Sunday , July 22 2018
Home / Top Stories / سپریم کورٹ بحران ‘ چار سینئر ججس کی تشویش سے اتفاق

سپریم کورٹ بحران ‘ چار سینئر ججس کی تشویش سے اتفاق

چار سبکدوش ججس کا چیف جسٹس آف انڈیا کو کھلا مکتوب ۔ مسئلہ عدلیہ کے اندر ہی حل کرلینے کی حمایت
نئی دہلی 14 جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) چار سبکدوش ججس نے ‘ جن میں ایک سابق سپریم کورٹ جج بھی شامل ہیں ‘ آج چیف جسٹس آف انڈیا کو ایک کھلا مکتوب روانہ کیا ہے اور کہا کہ وہ ان مسائل سے اتفاق کرتے ہیں جو سپریم کورٹ کے چار ججس نے مقدمات مختص کرنے کے سلسلہ میں اٹھائے ہیں۔ ان ججس نے کہا ہے کہ اس مسئلہ کو عدلیہ کے اندر ہی حل کرلیا جانا چاہئے ۔ اس مکتوب کو سابق سپریم کورٹ جج پی بی ساونت ‘ سابق چیف جسٹس دہلی ہائیکورٹ اے پی شاہ ‘ سابق مدراس ہائیکورٹ جج کے چندرو اور سابق بمبئی ہائیکورٹ جج ایچ سریش نے تحریر کیا ہے اور اسے ذرائع ابلاغ کیلئے جاری کیا گیا ہے ۔ یہ مکتوب سوشیل میڈیا پر بھی وائرل ہوگیا ہے ۔ جسٹس شاہ نے توثیق کی کہ ایک کھلا مکتوب دوسرے سبکدوش ججس کے ساتھ چیف جسٹس کو روانہ کیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک کھلا مکتوب روانہ کیا ہے اور مکتوب میں جن دوسرے ججس کے نام شامل ہیں انہوں نے بھی اس کی منظوری دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سبکدوش ججس نے جس خیال کا اظہار کیا ہے وہ سپریم کورٹ بار اسوسی ایشن کی رائے کی طرح ہی ہے کہ جب تک یہ بحران حل نہیں ہوجاتا اس وقت تک اہم امور کو ایک پانچ رکنی دستوری بنچ سے یا پھر سینئر ججس سے ہی رجوع کیا جانا چاہئے ۔ جسٹس شاہ نے کہا کہ سابق میں وہ اس مکتوب سے دوسرے تین ججس کے اتفاق کے تعلق سے قطعی واقف نہیں تھے اس لئے انہوں نے ابتداء میں یہ مکتوب تحریر کرنے کی تردید کی تھی لیکن اب تمام ججس نے اس کی توثیق کردی ہے ۔ مکتوب میں ججس کا یہ کہتے ہوئے حوالہ دیا گیا کہ چار سپریم کورٹ کے سینئر ججس نے ایک سنگین مسئلہ کو پیش کیا ہے خاص طور پر حساس مقدمات کی مختلف بنچس کو حوالگی پر ان کی تشویش واضح ہے ۔ ان ججس نے تشویش کا اظہار کیا کہ مقدمات کا الاٹمنٹ مناسب انداز میں نہیں ہو رہا ہے ۔ حالانکہ چیف جسٹس آف انڈیا روسٹر کے ذمہ دار ہیں اور وہ بنچس کو کام مختص کرسکتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ من مانی انداز کرسکتے ہیں یا پھر حساس اور اہم مقدمات کو اپنی پسند کے جونئیر ججس کے حوالے کرسکتے ہیں۔ ان ججس کا کہنا تھا کہ ان مسائل کو حل کیا جانا چاہئے اور مقدمات الاٹ کرنے میں قوانین اور رولس کی پابندی کی جانی چاہئے ۔ یہ کام مناسب ہو اور ان کا جواز ہو اور یہ کام شفافیت کے ساتھ ہونا چاہئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کام فوری کیا جانا چاہئے تاکہ عدلیہ میں و سپریم کورٹ میں عوام کے اعتماد کو بحال کیا جاسکے ۔ مکتوب میں کہا گیا کہ جب تک یہ کام نہیں کیا جاتا اس وقت تک یہ بات اہم ہے کہ تمام حساس اور اہم مقدمات بشمول زیر التوا مقدمات کو بھی پانچ سینئر ترین ججس کی دستوری بنچ سے رجوع کیا جانا چاہئے ۔ مکتوب کے بموجب صرف اسی طریقہ سے اس بات کو یقینی بنایا جاسکتا ہے لوگ یہ تسلیم کریں کہ سپریم کورٹ ایک منصفانہ اور شفاف انداز میں کام کر رہا ہے ۔ ان ججس نے چیف جسٹس سے خواہش کی کہ اس سلسلہ میں اقدامات کئے جائیں۔

TOPPOPULARRECENT