Sunday , June 24 2018
Home / Top Stories / سومناتھ بھارتی کا آدھی رات کا دھاوا ، ثبوتوں کی بنیاد پر

سومناتھ بھارتی کا آدھی رات کا دھاوا ، ثبوتوں کی بنیاد پر

نئی دہلی 24 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) وزیر قانون دہلی سومناتھ بھارتی کی آدھی رات کے دھاوے میں شرکت پر برطرفی کے مطالبوں میں شدت پیدا ہوگئی ہے۔ چنانچہ عام آدمی پارٹی نے اُن کا دفاع کرتے ہوئے کہاکہ منشیات اور جسم فروشی کے ریاکٹ کے بارے میں چند ثبوت حاصل ہونے کے بعد آدھی رات کے وقت یہ دھاوا کیا گیا تھا۔ عام آدمی پارٹی کے قائد یوگیندر یاد

نئی دہلی 24 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) وزیر قانون دہلی سومناتھ بھارتی کی آدھی رات کے دھاوے میں شرکت پر برطرفی کے مطالبوں میں شدت پیدا ہوگئی ہے۔ چنانچہ عام آدمی پارٹی نے اُن کا دفاع کرتے ہوئے کہاکہ منشیات اور جسم فروشی کے ریاکٹ کے بارے میں چند ثبوت حاصل ہونے کے بعد آدھی رات کے وقت یہ دھاوا کیا گیا تھا۔ عام آدمی پارٹی کے قائد یوگیندر یادو نے کہاکہ یہ اُن کی پارٹی کی ایک غلطی تھی کہ اُس نے سومناتھ بھارتی کی کارروائی کی تائید میں موجود تمام ثبوتوں کو یکجا نہیں کیا اور اُن کا برسرعام اعلان بھی نہیں کیا۔ ورنہ اُنھوں نے کس بنیاد پر کارروائی کی ہے عوام پر واضح ہوجاتا۔ وہ سی این این ۔ آئی بی این پر کرن تھاپر کے پروگرام ڈیولس ایڈوکیٹ میں شرکت کررہے تھے۔ اُنھوں نے کہاکہ غلط فہمی کا ازالہ 4 ، 5 دن میں ہوجائے گا۔ اُنھوں نے کہاکہ یہ یقینا ایک غلطی تھی۔ اِس سوال پر کہ کیا سومناتھ بھارتی نے ثبوت پیش کئے ہیں اور کیا اُن کی سرزنش کی گئی ہے۔

اُنھوں نے کہاکہ درحقیقت بادی النظر میں تمام باتوں کا کوئی ثبوت نہیں ہوتا جسے ریاستی وزیر قانون کے خلاف استعمال کیا جاسکے۔ اِس سوال پر کہ کیا پارٹی بھارتی کو اُن کے عہدہ سے برطرف کرنے کے سلسلہ میں دوہرے معیار اختیار نہیں کررہی ہے جبکہ پارٹی نے پولیس عہدیداروں کی معطلی کا مطالبہ کیا ہے۔ یوگیندر یادو نے کہاکہ آزادانہ عدالتی تحقیقات کا نسل پرستی کے الزامات کے پیش نظر لیفٹننٹ گورنر پہلے ہی حکم دے چکے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ سومناتھ بھارتی کو برطرف کرنے کے مطالبات کئے جارہے ہیں۔ حالانکہ اُنھوں نے منشیات اور جسم فروشی کے ثبوت ملنے کے بعد اِس مکان پر دھاوا کیا تھا۔ اِس سوال پر کہ مجسٹریٹ کے روبرو افریقی خاتون نے بھارتی کے خلاف بیان درج کروایا ہے۔ کیا اِس بنیاد پر اُنھیں برطرف نہیں کیا جاسکتا۔ یوگیندر یادو نے کہاکہ افریقی خاتون کے اندیشوں کا ازالہ کیا جائے گا۔ یہ افریقی خاتون کا بیان ہے جبکہ مقامی شہریوں کا بیان اِس کے برعکس ہے۔ اِس ادعا پر کہ بھارتی کے خلاف ثبوت سی سی ٹی وی کے کیمروں سے حاصل ہوسکتا ہے۔ یوگیندر یادو نے کہاکہ وہ ایسی جھلکیاں دیکھنا چاہتے ہیں جس میں سومناتھ بھارتی نسلی تعصب میں یا اُن خواتین کے ساتھ بدسلوکی میں ملوث ہورہے ہوں۔ اِس سوال پر کہ کیا گزشتہ ہفتہ پارٹی کے لئے منحوس ثابت ہوا کیونکہ رائے سینا ہلز کے قریب دھرنا دیا گیا تھا لیکن مکمل کامیابی کے بغیر اِسے واپس لے لیا گیا۔ یوگیندر یادو نے کہاکہ برسر اقتدار رہتے ہوئے دھرنا جاری رکھنا بہت مشکل تھا کیونکہ اِس سے کئی نظریات کو جو عوام کے ہیں، ٹھیس پہونچتی تھی۔

نفرت کرنے والے لوگ اور دور سے تماشہ دیکھنے والے لوگ بالکل مختلف نظریہ رکھتے ہیں۔ اِس سوال پر کہ کیا پارٹی کا موقف احتجاج سے شہر کی سرگرمیاں مفلوج ہوجانے کے بعد انحطاط پذیر ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ یقین کے ساتھ ایسا نہیں کہا جاسکتا۔ بیشتر چیانلس پر دکھائے گئے ایس ایم ایس پولس کے بموجب دھرنے کو 70 فیصد عوام کی تائید حاصل تھی۔ دھرنے کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ دہلی پولیس حکومت دہلی کے تحت ہونی چاہئے۔ لیکن حکومت دہلی کے مطالبہ کے باوجود 5 ملازمین پولیس کو معطل نہیں کیا گیا تھا۔ اُنھوں نے کہاکہ ریاستی انتظامیہ عام آدمی پارٹی کا اور پولیس پر کنٹرول مرکزی حکومت کا ایک مضحکہ خیز بات ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ چیف منسٹر دہلی نے یوم جمہوریہ کی تقریب کو سوویت طرز کی پریڈ قرار دیا تھا، اِس کی اہانت نہیں کی تھی۔

TOPPOPULARRECENT