Wednesday , December 19 2018

سوشیل میڈیا پر چیف منسٹر کے خلاف نازیبا ریمارک

آئی پی ایڈریس دینے سے فیس بُک کے اِنکار پر سی آئی ڈی مرکز سے رجوع
حیدرآباد۔11جنوری (سیاست نیوز) فیس بُک کی جانب سے چیف منسٹر کے سی آر کے خلاف غیرپارلیمانی الفاظ کا استعمال کرنے والے شخص کا آئی پی ایڈریس دینے سے انکار کرنے کے بعد سی آئی ڈی عہدیداروں نے مرکزی محکمہ داخلہ کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے اس معاملے میں مدد کرنے کی خواہش کی۔ سوشیل میڈیا بالخصوص فیس بک پر ہر کوئی بلاسوچے سمجھے کچھ بھی کہہ رہا ہے، کسی کا بھی مذاق اڑایا جارہا ہے تو کسی کی بھی توہین کی جارہی ہے۔ کسی کے جذبات سے کھلواڑ کیا جارہا ہے۔ تنقید اور جوابی تنقید نچلے درج تک پہونچ چکی ہے۔ جانے انجانے میں کی جانے والی یہ کارروائی مستقبل میں جی کا جنجال بن سکتی ہے۔ اس طرح چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کے خلاف غیرپارلیمانی الفاظ کا استعمال کرنے والے دو ایمپلائیز کے خلاف جہاں حکومت نے محکمہ جاتی کارروائی کی ہے، وہیں کسی نے چیف منسٹر کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال کیا ہے جس پر اعظم پورہ کے ایک ٹی آر ایس کارکن وسیم علی نے اس پوسٹ کے خلاف چادر گھاٹ پولیس اسٹیشن میں گزشتہ سال 13 نومبر کو ایک شکایت درج کرائی تھی۔ مقامی پولیس نے اس کیس کی ابتدائی تحقیقات کرنے کے بعد اس کو سی سی ایس (سنٹرل کرائم اسٹیشن) کو منتقل کردیا۔ سی سی ایس نے وہ ریمارکس کس آئی پی ایڈریس سے فیس بک پر پوسٹ کیا گیا، اس کی تفصیلات پیش کرنے کی گزشتہ ماہ فیس بک سے مکتوب روانہ کرتے ہوئے تفصیلات طلب کی تھی۔ فیس بک نے آئی پی ایڈریس دینے سے انکار کردیا۔ چیف منسٹر کے خلاف ریمارکس کرنے والے شخص کا پتہ چلانے کیلئے محکمہ پولیس نے اس کیس پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ نوڈل ایجنسی کی طرح خدمات انجام دینے والی سی آئی ڈی کے ذریعہ مرکزی محکمہ داخلہ کو مکتوب روانہ کیا۔ اس مسئلہ پر فیس بک سے رابطہ پیدا کرتے ہوئے اس کیس کی تحقیقات کیلئے ضرورت کے مطابق معلومات فراہم کرنے کی مکتوب کے ذریعہ خواہش کی گئی ہے۔ میچول لیگل اسسٹنٹس ٹریٹی کے تحت مرکزی محکمہ داخلہ فیس بک پر دباؤ ڈالتے ہوئے تحقیقات کیلئے درکار تفصیلات حاصل کرنے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے۔ باوثوق ذرائع کے بموجب آئندہ ہفتہ 10 دن میں آئی پی ایڈریس کا پتہ چل جانے کا امکان ہے جس کے بعد کیس میں مزید پیشرفت ہوسکتی ہے۔ چیف منسٹر، وزیراعظم کے علاوہ ذمہ دار شخصیتوں کے خلاف بغیر کسی ثبوت یا وجوہات کے ریمارکس کرنا غیرپارلیمانی الفاظ کا استعمال کرنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT