Sunday , October 21 2018
Home / مضامین / سوشیل میڈیا پر محتاط رہیں

سوشیل میڈیا پر محتاط رہیں

 

کے این واصف
این آر آئیز کے متعلقین ان دنوں وطن میں بڑے فکر مند ہیں۔ گھر سے دور رہنے والوں کیلئے متعلقین کو فکر لگی ہی رہتی ہے لیکن پریشانی الگ نوعیت کی ہے۔ پہلے سعودی عرب میں رہنے والے خارجی باشندوں کے لواحقین کی جو فکر تھی وہ تیل کی قیمتوں میں کمی سے یہاں کے اقتصادی ڈھانچے پر جو اثر ہوا اور اس کے ذیلی اثرات نے ساری مارکٹ کو اپنے لپیٹے میں لے لیا ۔ اس کے ساتھ ہی بہت سارے خارجی باشندوں کی ملازمتوں پر بن آئی تھی ۔ جس نے یہاں برسرکار خارجی باشندوں اور وطن میں ان کے لواحقین کے ہوش اُڑا دیئے تھے لیکن آج کی نئی پر یشانیاں کچھ الگ نوعیت کی ہیں ، جن کا تعلق یہاں چند روز قبل وقوع پذیر واقعات سے ہے جس کی خبریں یہاں کے مقامی اخبارات میں بھی شائع ہوئیں کہ نظم و ضبط کے قیام اور مملکت کے عام مفاد میں لئے گئے۔ ان فیصلوں کو لیکر دیگر دنیا کے اخبارات اور ٹی وی چیانلس نے جو قیاس آرائیوں پرمبنی اسٹوریاں پیش کرنی شروع کیں جس نے غیر ملکی باشندوں کے متعلقین میں بے چینی پیدا کی ۔ دنیا کی کوئی حکومت کیوں نہ ہو وہ بدعنوانیوں پر قدغن لگانے یا ملکی نظم و نسق سے کھلواڑ کرنے والوں کے خلاف کوئی سخت قدم ا ٹھاتی ہے تو یہ اس کا داخلی معاملہ ہے ۔ اس میں دخل اندازی مداخلت بے جا کہلائے گئے لیکن آج کل ایسا لگتا ہے کہ میڈیا بات کا بتنگڑ بانے یا چنگاری کو شعلہ بناکر پیش کرنے کو اپنا وطیرہ بنالیا ہے ۔ یہ فقط TRP میں اضافے کی دوڑ ہے۔ میڈیا کا کام کبھی قارئین یا سامعین کی ذہن سازی تھا لیکن آج میڈیا خصوصاً الیکٹرانک میڈیا ذہن بگاڑے اور تفرقہ پھیلانے کا کام کر رہا ہے ۔ ہر ٹی وی چیانل اپنی اسٹوری کو مقبول بنانے کی خاطر مبالغے کی کسی بھی حد کو چھونے تیار ہے۔ نتیجتاً زرد صحافت اپنے پر پھیلا رہی ہے ۔ یہی نہیں بلکہ ان مبالغہ آمیز خبروں کو لوگ سوشیل میڈیا پر پھیلاکر اس زرد صحافت کی مزید حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ بہرحال ہم اپنے ہم وطنوں تک یہ پیام پہنچانا چاہتے ہیں کہ سعودی عرب میں کوئی تشویش یا بے چینی جیسی کوئی کیفیت نہیں پائی جاتی ۔ جیسا کہ ٹی وی چیانلس پیش کر رہے ہیں اور ہم سب ٹھیک ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم اپنے عزیز و اقارب اور احباب سے ایک گزارش کرنا چاہیں گے کہ سوشیل میڈیا پر اول تو بے کار اور بے بنیاد قسم کی خبریں نہ پھیلائیں۔ خصوصاً سعودی عرب سے متعلق ، یہ خبریں ہو یا کارٹونز ، طنزیہ ویڈیوز ، جملے ، سربراہان اورحکومت کے ذمہ داران سے متعلق طنزیہ و مزاحیہ شاعری ، گیت وغیرہ سوشیل میڈیا پر اگر کہیں سے آپ تک آتے بھی ہیں تو انہیں آپ وہیں کا وہیں Delete کردیں اور خصوصاً یہاں سعودی عرب میں رہنے والوں کو نہ بھیجیں کیونکہ یہاں حکومت نے ان چیزوں پرسخت تنبیہہ جاری کی ہے اور اس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث افراد کیلئے سخت سزاوں کا اعلان کیا ہے ۔ آپ جانتے ہیں کہ خود ہندوستان میں اس قسم کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی ہوئی ہے اور ایسے افراد پر جو اس طرح کی سرگرمیوں میں شامل ہوں ان پر سخت نظر بھی رکھتی ہے ۔ دوسرے یہ کہ ہم ایک غیر ملک میں رہتے ہیں اور ہمارے یہاں رہنے کا مقصد کام کرنا اور کمانا ہے ۔ ہم یہاں کے سیاسی یا حکومت کے تنظیمی معاملات میں دخل اندازی کر کے اپنے آپ کو مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتے اور آپ لوگ بھی ایسی سرگرمیوں سے دور رہنے کی کوشش کریں، جن پر حکومت نے پابندی عائد کی ہوئی ہے ۔ یہ بات ہمیں سمجھ میں نہیں آتی کہ لوگوں کے پاس اتنا فالتو وقت کہاں سے آتا ہے کہ وہ بے بنیاد خبریں تیار کر کے سوشیل میڈیا پر جاری کرتے رہیں اور ان کے حاصل کرنے والے بھی بغیر سوچے سمجھے اسے آگے بڑھا دیتے ہیں ۔ لوگ ان جھوٹی خبروں کو سچ باور کرانے کیلئے حکومت کا سرکاری لوگو (Logo) ، سربراہ مملکت کی تصویریں وغیرہ تک استعمال کرنے سے نہیں جھجھکتے۔

