Tuesday , December 11 2018

سوچھ حیدرآباد مہم سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں

منڈی میرعالم تا سلطان شاہی سڑک کی کھدائی، راہگیروں کو سخت مشکلات

منڈی میرعالم تا سلطان شاہی سڑک کی کھدائی، راہگیروں کو سخت مشکلات
حیدرآباد ۔ 8۔ جون (سیاست نیوز) حیدرآباد میں عوامی مسائل کی یکسوئی اور خاص طور پر صحت و صفائی کے انتظامات کو بہتر بنانے کیلئے سوچھ حیدرآباد مہم چلائی گئی لیکن پرانے شہر کے عوام کو اس مہم سے کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ صحت و صفائی کے انتظامات توکجا بنیادی سہولتوںکی فراہمی میں عوامی نمائندگی اور شہری انتظامیہ بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ پرانے شہر کے علاقوں میں جابجا کچرے کے انبار اور سڑکوں پر بہتا گندہ پانی حکومت اور عوامی نمائندوں کی سنجیدگی کو ثابت کرتی ہے۔ اب جبکہ رمضان المبارک کا آغاز قریب ہے، پرانے شہر میں صحت و صفائی کے انتظامات پر خصوصی توجہ کے بجائے شہری انتظامیہ لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ عوامی نمائندے بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے بلند بانگ دعوے کر رہے ہیں لیکن پرانے شہر کے کئی علاقوں سے عوام نے شکایت کی کہ عوامی نمائندوں نے انہیں حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا اور کوئی ان کا پرسان حال نہیں۔ شہر کے کئی علاقوں میں حالیہ بارش کے بعد سڑکیں تباہ ہوگئیں اور سیوریج سسٹم کی ناکامی کے سبب جگہ جگہ موریاں ابل رہی ہیں۔ عوام ان مسائل کے سلسلہ میں حکام سے بارہا نمائندگی کر رہے ہیں جبکہ عوامی نمائندوں کو اس بات کی توفیق نہیں کہ وہ متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں۔ شہری حکام اور عوامی نمائندوں کی لاپرواہی عوام کی زندگی کیلئے خطرہ بن سکتی ہے۔ اس بات کا اندیشہ ہے کہ بڑھتی گندگی کے سبب کئی وبائی امراض رونما ہوسکتے ہیں۔ پرانے شہر میں منڈی میرعالم تا سلطان شاہی پائپ لائین بچھانے کے نام پر سڑک پر کھدائی کی گئی اور کام کی تکمیل کے باوجود طویل عرصہ سے سڑک تعمیر نہیں کی گئی جس کے باعث سارے علاقہ میں 24 گھنٹے گرد و غبار کے سبب عوام کا جینا دوبھر ہوچکا ہے۔ عوام اور بالخصوص تاجرین نے شکایت کی کہ منڈی میرعالم کا سلطان شاہی خستہ سڑک کے باعث اٹھنے والے گرد و غبار سے سانس سے متعلق کئی بیماریاں پیدا ہورہی ہیں۔ اس سلسلہ میں کئی دکانداروں نے طبی رپورٹ کے ساتھ مقامی عوامی نمائندوں کو واقف کرایا لیکن ان کی شکایت پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔ گزشتہ 3 ماہ سے ان علاقوں میں دکاندار اپنی دکانوں سے زیادہ دواخانوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ ان علاقوں میں موجود مکانات میں بھی عوام کا گزارا مشکل ہوچکا ہے کیونکہ سارا علاقہ فضائی آلودگی اور گرد و غبار کا مرکز بن چکا ہے۔ عوامی نمائندوں کو اس بات کی توفیق نہیں کہ وہ اس علاقہ کا دورہ کرتے ہوئے برسر موقع حالات کا جائزہ لیں۔ برخلاف اس کے کہ عوامی نمائندے اس علاقہ سے گزرنے کے بجائے دوسرے متبادل راستوں کو اختیار کر رہے ہیں تاکہ عوامی ناراضگی سے محفوظ رہیں۔ عوام نے شکایت کی کہ نئی پائپ لائین کی تنصیب کے نام پر موجودہ پائپ لائین کو توڑ دیا گیا جس کے باعث ڈرینج کا سسٹم درہم برہم ہوچکی ہے۔ کئی علاقوں میں گندہ پانی روزانہ سڑکوں پر بہہ رہا ہے اور ان علاقوں میں مساجد کی کثرت ہے۔ عوام نے شکایت کی کہ مسلسل ڈرینج سسٹم کی ناکامی کا اثر پینے کے پانی پر بھی پڑھ رہا ہے اور ڈرینج لائین کئی علاقوں میں واٹر لائین سے مل چکی ہے اور عوام آلودہ پانی کے استعمال پر مجبور ہیں۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو نہ صرف صحت عامہ کو خطرہ لاحق ہوگا بلکہ معصوم زندگیاں ضائع ہوسکتی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT