Saturday , April 21 2018
Home / شہر کی خبریں / سوشیل میڈیا پر کردارکشی، غلط اطلاعات کیخلاف کارروائی کیلئے نئی قانون سازی کی تجویز

سوشیل میڈیا پر کردارکشی، غلط اطلاعات کیخلاف کارروائی کیلئے نئی قانون سازی کی تجویز

ملک میں کوئی قانون نہ رہنے کا اعتراف، وزیر عمارات و شوارع ٹی ناگیشور راؤ کا کونسل میں جواب
حیدرآباد ۔ 16 ۔ نومبر (سیاست نیوز) وزیر عمارات و شوارع ٹی ناگیشور راؤ نے کہا کہ ملک میں سوشیل میڈیا کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے کوئی قانون نہیں ہے۔ کونسل میں وقفہ سوالات کے دوران ناگیشور راؤ نے کہا کہ سوشیل میڈیا کے خلاف صرف فوجداری مقدمہ درج کیا جاسکتا ہے اور اس کے علاوہ کوئی اور کارروائی کی گنجائش نہیں۔ انہوں نے سوشیل میڈیا کے غلط استعمال کے ذریعہ اہم شخصیتوں کی کردار کشی ، غلط اور بے بنیاد خبروں کو پھیلانے کے علاوہ بلیک میلنگ کے واقعات کو روکنے کیلئے نئی قانون سازی پر حکومت غور کرے گی۔ ٹی آر ایس ارکان فاروق حسین اور ایم ایس پربھاکر راؤ کے سوال پر ناگیشور راؤ نے کہا کہ سوشیل میڈیا پر کنٹرول کیلئے آئی ٹی ایکٹ موجود تھا لیکن سپریم کورٹ نے اسے کالعدم کردیا ہے۔ اس طرح سوشیل میڈیا پر روک لگانے کیلئے فی الوقت کوئی قانون نہیں ہے ۔ سوال کے تحریری جواب میں ریاستی وزیر نے کہا کہ ریاست میں کئی آن لائین ویب چیانل اور ویب نیوز پورٹلس کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آن لائین ویب چیانلس اور نیوز پورٹلس چلانے کیلئے کسی قسم کا رجسٹریشن لازمی نہیں ہے ۔ لہذا حکومت کے پاس ایسے اداروں کی تفصیلات دستیاب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو وقفہ وقفہ سے سوشیل میڈیا کے غلط استعمال کے بارے میں عوام سے شکایات موصول ہوتی ہیں اور یہ شکایات زیادہ تر سائبر کرائم، آن لائین دھوکہ دہی ، وائیٹ کالر جرائم ، کردار کشی اور نفرت پر مبنی مواد پیش کرنے سے متعلق ہوتی ہیں۔ شکایت کی نوعیت کے لحاظ سے جانچ کی جاتی ہے اور جہاں ضرورت ہو آئی ٹی ایکٹ 2000 اور آئی پی سی کی دفعات کے تحت کارروائی کی جاتی ہے ۔ فاروق حسین نے شکایت کی کہ حیدرآباد میں سوشیل میڈیا کے متعدد ادارے کام کر رہے ہیں، ان کے رجسٹریشن اور ان کیلئے قواعد و ضوابط طئے کرنے کیلئے مجاز کون ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصہ میں حیدرآباد میں سوشیل میڈیا کے نام پر بے بنیاد خبروں کو پھیلایا جارہا ہے۔ کسی بھی خبر کو مرضی مطابق پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ انہوں نے شکایت کی کہ ایک ہی معاملہ کو بار بار دہرایا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سوشیل میڈیا میں اہم شخصیتوں کی توہین کی جارہی ہے ۔ حال ہی میں وزیراعظم نریندر مودی کو ڈرم بجاتے ہوئے پیش کیا گیا جس پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ رقص کرتے ہوئے دکھائے گئے۔ نظام حیدرآباد کی تعریف میں چیف منسٹر کی تقریر کے بعد سوشیل میڈیا میں چیف منسٹر کے خلاف قابل اعتراض ریمارکس کئے گئے ہیں۔ فاروق حسین نے کہا کہ حال ہی میں چارمینار پولیس نے سونے کے تاجر کو بلیک میل کرنے پر دو رپورٹرس کو گرفتار کیا اور لنگر حوض پولیس میں بھی اس طرح کی شکایت درج کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ارکان اسمبلی و کونسل اور آئی اے ایس اور آئی پی ایس عہدیداروں کے امیج کو متاثر کرنے کی ان کوششوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ایم ایس پربھاکر نے کہا کہ سوشیل میڈیا کے نقصانات کے ساتھ فوائد بھی ہے۔ انہوں نے مثال پیش کی کہ حال ہی میں دلسکھ نگر کے ساکن طالب علم نورالدین نے ایک ضعیف خاتون ستیماں کی سڑک پر کسمپرسی کی حالت کی تصویر کے ساتھ کے ٹی آر کو ٹوئیٹ کیا تھا ۔ کے ٹی آر نے فوری کارروائی کرتے ہوئے نصف گھنٹہ میں اس خاتون کو عثمانیہ ہاسپٹل منتقلی کا انتظام کیا جہاں ان کا علاج شروع کیا گیا ہے ۔ پربھاکر نے کہا کہ فیس بک کے ذریعہ جرائم میں اضافہ ہوا ہے۔ دھوکہ دہی کے واقعات کے علاوہ حال ہی میں بلیو وہیل گیم سے نئی نسل متاثر ہورہی ہے۔ اس گیم نے ملک میں ابھی تک 10 تا 20 نوجوانوں کی جان لے لی ۔ انہوں نے جاننا چاہا کہ آیا سوشیل میڈیا پر کنٹرول کیلئے قانون سازی کا حکومت کو کس حد تک اختیار حاصل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کئی لڑکے فیس بک پر لڑکیوں کے نام سے اکاؤنٹ کھول کر دھوکہ دے رہے ہیں۔ ٹی آر ایس کے رکن این لکشمن داس نے شکایت کی کہ سوشیل میڈیا کی من مانی میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں چیف منسٹر کی جانب سے اسمبلی میں سیندھی کے کاروبار پر دیئے گئے بیان کو اس انداز میں پیش کیا گیا جیسے چیف منسٹر مہ نوشی کے بعد تقریر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزراء ، چیف منسٹر اور اہم شخصیتوں کے خلاف من مانی ریمارکس کئے جارہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT