Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / سولار اسکام پر کیرالا اسمبلی میں اپوزیشن کا احتجاج

سولار اسکام پر کیرالا اسمبلی میں اپوزیشن کا احتجاج

اسپیکر سے پوڈیم کے گھیراؤ پر ایوان کی کارروائی ملتوی
تروننتھاپورم ۔ 14 ۔ ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) کیرالا اسمبلی میں سی پیایم کی زیر قیادت اپوزیشن ایل ڈی ایف ارکان نے سولار اسکام پر آج احتجاج جاری رکھا جس کے باعث ایوان کی کارروائی دن بھر کیلئے ملتوی کردی گئی ۔  ایوان میں وقفہ صفر کے دوران شور شرابہ اس وقت شروع ہوا جب اپوزیشن نے یہ الزام عائد کرتے ہوئے تحریک التواء کی نوٹس دی کہ حکومت ، اسکام کی تحقیقات کرنے والی سولار جوڈیشل کمیشن کو دھمکیاں دے رہی ہے ، جس نے اسپیکر نے مسترد کردیا ۔ لیفٹ اینڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے ارکان بشمول وی شیوان کٹی ، ٹی وی راجیش ، جیمس میتھیو ، بابو ایم پالیسیری، کے کے ملینا (سی پی ایم) اور وی ایس سنیل کمار (سی پی آئی) اسپیکر کے پوڈیم کا گھیراؤ کیا کہ یہ الزام عائد کیا کہ وہ اپوزیشن کے حقوق کا تحفظ کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔ مسلسل احتجاج اور خلل اندازی کے پیش نظر اسپیکر نے ایوان کی کارروائی ایک دن کیلئے ملتوی کردی۔ بعد ازاں سی پی ایم لیڈر وی ایس اچھوتا نندن کی زیر قیادت اپوزیشن ارکان نے اس فیصلہ کے خلاف اسپیکر آفس کے روبرو دھرنا دیا ۔ واضح رہے کہ وہ ملزمین سریتا نائیر اور بیجو وردھا کرشنن نے شمستی توانائی کے آلات نصب کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے سینکڑوں افراد کو دھوکہ دیا تھا۔ اگرچیکہ نائیر کو 9 ماہ جیل میں گزرادینے کے بعد ضمانت پر رہا کردیا گیا لیکن دوسرا ملزم رادھا کرشنا ہنوز جیل میں محروس ہے۔ یہ اسکام منظر عام پر آنے کے بعد اپوزیشن نے اومن چنڈی سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا کیونکہ تحقیقات کے دوران ان کے دو پرسنل اسٹاف کے نام آئے ہیں۔ دریں اثناء وزیر داخلہ رمیش چنتلا نے اپوزیشن کے اس الزام کو مسترد کردیا کہ سولار جوڈیشل کمیشن کو دھمکیاں اور اس کی کارکردگی پر تنقید کی جارہی ہیں۔ انہوں نے سخت سیکوریٹی میں  ملزم رادھا کرشنا پوچھ تاچھ کیلئے ڈائرکٹر جنرل پولیس کے فیصلہ کی مدافعت کی جبکہ ملزم کو پولیس نے کوئمبتور لے جاکر بعض ویڈیو کلیپنگ برآمد کرلئے جس میں بعض لیڈروں کو نائب کے ساتھ قابل اعتراض حالات میں فلمبند کیا گیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ رادھا کرشنن اپنی اہلیہ کے قتل اور دیگر 60 کیسوں میں ملزم ہے چکمہ دیکر فرار ہوسکتا ہے جس کے پیش نظر سیکوریٹی کا گھیرا مزید سخت کیا گیا ہے ۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ پولیس کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ کسی ملزم کو دوسری ریاست لے جاتے ہیں تو سخت حفاظتی انتظامات کئے جائیں۔

TOPPOPULARRECENT