Monday , September 24 2018
Home / اداریہ / سونیا گاندھی کی سبکدوشی

سونیا گاندھی کی سبکدوشی

میں ہی کم کم بزم میں آتا رہا
آپ نے مجھ کو کبھی روکا نہ تھا
سونیا گاندھی کی سبکدوشی
کانگریس کی صدارت سے سونیا گاندھی آج ہفتہ کو سبکدوش ہوجائیں گی ۔ سونیا گاندھی نے اپنے فرزند راہول گاندھی کی کانگریس صدارت پر فائز ہونے کے ایک دن قبل کہا کہ اب ان کا رول اتنا ہی رہ گیا ہے کہ وہ سبکدوش ہوجائیں۔ یہ اشارے گذشتہ کئی دن سے مل رہے تھے کہ سونیا گاندھی کی صحت اب ایسی نہیں رہ گئی ہے کہ وہ عوامی زندگی میں پوری سرگرمی کے ساتھ حصہ لیں اور سیاست کا حصہ بنی رہیں۔ سونیا گاندھی نے کانگریس کی صدارت پر 19 سال کے طویل عرصہ تک کام کیا اور اس دورانیہ میں انہوں نے کانگریس کو ایک نئی جان و جہت عطا کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی تاہم ان کے دور صدارت کے اختتامی مراحل تک کانگریس کو اپنے وجود کو ثابت کرنے کیلئے اور اپنی بقا کیلئے تک بھی جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے ۔ کانگریس اس حالت میں پہونچ گئی ہے کہ پارٹی کو لوک سبھا میں مسلمہ اپوزیشن کا درجہ تک حاصل نہیں ہوسکا ہے اور اس کو تاریخ میں پہلی مرتبہ صرف 44 لوک سبھا ارکان تک محدود ہونا پڑا ہے ۔ کانگریس پارٹی میں گذشتہ کچھ وقت سے یہ اشارے دئے جا رہے تھے اور مختلف گوشوں سے مطالبہ بھی کیا جا رہا تھا کہ راہول گاندھی کو پارٹی کی صدارت سونپی جائے ۔ راہول نے ابھی تک اس ذمہ داری کو قبول کرنے میں پس و پیش کا ہی مظاہرہ کیا تھا لیکن جب سونیا گاندھی کی صحت متاثر ہوگئی اور وہ عملا سرگرم سیاست سے کنارہ کشی پر مجبور ہوگئیں تو بحالت مجبوری راہول گاندھی کو بھی اس ذمہ داری کو قبول کرنے کیلئے تیار ہونا پڑا ۔ راہول گاندھی کانگریس کے صدر منتخب ہوچکے ہیں اور وہ کل ہفتہ کو یہ ذمہ داری بھی سنبھال لیں گے ۔ سونیا گاندھی کے اس ریمارک کے بعد کہ اب ان کا رول یہی رہ گیا ہے کہ وہ سبکدوش ہوجائیں کانگریس نے فوری وضاحت کی کہ سونیا گاندھی کا مطلب صرف کانگریس کی صدارت سے سبکدوشی کا تھا نہ کہ سرگرم سیاست سے سبکدوشی کا ۔ یہ وضاحت اس لئے بھی ضروری سمجھی گئی کیونکہ خود پارٹی قائدین میں یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ سونیا گاندھی سرگرم سیاست سے بھی کنارہ کش ہوجائیں گے ۔ پارٹی کی سینئر لیڈر رینوکا چودھری نے خود اس ریمارک کے بعد تبصرہ کیا تھا کہ کانگریس کارکنوں کیلئے مشکل ہوگا کہ وہ سونیا گاندھی کی سبکدوشی کو قبول کریں۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ سونیا گاندھی کانگریس کیلئے ریڑھ کی ہڈی بنی رہی تھیں۔ انہوں نے اپنے 19 سالہ دور صدارت میں پارٹی کو مستحکم کرنے میں اہم رول ادا کیا تھا ۔ انہوں نے سیتارام کیسری کے بعد پارٹی کی صدارت سنبھالتے ہوئے اسے اقتدار حاصل کرنے میں مدد کی تھی ۔ سونیا کے 19 سالہ دور صدارت میں کانگریس مرکز میں 10 سال تک برسر اقتدار رہی ہے ۔ اس کے علاوہ انہوں نے کانگریس پارٹی کو ملک کی کئی اہم ریاستوں میں اقتدار دلانے میں اہم رول ادا کیا تھا ۔سونیا گاندھی کے دور صدارت میں مدھیہ پردیش میں کانگریس واپسی نہیں کرسکی اور نہ اترپردیش میں پارٹی کا ووٹ بینک مستحکم ہوسکا تھا ۔ بہار میں بھی پارٹی اپنی شناخت بچانے کی جدوجہد کا شکار ہوگئی تھی تاہم دوسری ریاستوں میں پارٹی نے اقتدار حاصل کیا تھا ۔ مہاراشٹرا ‘ کرناٹک ‘ کیرالا ‘ متحدہ آندھرا پردیش ‘ اور دیگر ریاستوں میں پارٹی حکومت قائم ہوئی تھی جبکہ مغربی بنگال ‘ تقسیم شدہ آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں پارٹی کے قریب بھی نہیں پہونچ پائی ۔ جب سونیا گاندھی کا دور صدارت اختتامی مراحل تک پہونچا اس وقت تک کانگریس کی حالت بھی بگڑنی شروع ہوگئی ۔ بی جے پی ایک نئی طاقت کے ساتھ ابھر رہی ہے اور سونیا گاندھی کیلئے اس کا مقابلہ کرنا اپنی صحت اور بڑھتی عمر کی وجہ سے آسان نہیں رہ گیا ۔ اترپردیش اسمبلی انتخابات سے قبل ایک ریلی کے دوران جب سونیا کی طبیعت بگڑی تو وہ دھیرے دھیرے سرگرم سیاست سے دور ہوگئیں اور ذمہ داری عملا راہول گاندھی کے کندھوں پر آگئی ۔
یقینی طور پر سونیا گاندھی کانگریس کیلئے اہمیت رکھتی ہیں اور ان کی سرگرم سیاست سے دوری کے پارٹی اور پارٹی کارکنوں پر اثرات بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ راہول گاندھی کو قیادت سونپتے ہوئے نوجوانوں کو موقع دینے کی پہل کی گئی ہے اور نیا حوصلہ پیدا کرنے کی کوششیں بھی شروع ہوگئی ہیں لیکن اچانک اور فوری اثر کے ساتھ سونیا گاندھی اگر سرگرم سیاست سے دور ہوجاتی ہیں تو کچھ وقت تک تو کم از کم پارٹی اور پارٹی قائدین دونوں کیلئے مشکل پیش آسکتی ہے ۔ سونیا کانگریس کی صدارت سے تو سبکدوش ہو رہی ہیں لیکن انہیں اپنی صحت کا خیال رکھتے ہوئے بھی سرگرم سیاست کا حصہ بنے رہنے کی ضرورت ہے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT