Saturday , January 20 2018
Home / دنیا / سونیا کیخلاف امریکی عدالت میں مقدمہ خارج

سونیا کیخلاف امریکی عدالت میں مقدمہ خارج

نیویارک۔ 11 جون (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ کی ایک عدالت نے صدر کانگریس سونیا گاندھی پر ایک سکھ گروپ کے سکھ دشمن 1984ء فسادات کا دائر کردہ مقدمہ خارج کردیا۔ اپنے فیصلے میں عدالت نے کہا کہ سونیا گاندھی کو شخصی طور پر ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا، تاہم گروپ کی جانب سے سونیا گاندھی کے خلاف تازہ مقدمہ دائر کرنے پر امتناع عائد نہیں کیا۔ ڈسٹرکٹ جج

نیویارک۔ 11 جون (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ کی ایک عدالت نے صدر کانگریس سونیا گاندھی پر ایک سکھ گروپ کے سکھ دشمن 1984ء فسادات کا دائر کردہ مقدمہ خارج کردیا۔ اپنے فیصلے میں عدالت نے کہا کہ سونیا گاندھی کو شخصی طور پر ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا، تاہم گروپ کی جانب سے سونیا گاندھی کے خلاف تازہ مقدمہ دائر کرنے پر امتناع عائد نہیں کیا۔ ڈسٹرکٹ جج گرائم کوگن نے سونیا گاندھی کے خلاف ’’سکھس فار جسٹس‘‘ تنظیم کے دائر کردہ مقدمہ کو عدالت کے دائرۂ کار میں اس موضوع کو پیش کرنے کی ٹھوس بنیادوں کے فقدان اور کوئی دعویٰ پیش کرنے سے قاصر رہنے پر خارج کردیا۔

تاہم جج نے سونیا گاندھی کی اس درخواست کو بھی مسترد کردیا کہ عدالت کو مقدمہ کے خلاف حکم التواء جاری کرتے ہوئے سکھ تنظیم کو مزید مقدمے دائر کرنے سے روکا جائے۔ کوگن نے کہا کہ عدالت سونیا گاندھی کو ماورائے عدالت ہلاکتوں یا اذیت رسانی کا بحیثیت صدر کانگریس شخصی طور پر ذمہ دار نہیں سمجھتی۔ وہ 1998ء میں صدر کانگریس مقرر ہوئی تھیں جبکہ 1984ء کے فسادات اس سے 14 سال سے زیادہ عرصہ پہلے ہوئے تھے۔ عدالت کے فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سونیا گاندھی کے وکیل نے کہا کہ بہترین انصاف ہوچکا ہے۔ تاہم ’’سکھس فار جسٹس‘‘ کے مشیر قانونی جی ایس پنون نے کہا کہ چونکہ عدالت نے سونیا کی یہ درخواست مسترد کردی کہ تنظیم پر اُن کے خلاف مقدمات دائر کرنے پر امتناع عائد کیا جائے، اس لئے تنظیم امریکی عدالتوں میں کانگریسی قائدین کو سکھوں کے منظم قتل عام کیلئے ذمہ دار قرار دیتے ہوئے مقدمات دائر کرنا جاری رکھے گی۔

TOPPOPULARRECENT