این آر آئیز یا یہاں آباد غیر ملکیوں سے متعلق اس ہفتہ کی دیگر خبروں میں ایک خبر یہ بھی ہے کہ سعودی عرب میں غیر ملکیوں میں بیروزگاری میں اضافہ ہوا ہے ۔ بتایا گیا کہ 2017 ء کی دوسری سہ ماہی کے اختتام پر سعودی عرب میں بیروزگار غیر ملکیوں کی تعداد میں 66.3 ہزار تک پہنچ گئی ہے ۔ 3 ماہ میں 13.2 کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ مملکت میں کل بیروزگاروں کا 8.3 فیصد ہیں۔ محکمہ شماریات سے ملنے والے اعداد و شمار کے بموجب ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ مملکت میں مجموعی طور پر 802 ہزار بیروزگار ہیں۔ ان میں 736.3 ہزار سعودی ہیں۔ ان کا تناسب 91.7 فیصد ہے۔ یہ اعداد و شمار ایسے وقت سامنے آئے ہیں جبکہ سعودی عرب مختلف شعبوں میں متعدد ملازمتوں کی سعودائزیشن کی نئی اسکیمیں پیش کر رہا ہے۔ غیر ملکی کارکنان میں بیروزگاری کی وجہ یہ ہے کہ 2017 ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران 61.5 ہزار غیر ملکی ملازمتوں سے یکایک محروم کردیئے گئے کیونکہ ہر کمپنی اپنے ملازمین کی تعداد میں کمی کر رہی ہے تاکہ کاروبار کے مسلسل گرتے ہوئے گراف کو توازن میں رکھا جاسکے ۔ ملازمت سے فارغ کئے جانے والے ملازمین اپنے کفیل سے نقل کفالہ حاصل کر کے دیگر ملازمت کی تلاش میں سرگرداں ہیں اور بہت سارے ایسے بیروزگار ہیں جن کی کمپنیوں نے انہیں ملازمت سے فارغ تو کردیا مگر ان کے حقوق کی ادائیگی نہیں کی اور ایسی کئی مثالیں بے شمار ہیں۔ اس تعلق سے وزارت محنت ان خارجی باشندوں کی مدد کرنی چاہئے تاکہ یہ لوگ اپنے حقوق حاصل کر کے اپنے وطن لوٹ سکیں یا دوسری ملازمت ڈھونڈ سکیں۔ ان دنوں سوشیل میڈیا پر ’’بیروزگاری کا حل تجویز کرو‘‘ کے نام سے ایک سلسلہ شروع ہوا ہے ۔ اس پر سعودی نوجوان لیبر مارکٹ کا معیار بہتر بنانے اور بیروزگاری کی شرح کم کرنے کیلئے حل پیش کر رہے ہیں۔ اس سائیٹ پر ان کا کہنا ہے کہ تمام غیر ملکیوں کے ملازمت کے معاہدے فوری ختم کردیئے جائیں جس سے سعودیوں میں بیروزگاری خود بخود ختم ہوجائے گی ۔ اس سائیٹ پر مختلف نوجوان اپنی اپنی سوچ کے مطابق اظہار خیال کر رہے ہیں اور ان کی اکثریت اس بات سے متفق ہے کہ مملکت سے خارجی باشندوں کا نکالا جانا ہی ان کی بیروزگاری کا واحد حل ہے ۔ خیر یہ تو سعودی نوجوانوں کی سوچ ہے مگر عملی طور پر ایسا ہونا کہ یکلخت غیر ملکیوں کو نکال دیاجانا ممکن نہیں۔ غیر ملکیوں کا یہاں رہنا ان کی مرضی اور منشاء سے نہیں ہے بلکہ آجروں کی صنعتکاروں کی اپنی پالیسی کی وجہ سے ہے اور خارجی یہاں سے اسی وقت جائیں گے جس دن مقامی لوگ میدان عمل میں مسابقت کیلئے ڈٹ جائیں گے۔

