تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب شعراء طویل غزلیں اور نظمیں کہا کرتے تھے لیکن جدید دور کے شعراء مختصر اور آسان زبان میں غزلیں اور نظمیں کہہ رہے ہیں تاکہ عام آدمی کو بھی اردو زبان پوری طرح سمجھ میں آئے ۔ انہوں نے دیونا گری رسم الخط کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ اس رسم الخط کی وجہ سے بھی عوام کو اردو سمجھنا آسان ہوا۔ قبل ازیں صرف سو یا دو سو افراد میری نظم پڑھتے تھے لیکن آج یہی تعداد لاکھوں میں ہے جس کے لئے سوشیل میڈیا کا جتنا شکر ادا کریں اتنا کم ہے ۔ گلزار دہلوی نے کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں اردو رسم الخط ترک کردیا جائے بلکہ ہمیں اردو رسم الخط کا بھی تحفظ کرنا چاہئے کیونکہ کسی بھی زبان کی جان اس کا رسم الخط ہوتا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ سوشیل میڈیا کی وجہ سے اردو رسم الخط کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ۔انہوں نے کہا کہ آج کی نوجوان نسل کو بھی اردو جلد سے جلد سیکھنی چاہئے کیونکہ مستقبل اردو کا ہے اور کہیں ایسا نہ ہو کہ آگے چل کر اردو نہ سیکھنے پر پچھتانا پڑے۔

ہائیکورٹ سنجے دت کے فلیٹ کی قرقی کے فیصلہ سے دستبردار
ممبئی ۔ 9 ۔ اپریل (سیاست ڈاٹ کام) اداکار سنجے دت کو بہت بڑی راحت پہنچاتے ہوئے بمبئی ہائی کورٹ نے مضافاتی علاقہ باندرہ میں ان کے فلیٹ کو قرق کرنے کے فیصلہ کو واپس لے لیا ہے۔ انڈین موشن پکچرس پروڈیوسرس اسوسی ایشن کے فیصلہ کے باعث فلیٹ کو قرق کیا گیا تھا۔ فلمساز شکیل نورانی کے ساتھ فلم اداکار کا تنازعہ چل رہا تھا۔

TOPPOPULARRECENT