Wednesday , September 19 2018
Home / شہر کی خبریں / سوچھ حیدرآباد کے بعد دونوں شہروں میں جوں کے توں حالات

سوچھ حیدرآباد کے بعد دونوں شہروں میں جوں کے توں حالات

ہر طرف کچرے کے انبار، نکاسی کا کوئی انتظام نہیں، ڈمپنگ یارڈس کی شہر سے باہر منتقلی ضروری

ہر طرف کچرے کے انبار، نکاسی کا کوئی انتظام نہیں، ڈمپنگ یارڈس کی شہر سے باہر منتقلی ضروری
حیدرآباد 4 جون (سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے علاوہ پرانے شہر کے علاقوں میں سوچھ حیدرآباد کے گزرنے کے فوری بعد دوبارہ کچرے کی نکاسی کا عمل جوں کا توں ہوچکا ہے۔ پرانے شہر کے بیشتر علاقوں میں مختلف مقامات پر کچرے کے انبار دیکھے جارہے ہیں جنھیں روزانہ منتقل کرنے کا کوئی نظام نظر نہیں آرہا ہے۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد اور دیگر محکمہ جات نے گزشتہ ماہ سوچھ حیدرآباد پروگرام کے دوران حیدرآباد کو بہتر سے بہتر اور صاف ستھرا بنانے کے عہد و پیماں کئے تھے لیکن اندرون دو ہفتے شہر کے گلی کوچوں کی حالت دوبارہ ویسی ہی ہوگئی جیسی سوچھ حیدرآباد سے قبل ہوا کرتی تھی۔ سوچھ حیدرآباد پروگرام کے دوران حیدرآباد کے مختلف مقامات پر کچرے کی نکاسی کے علاوہ سڑکوں کو صاف ستھرا رکھنے کے اقدامات کئے گئے تھے اور خود چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ کے علاوہ مختلف محکمہ جات سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ عہدیداروں نے بھی اس پروگرام میں حصہ لیتے ہوئے عوامی تعاون کے ساتھ صفائی کو یقینی بنانے کا اعلان کیا تھا۔ اسی طرح چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے بھی شہر کی نہ صرف سڑکوں بلکہ دیواروں اور نظر آنے والے مقامات کو صاف رکھنے کے اقدامات کی اپیل کرتے ہوئے خود اُن کے پوسٹرس جو دیواروں پر چسپاں کئے گئے تھے اُنھیں نکالنے کی ہدایت دی تھی لیکن اِن ہدایات و احکامات شائد کوئی اثر کسی پر نہیں ہوا۔ چونکہ سوچھ حیدرآباد کے اختتام کے بعد یوم تاسیس تلنگانہ کے نام پر مختلف مقامات پر چیف منسٹر کے پوسٹرس و کٹ آؤٹس آویزاں کئے گئے تھے۔ اسی طرح شہر کے مختلف مقامات پر جہاں کچرے کے انبار معمول کی بات ہوا کرتی تھی، وہاں دوبارہ وہی صورتحال لوٹ آئی ہے۔ حکومت کی جانب سے بلدی عہدیداروں کو اس بات کا پابند بنائے جانے کی ضرورت ہے کہ وہ رہائشی علاقوں کے علاوہ تجارتی مراکز سے روزانہ کچرے کی نکاسی و شہر کے باہر منتقلی کو یقینی بنائے تاکہ شہریوں کی صحت کی حفاظت کے ساتھ ساتھ شہر کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوسکے۔ شہری حدود میں موجود ڈمپنگ یارڈس کے متعلق بھی حکومت کو متعدد شکایات موصول ہوچکی ہیں۔ اسی طرح بلدی عہدیداروں سے ڈمپنگ یارڈ کے اطراف و اکناف کے علاقوں کے عوام نے کئی شکایتیں کی ہیں لیکن اس کے باوجود ڈمپنگ یارڈس کی منتقلی کے متعلق کوئی قطعی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ ڈمپنگ یارڈس کو شہر کے باہر منتقل کرنے کے اقدامات کرے تاکہ رہائشی علاقوں میں ڈمپنگ یارڈس کے سبب پیدا ہونے والے تعفن سے راہگیروں اور شہریوں کو محفوظ رکھا جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT