Wednesday , October 24 2018
Home / اضلاع کی خبریں / ’’ سپریم کورٹ جائیں گے یا لائحہ عمل تبدیل کریں گے ‘‘

’’ سپریم کورٹ جائیں گے یا لائحہ عمل تبدیل کریں گے ‘‘

ٹی آر ایس حکومت سے صراحت کرنے محمد علی شبیر کا مطالبہ۔ پارلیمنٹ کے پاس احتجاج ایک ڈرامہ

کریم نگر۔/8مارچ، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)تلگودیشم ایم پی دیویندر گوڑ نے سوال کیا تھا کہ تلنگانہ حکومت کی جانب سے تجویز کردہ مسلمانوںکو 12 فیصد اور قبائیلیوں کو 10فیصد تحفظات کے تعلق سے مرکزی حکومت نے کیا فیصلہ کیا ہے، اسے منظوری دی جائے گی یا نہیں ؟ جس پر مرکزی وزیر داخلہ نے تحریری جواب دیا تھاکہ سپریم کورٹ کے 1992 میں اندرا سائنی جج کے فیصلہ کے مطابق ملک میں 50 فیصد سے زائد ریزرویشن دیئے جانے کی گنجائش نہیں ہے۔ آرٹیکل 16/4 کے تحت تحفظات میں اضافہ کے لئے معقول وجوہات بتلائے جانے پر تحفظات میں اضافہ کی گنجائش ہے، یہ کہتے ہوئے بل کو واپس کردیا گیا ۔ اس طرح پارلیمنٹ میں جواب دیا گیا۔ مرکزی حکومت کو ریاستی حکومت نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا لیکن اس کے باوجود صدر مجلس اسد الدین اویسی اور کے سی آر دونوں کی جانب سے عوام کو دھوکہ دیا جارہا ہے کہ ہم پارلیمنٹ میں پلے کارڈز کے ذریعہ ہنگامہ کھڑا کردیں گے وغیرہ ۔ اس طرح پلے کارڈز کے ذریعہ احتجاج کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی کارروائی میں رکاوٹ پیدا کرنے سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار رکن قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے کریم نگر کے ایل ایم ڈی گیسٹ ہاوز میں نمائندہ’ سیاست ‘ سید محی الدین سے خصوصی ملاقات کے دوران کیا۔ انہوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ کے سی آر اور اسد الدین اویسی دونوں ملکر ایک ڈرامہ کررہے ہیں، بل واپس آچکا ہے یا نہیں صراحت کریں۔ آئندہ حکومت کا لائحہ عمل کیا ہے ، آیا اس میں ترمیم کریں گے یا سپریم کورٹ سے رجوع ہوں گے۔ مختلف طبقات کو ہر ریاست میں الگ الگ زمرہ بندی ہے۔ کاپو ، بنیا ایک جگہ اعلیٰ ہیں تو دوسری جگہ بی سی، شیخ کو یو پی میں درجہ اعلیٰ طبقہ ہے تو یہاں بی سی میں شامل کیا گیا ہے۔ اس طرح ہر ریاست میں علحدہ درجہ بندی ہے ۔ کسی بھی ریاست میں تحفظات کے لئے علحدہ سے آپشن نہیں دیا گیا ہے جو کے سی آر مطالبہ کرنے کی بات کررہے ہیں یہ سراسر دھوکہ دہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں کہا کہ چیتنیا یاترا بس کے ذریعہ تاحال 12 جلسہ عام منعقد ہوچکے ہیں ہر جگہ عوام کا ایک اژدھام شریک ہوا ہے بالخصوص نوجوان اپنے آپ بائیک، آٹوز ، کار، ٹریکٹر کے ذریعہ جلسوں میں شریک ہورہے ہیں اور پانچ تا چھ گھنٹے جلسہ کے اختتام تک جلسوں میں موجود رہتے ہیں اس کے باوجود کے سی آر کانگریس کی اس چیتنیہ یاترا کو فلاپ شو کہہ رہے ہیں۔ا نہوں نے کہا کہ کل کے سرسلہ مانا کنڈور جلسہ میں عوام کی بھاری تعداد شریک رہی ، ہمارے ان جلسوں میں خواتین شامل نہیں ہیں ۔ چندرا بابو نائیڈو جلسوں میں خواتین کی شرکت کیلئے بے دریغ روپیہ خرچ کرتے تھے ہم اپنے ان جلسوں میں عوام کو جمع کرنے کیلئے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کررہے ہیں باوجود اس کے ہمارے جلسوں میں عوام صد فیصد شرکت کررہے ہیں جو کے سی آر حکومت سے بیزاری کا اظہار ہے اور عوام کانگریس کے برسراقتدار آنے کا انتظار کررہے ہیں۔سمندر میں خاموشی اچانک ایک بڑے طوفان و سونامی کے اشارہ کی طرح ہے۔ کانگریس اگلے چناؤ میں سبھی پارٹیوں کو گمنامی میں ڈھکیل دے گی۔ کے سی آر کا جلسہ عادل آباد میں صرف 26 منٹ ہی چل سکا ۔ تلنگانہکو چار سال میں 165 کروڑ کا مقروض بنادیا گیا۔ کانگریس کے 60 سالہ دور میں صرف 6.5 کروڑ کا مقروض تھی۔ آندھرا پردیش میں چندرا بابو نائیڈو گرانٹ لیکر ترقیاتی کام کروارہے ہیں تو کے سی آر قرض حاصل کرکے پراجکٹوں کے نام پر گھر بھر رہے ہیں صرف ترقی بات کی جارہی ہے ، سڑکوں کی حالت بدترین ہے۔کے سی آر کا کہنا ہے کہ کانگریس کو تلنگانہ میں صرف 10نشستیں حاصل ہوں گی جبکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ صرف 10نشستیں ٹی آر ایس کو باقی تمام نشستوں پر کانگریس کا قبضہ ہوگا۔ ٹی آر ایس وزراء برائے نام ہیں ان سے کوئی کام نہیں ہوتا۔ متعلقہ محکمہ میں کتنے بجٹ پر کام ہورہا ہے انہیں یہ بھی پتہ نہیں ہے۔ اس موقع پر محمد عبدالصمد نواب، سید غازی الدین کریم نگرکانگریس پارٹی صدر شیخ اکبر علی پداپلی سید قمر الدین اور دیگر موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT