Sunday , October 21 2018
Home / کھیل کی خبریں / سٹہ بازی ،انگلش اور آسٹریلیائی کھلاڑیوں پر گہری نظر

سٹہ بازی ،انگلش اور آسٹریلیائی کھلاڑیوں پر گہری نظر

لندن۔19 ڈسمبر(سیاست ڈاٹ کام)کرکٹ میں سٹے بازی اور بدعنوانیوں کا داغ اب انگلش اور آسٹریلیائی کھلاڑیوں کے دامن پر لگتا ہوا دکھائی دے رہاہے کیونکہ برطانوی جریدے ’دی سن‘ کے رپورٹرز نے اسٹنگ آپریشن سے نیا موضوع چھیڑ دیاہے، مبینہ سٹے باز سوبرز جوبن نے انگلینڈ کے پانچ سابق کھلاڑیوں کا نام لیتے ہوئے دعویٰ کیاکہ وہ پرتھ ایشز ٹسٹ کو فکسڈ کرنے کی بات کہی۔ آئی سی سی نے اس دعوی کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ان پانچ کھلاڑیوں سے پوچھ گچھ کا فیصلہ کیا ہے۔ اینٹی کرپشن یونٹ براہ راست ان کھلاڑیوں کے بیان نوٹ نہیں کرے گا بلکہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ پوچھ گچھ کرکے رپورٹ دے گا۔آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ کے تفتیش کار آسٹریلیا، ہندوستان، بنگلہ دیش اور زمبابوے جائیں گے جہاں پر مختلف کرکٹرز اور گواہوں کے بیانات بھی ریکارڈ ہوں گے۔’دی سن‘ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ جوبن اور ان کے ساتھ سٹہ باز پریانک سکسینہ نے انڈر کور رپورٹر سے تیسرے ایشز ٹیسٹ کی مخصوص معلومات کی فراہمی کیلئے ایک لاکھ 40 ہزار پاؤنڈز مانگے تھے۔ اس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایک آسٹریلیائی سٹہ باز کے کھلاڑیوں سے رابطے ہیں اور وہی فکسنگ کا معاملہ کرسکتا ہے۔آئی سی سی کے اینٹی کرپشن چیف الیکس مارشل پہلے ہی ان معلومات کی فراہمی پر مذکورہ جریدے کا شکریہ ادا کرچکے ہیں۔ دوسری جانب فیکا نے آئی سی سی کی جانب سے تحقیقات کیلیے کھلاڑیوں کا موبائل فون مواد حاصل کرنے کے فیصلے پر اعتراض کیا۔ الیکس مارشل نے اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ اگرضروری ہوا تو تحقیقات کے دوران کسی کھلاڑی کا موبائل فون مواد بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ٹونی آئرش نے مزید کہا کہ اگر اسپاٹ فکسنگ میں کوئی انگلش یا پھر آسٹریلیائی کھلاڑی ملوث ہوا تو یہ میرے لیے انتہائی حیران کن بات ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اب کرپشن ٹسٹ کرکٹ میں نہیں بلکہ اس کا نشانہ دنیا بھر میں لیگز ہیں۔ ہم پہلے ہی آئی سی سی کو اس حوالے سے جامع معیار مقرر کرنے اور ان پر نظر رکھنے کی تجاویز دے چکے ہیںلیکن ان میں کوئی دلچسپی نہیں ظاہر کی گئی۔

TOPPOPULARRECENT