حالیہ عرصہ میں حکومت سعودی عرب کی جانب سے غیر قانونی تارکین کو بغیر سزا اور جرمانوں کی ادائیگی کے مملکت چھوڑنے کی جو مہلت دی گئی تھی اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لاکھوں کی تعداد میں غیر ملکلیوں نے مملکت کو خیرباد کہہ دیا ۔ ان میں ہندوستانی باشندوں کی بھی ایک بڑی تعداد شامل تھی لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ہندوستانیوں کی جملہ تعداد میں کوئی کمی واقع ہیں ہوئی ۔ پچھلے ہفتہ عثمانیہ یونیورسٹی المنائی اسوسی ایشن ریاض کی ایک تقریب میں نائب سفیر ہند ڈاکٹر سہیل اعجاز خاں نے بتایا کہ ہندوستانیوں کی تعداد پہلے سے کسی قدر اور بڑھ گئی ہے ۔ اس تقریب میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ سفارت خانہ ہند اب ہندوستانی تارکین وطن کیلئے رکھی ۔ 24X7 ٹیلی فون ہیلپ لائین کو موبائیل سرویس میں بدل دیا ہے جس سے اب ہندوستانی تارکین وطن اپنے مسائل کو SMS وغیرہ سے بھی بھیج سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کے غیر ملکیوں میں سب سے بڑی تعداد ہندوستانیوں کی ہے ۔ ڈاکٹر سہیل نے چند ہفتے قبل سفارت خانہ ہند ریاض میں نائب سفیر کے عہدے کا جائزہ حاصل کیا اور عثمانیہ یونورسٹی المنائی اسوسی ایشن ریاض نے ان کے اعزاز میں ایک خیرمقدمی تقریب کا اہتمام کیا تھا ۔ یہ تقریب عثمانیہ یونیورسٹی صد سالہ تقاریب کا حصہ تھی ۔ اسی طرح ایک دیگر ت قریب میں سعودی عرب میں متعین ہندوستانی سفیر احمد جاوید نے واضح کیا ہے کہ مملکت میں مقیم غیر ملکیوں کے اہل خانہ پر عائد کی جانے والی فیملی فیس سے ہندوستانی عملہ بہت زیادہ متاثر نہیں ہوگا کیونکہ ہندوستانی تارکین وطن کی ا کثریت یہاں اہل و عیال کے بغیر اقامت پذیر ہے ۔ انہوں نے ریاض کے ایک ویب سائیٹ سے گفتگو میں توجہ دلائی کہ بیشتر ہندوستانی مملکت میں اہل و عیال کے بغیر رہ رہے ہیں۔ جبیل اور جدہ میں ہندوستانی بہت زیادہ ہیں۔ فی الحال 32 لاکھ کے قریب ہندوستانی مملکت میں کام کر رہے ہیں۔ ان میں سے 70 فیصد ہنرمند ہیں۔ وہ آئی سی جی ایس (ICGS) سمارتھ جہاز کے دمام بندرگاہ پہنچنے پر اس ویب سائیٹ سے گفتگو کر رہے تھے۔

TOPPOPULARRECENT