Monday , December 18 2017
Home / مضامین / سوشیل میڈیا پر افواہیں

سوشیل میڈیا پر افواہیں

کے این واصف
مملکت سعودی عرب کے سالانہ بجٹ کی پیش کش کے بعد سے مملکت میں سوشیل  میڈیا پر طرح طرح کی افواہیں گشت کر رہی ہیں۔ تین ہفتے قبل بجٹ کا اعلان ہوا تھا جس میں مملکت میں برسرکار خارجی باشندوں پر فیملی ٹیکس عائد کرنے ، پٹرول ، بجلی اور پانی وغیرہ کی نرخوں میں اضافہ کئے جانے وغیرہ جیسی کئی اعلانات شامل تھے ۔ اس وقت سے سوشیل میڈیا پر حکومتی اداروں کے حوالے سے مختلف قسم کی افواہیں پھیلائی جارہی ہیں۔ ان افواہوں میں سب سے زیادہ فیملی ٹیکس بیوی اور 18 سال سے کم عمر کے بچوں سے نہیں لیا جائے گا ، عمرہ ویزا فیس ختم کردی گئی ، کفالہ نظام منسوخ کردیا گیا ، 40 برس سے زیادہ عمر کے تارکین کو مملکت سے بے دخل کیا جائے گا ۔ غیر قانونی تارکین وطن کو مملکت چھوڑنے میں مہلت دی گئی جیسی خبریں شامل ہیں۔
اصل میں آج کل لوگوں کو افواہیں پھیلانے کا ایک آسان ذریعہ ہاتھ لگ گیا ہے ، وہ ہے سوشیل میڈیا ۔ کوئی شخص اپنی نادانی ، کم علمی یا شرپسندی کی نیت سے کوئی غیر مصدقہ یا بے بنیاد خبر سوشیل میڈیا پر پوسٹ کردیتا ہے اور پھر دیگر لوگ بغیر اس کی حقیقت جانے ، اس سے متعلق کوئی تصدیق حاصل کئے بغیر اس اطلاع کو آگے فارورڈ کردیتے ہیں اور پھر یہ سلسلہ چل پڑتا ہے ۔ جب کبھی کوئی افواہ سوشیل میڈیا پر جاری ہورہی ہے تب خود حکومتی ادارے یا مقامی اخبارات اس کی تردید کر کے حقیقت عوام تک پہنچاتے ہیں ۔ ہم یہاں چند افواہوں کی مقامی اخبارات میں شائع شدہ تردید پیش کریں گے تاکہ عوام کو حقیقت حال سے وقفیت حاصل ہو۔ فیملی ٹیکس سے متعلق جو بیان مقامی اخبار میں شائع ہوا اس کے مطابق سعودی عرب نے مملکت میں مقیم تارکین وطن پرنئے بجٹ میں ٹیکس مقرر کیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق 2017 ء کے دوران ہر مقیم غیر ملکی کو اپنی زیر کفالت ہر فرد پر ماہانہ 100 ریال ٹیکس ادا کرنا ہوگا ۔ اس کا عمل درآمد جولائی 2017 ء سے ہوگا ۔ سالانہ اضافہ 100 ریال مقرر کیا گیا ہے ۔ یعنی یہی ٹیکس 2018 ء کے دوران 100 ریال کے بجائے 200 ریال لیا جائے گا ۔ اس طرح اس میں ہر سال 100 ریال کا اضافہ ہوتا رہے گا ۔ دریں اثناء پٹرول ، بجلی اور پانی کے نئے نرخ جولائی ہی سے نافذ ہوں گے ۔ سبسیڈی جزوی طور پر ختم ہوجائے گی ۔ سبسیڈی میں کمی رفتہ رفتہ کی جائے گی جبکہ سعودیوں کو زر تلافی نقدی کی صورت میں بینکوں کے ذریعہ ملے گا ۔ پٹرول ، پانی ، بجلی کے نئے نرخ بھی جولائی 2017 ء ہی سے نافذ ہوں گے ۔ دریں اثناء سعودی وزیر پٹرولیم خالد الفالح نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب میں توانائی کے نرخوں میں اصلاحات کا دوسرا مرحلہ جلد شروع کیا جائے گا ۔ اصلاحات آہستہ آہستہ کی جائیں گی ۔ سعودی شہریوں ، مقیم غیر ملکیوں اور نجی اداروں کے مفادات کو مد نظر رکھا جائے گا ۔ آئندہ 4 برسوں کے دوران اندرون ملک فروخت کئے جانے والے پٹرول ، ڈیزل کے نرخ عالمی منڈی کے نرخوں کے مساوی کردیئے جائیں گے ۔ الفالح نے بتایا کہ سعودی عرب میں تیل کے نرخ دنیا بھر کے ملکوں کے مقابلے میں 85 فیصد کم ہیں جبکہ سعودی عرب میں پٹرول کا فی کس خرچ عالمی تناسب کے حوالے سے بہت زیادہ ہے ۔ سعودی عرب میں 2015 ء کے دوران پٹرول پر  270 ارب ریال سبسیڈی کے طور پر خرچ ہوئے ۔ یہ اتنی بڑی رقم ہے جس سے عالمی معیار کا ایک بڑا اسپتال یا کئی ہزار اسکولس قائم کئے جاسکتے ہیں۔ ا یک اور بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب میں مقیم تارکین وطن سے ’’مرافقین‘‘ کی فیس اقامہ بنواتے یا تجدید کے وقت وصول کی جائے گی ۔ حکومت کا ادعاء ہے کہ نجی اداروں کے تارکین پرنئی فیس زیادہ سے زیادہ سعودی شہریوں کو روزگار دلانے کا محرک بنے گی ۔ نیز سعودی کارکنان سے فاضل تعداد میں غیر ملکی کارکنان پر ماہانہ 400 ریال وصول کئے جائیں گے جبکہ مساوی تعداد والے کارکنان سے ماہانہ 300 ریال لئے جائیں گے۔

عمرہ ویزا فیس سے متعلق سب سے زیادہ افواہیں پھیلیں اور حکومت نے اس پر بار بار تردید بھی جاری کی ۔ ابتداء ہی میں حکومتِ سعودی عرب نے اس سلسلے میں ایک واضح اعلان جاری کر کے اس معاملے کو پوری طرح واضح کردیا تھا ۔ حکومت کے اعلان کے مطابق ارض مقدس آنے والے کسی بھی معتمر سے عمرہ فیس نہیں لی جائے گی ، اگر وہ پہلی مرتبہ عمرہ پر آیا ہو ۔ البتہ سال رواں کے دوران یا آئندہ برسوں میں دوسری مرتبہ آنے پر معتمر کو 2000 ریال فیس ادا کرنی ہوگی ۔ عمرہ کمپنیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران عمرہ ویزے پرآنے والا معتمر اگر سال رواں (یعنی نئے اعلان کے بعد) میں بھی ارض مقدس آنا چاہے تو اس سے عمرہ فیس نہیں لی جائے گی ۔
کفالہ نظام کی منسوخی سے متعلق افواہ کے بعد وزارت محنت و سماجی فروغ نے یقین دلایا ہے کہ ابھی تک سعودی عرب میں کفالہ نظام منسوخ نہیں کیا گیا ۔ اس حوالے سے اس کے برخلاف گردش کرنے والی خبریں سراسر غلط اور بے بنیاد ہیں۔ وزارت محنت نے ایک شہری کی جانب سے سوال کے جواب میں ٹوئیٹر کے اپنے اکاؤنٹ پر واضح کیا کہ جو لوگ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ کفالہ کا نظام منسوخ کردیا گیا ہے ، وہ غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں ۔ دراصل کچھ عرصہ قبل قطر میں کفالہ نظام ختم کیا گیا ۔ شاید اس خبر کو پڑھ کر لوگوں نے سعودی عرب میں کفالہ نظام کے ختم کئے جانے کی افواہ اڑا دی۔
40 برس کی عمر سے تجاوز کرنے والے تارکین وطن کو مملکت سے بے دخل کئے جانے سے متعلق افواہ پر وزارت محنت و سماجی فروغ نے واضح کیا ہے کہ 40 برس سے زیادہ عمر کے تارکین وطن کو سعودی عرب سے نکالنے کے دعوے خود تارکین کو نقصان پہنچائیں گے ۔ اس قسم کی افواہیں پھیلانے سے گریز کیا جائے ۔ وزارت محنت نے یہ وضاحتی انتباہ ’’ٹائمز آف انڈیا‘‘ کی ویب سائیٹ پر جاری اس دعوے کی تردید میں دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ سعودی عرب میں 60 برس سے زیادہ عمر کے ہندوستانی تارکین کو مملکت سے بے دخلی اور وطن واپسی کے خطرات لاحق ہوگئے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ سعودی عرب نجی اداروں میں کام کرنے والے تارکین کی انتہائی عمر حد کم کرنے والی ہے ۔ اس کے ساتھ سوشیل میڈیا پر یہ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ سعودی عرب نے نجی اداروں میں کام کرنے والے غیر ملکیوں کی انتہائی عمر 40 سال مقرر کردی ہے ۔ وزارت محنت نے تاکید کی کہ مملکت میں 40 سال سے تجاوز کرنے والے تارکین کی بے دخلی کے دعوے بالکل غلط ہیں۔ یاد رہے کہ سعودی عرب کی دو تہائی آبادی سعودیوں پر مشتمل ہے ۔ ان کی تعداد 21.1 ملین نفوس پر مشتمل ہے جبکہ تارکین وطن مملکت کی کل آبادی کا 33 فیصد ہیں۔ ان کی مجموعی تعداد 10.4 ملین ہے ۔اس طرح مملکت کی مجموعی آبادی 31.52 ملین نفوس مشتمل ہے ۔ وزارت محنت کا کہنا ہے کہ حقائق سے آگاہی کیلئے وزارت محنت و سماجی فروغ کی ویب سائیٹ سے رجوع کیا جائے۔

غیر قانونی طور پر مقیم تارکین وطن کو مملکت چھوڑنے کیلئے مہلت دیئے جانے سے متعلق محکمہ پاسپورٹ (جوازات) کے ترجمان نے کہا ہے کہ سوشیل میڈیا اور بعض اخبارات میں پھیلائی جانے والی ان خبروںکی کوئی حقیقت نہیں جن میں کہا جارہا ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن کو ملک سے بیدخلی کیلئے پھر سے تین ماہ کی مہلت دی گئی ہے۔ محکمہ پاسپورٹ کے ترجمان نے صحافیوں کے  استفسار پر کہا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے اس قسم کے کوئی احکامات جاری نہیں کئے گئے جن میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب میں مقیم غیر قانونی تارکین کیلئے خصوصی مہلت دی گئی ہے جس میں وہ بغیر کسی جرمانے کے اپنے فنگر پرنٹس دے کر اپنے وطن واپس جاسکتے ہیں۔ غیر مصدقہ خبروں میں مزید کہا گیا تھا کہ مہلت کا اعلان مرحلہ وار کیا جائے گا جس کے دوسرے مرحلہ کا آغاز 15  جنوری سے ہوگا جو 90 دن تک جاری رہے گا جبکہ تیسرے مرحلہ کے حوالے سے 14 اپریل کی تاریخ دی گئی تھی ۔ غیر مصدقہ خبر میں مزید کہا گیا تھا کہ دوسرے مرحلہ کے تحت غیر قانونی تارکین کو موقع دیا جائے گا کہ وہ پہلے مکتب العمل (لیبر آفس) اور پھر جوازات (پاسپورٹ آفس) سے رجوع کر کے فائنل ایگزٹ حاصل کریں۔ فائنل ایگزٹ حاصل کرنے کے بعد ایسے تارکین جو  غیر قانونی طور پر مملکت میں مقیم ہوں گے ان پر یہ عائد پابندی ختم ہوجائے گی ۔ واضح رہے کہ محکمہ پاسپورٹ کے ترجمان نے اس قسم کی تمام باتوں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان افواہوں پر توجہ نہ دی جائے ۔ وزارت داخلہ کے قانون کے مطابق مملکت میں غیر قانونی تارکین کیلئے گزشتہ برسوں میں مہلت دی گئی تھی جس میں دو مرتبہ اضافہ بھی کیا گیا تھا ۔ اس مہلت سے فائدہ اٹھاکر بیشتر تارکین وطن مملکت سے چلے گئے تھے ۔ قانون کے مطابق بیدخل کئے جانے والے افراد 3 برس تک کسی بھی ویزے پر مملکت نہیں آسکتے جس کیلئے ان کے فنگر پرنٹ محکمہ پاسپورٹ (جوازات) میں محفوظ کردیئے جاتے ہیں۔
بہرحال افواہیں پھیلانا ایک مجرمانہ حرکت ہے جس سے ہر شخص کو پرہیز کرنا چاہئے۔ جہاں تک گلف یا سعودی عرب کا تعلق ہے ہم یہاں کے نئے قوانین ، سرکاری احکامات ، یہاں کے عام حالات وغیرہ کے بارے میں ہمیشہ عوام کو آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ روزنامہ سیاست شاید ایک واحد اخبار ہے جو گلف این آر آیز کی آگہی ، ان کے مسائل کو اجاگر کرنے کے سلسلے میں پچھلے دو دہائیوں سے زائد عرصہ سے مسلسل یہ کالم شائع کر رہا ہے اور اپنے قارئین کو ہمیشہ update رکھتا ہے ۔ قارئین کرام تازہ ترین معلومات کیلئے ہمیشہ روزنامہ سیاست پر نظر رکھیں جس کا e-paper بھی نٹ پر دستیاب ہے تو آپ افواہوں سے پھیلی الجھن سے محفوز رہیںگے۔

TOPPOPULARRECENT