Wednesday , November 22 2017
Home / دنیا / سوچی صدر نہیں بن سکتیں ؟

سوچی صدر نہیں بن سکتیں ؟

ینگون ۔ 9 ۔ نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) 25 سال بعد ہونے والے آزادانہ عام انتخابات میں پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔اتوار کو ہوئے ،انتخابات میں ملک کے 80 فیصد شہریوں نے ووٹ ڈالے۔ میانمار میں کئی دہائیوں تک فوج کی حکومت رہی ہے اور اس سے قبل تمام انتخابات فوج ہی کی نگرانی میں ہوتے رہے ہیں۔امید کی جا رہی ہے کہ آنگ سان سوچی کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی) زیادہ تر پارلیمانی نشستیں جیتے گی، اگرچہ برما کے آئین کے تحت آنگ سان سوچی ملک کی صدر نہیں بن سکتیں۔میانمار میں 2011 سے حکومت کرنے والی جماعت یونین سولیڈیریٹی ڈیویلپمنٹ پارٹی (یو ایس ڈی پی) اقتدار میں ہے۔ ایک اندازے کے مطابق میانمار میں تین کروڑ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ میانمار میں 25 سال بعد ہونے والے انتخابات میں ووٹنگ کا عمل پر امن رہا۔میانمار کی پارلیمان 664 نشستوں پر مشتمل ہے جس میں 90 جماعتوں سے تعلق رکھنے والے چھ ہزار سے زائد امید واروں نے حصہ لیا۔ ان انتخابات کے لیے پارلیمان کی 25 فیصد نشستیں فوج کے نمائندوں کے لیے مختص ہوں گی۔ نوبیل امن انعام حاصل کرنے والی آنگ سان سوچی اپنی پارٹی این ایل ڈی کے کامیاب ہونے کے باوجود بھی ملک کی صدر نہیں بن سکیں گی، کیونکہ برما کے آئین کے مطابق کوئی بھی ایسا برمی مرد یا عورت ملک کا صدر بننے کا اہل نہیں ہے جس نے کسی غیر ملکی شہری سے شادی کی ہو یا اس کے بچے غیر ملکی ہوں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT