Saturday , November 18 2017
Home / دنیا / سوچی کو میانمار کے سابق فوجی حکمران کی تائید

سوچی کو میانمار کے سابق فوجی حکمران کی تائید

یانگون ۔6ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) آنگ سان سوچی کے صدر بننے میںدستور کی وہ دفعہ رکاوٹ ہے جس کے تحت کوئی بھی شخص جس کے کسی غیر ملکی سے بچے ہوں، وہ ملک کا صدر نہیں بن سکتا۔میانمار کے سابق فوجی حکمران نے سوچی نے  ملک کے آئندہ رہنما کی حیثیت سے بیان دیتے ہوئے ان کے ساتھ تعاون کا عہد کیا ۔ سابق حکمراں جنرل تھان شوے کے پوتے نے بتایا کہ انھوں نے ایک خفیہ ملاقات کے دوران اس تعاون کا عہد کیا ہے۔ دریں اثناء  اقتدار کی منتقلی کے لئے سوچی کی صدر سے ملاقات کی ۔ یہ ملاقات ڈھائی گھنٹے تک جاری رہی۔ پہلے سوچی اور جنرل شوے دشمن  تھے۔ سوچی کی پارٹی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی) نے جاریہ سال اکتوبر میں ہونے والے انتخابات میں زبردست کامیابی حاصل کی تھی۔گذشتہ 25 برسوں کے دوران یہ پہلا انتخاب تھا جو شفافیت سے منعقد کیا گیا۔ میانمار میں 80 سالہ جنرل تھان شوے 2011 تک فوجی حکومت کے سربراہ رہے ملک میں ان کے زبردست اثرورسوخ ہیں۔  ان  اس سے یہ واضح نہیں  ہوتا کہ کیا جنرل شوے کے بیان سے دستور کی وہ دفعہ بدل سکتی ہے جس کے تحت سوچی ملک کی صدر نہیں بن سکتیں۔آنگ سان سوچی کے صدر بننے میں دستور کی وہ دفعہ رکاوٹ ہے جس کے تحت کوئی بھی شخص جس کے کسی غیر ملکی سے بچے ہوں ملک کا صدر نہیں بن سکتا اور سوچی کے برطانوی شوہر سے دو بچے ہیں۔گذشتہ ہفتے میانمار کی اہم شخصیات کے درمیان حکومت سازی کے متعلق باتیں ہوتی رہیں تھیں جن میں ایک اہم بات یہ تھی کہ میانمار کا اگلا صدر کون ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT