Sunday , September 23 2018
Home / اداریہ / سپریم کورٹ ججس کی ناراضگی

سپریم کورٹ ججس کی ناراضگی

سپریم کورٹ کے چار سینئر ججس نے آج ایک حیرت انگیز اقدام کرتے ہوئے ملک کے سامنے سپریم کورٹ کی داخلی حالت پر اپنی ناراضگی اور تشویش کو ظاہر کردیا ۔ شائد یہ پہلی بار ہوا ہے کہ سپریم کورٹ کے ججس نے ایک باضابطہ پریس کانفرنس منعقد کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے ۔ ججس کا تاثر یہ بھی تھا کہ سپریم کورٹ جیسے ادارہ کا تحفظ ضروری ہوگیا ہے ورنہ ہندوستان میں جمہوریت خطرہ میں پڑ جائیگی ۔ ان ججس نے حالیہ مہینوں میں پیش آنے والے واقعات کو بھی افسوسناک قرار دیا ہے اور ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں بعض انتہائی اہمیت کے حامل اور ملک و قوم پر دور رس اثرات مرتب کرنے والے مقدمات کی سماعت بھی اپنی مرضی کی بنچوں سے کروائی جا رہی ہے اور سینئر ججس کو ایسے معاملات سے دور رکھا جا رہا ہے ۔ ان ججس نے خاص طور پر اس بات پر بھی ناراضگی کا اظہار کیا کہ سہراب الدین شیخ فرضی انکاؤنٹر کیس کی تحقیقات کرنے والے جج جسٹس بی ایم لویا کی پراسرار حالت میں موت کی تحقیقات کیئلے مفاد عامہ کی درخواست کو سماعت کیلئے نہ چیف جسٹس کی قیادت والی بنچ سے رجوع کیا گیا اور نہ ابتدائی چار بنچس سے رجوع کیا گیا بلکہ اسے دس نمبر عدالت سے رجوع کیا گیا ۔ ججس کا یہ بھی اعتراض تھا کہ بعض اہم نوعیت کے مقدمات کی سماعت خود چیف جسٹس اپنی قیادت میں کر رہے ہیں اور چھوٹی بنچس کے ذریعہ بھی کام لیا جا رہا ہے ۔ اس سا رے معاملہ نے سارے ملک کو اچانک حیرت میں ڈال دیا ہے ۔ سپریم کورٹ اور ساری عدلیہ کا ملک بھر میں انتہائی احترام کیا جاتا ہے ۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ مقننہ میںعوام کو انتہائی مایوسی ہاتھ آر ہی ہے ۔ عوامی نمائندے توقعات کے مطابق کام نہیں کر رہے ہیں۔ وہ سیاسی جوڑ توڑ کے ذریعہ آگے بڑھ رہے ہیں ۔ انتخابی کامیابیوں کیلئے جمہوریت کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیںایسے میں جہاں انصاف کی امیدیں کم ہوتی جارہی ہیں ‘ سپریم کورٹ عوام کیلئے ایک سہارا ہے ۔ لوگوں کو عدلیہ پر کامل یقین ہے کہ عدلیہ سے انہیں انصاف ضرور ملتا ہے اور ملتا رہے گا ۔ اگر ملک کے اس انتہائی معزز اور معتبر ادارہ میں خود اس کے ذمہ داران کو حالات ٹھیک نہیں لگتے ہیں تو یہ صورتحال یقینی طور پر باعث فکر ہے ۔
سپریم کورٹ کے چار سینئر ججس نے جو اعترا ضات کئے ہیں اور جن مسائل کی نمائندگی کی ہے ایسا نہیں ہے کہ ان کو ان معاملات سے کسی طرح کی کوئی شخصی دلچسپی ہو ۔ معزز ججس نے صرف عدلیہ اور ملک کے تئیں اپنی تشویش سے ملک کے عوام کو واقف کروانا ضروری سمجھا ۔ ان ججس نے پہلے اپنی تشویش سے ایک مکتوب ذریعہ چیف جسٹس آف انڈیا کو واقف کروایا تھا ۔ ججس کے بموجب دو ماہ میں انہیں اس پر کوئی رد عمل موصول نہیں ہوا ۔ آج بھی انہوں نے چیف جسٹس سے ملاقات کی لیکن انہیں مطمئن نہیں کرسکے ایسے میں انہوں نے قوم کے سامنے حالات کو پیش کرنا ہی ضروری سمجھا ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کیا حالات ہیں جن کی وجہ سے معزز ججس جو اکثر و بیشتر عوامی حلقوں میں اور خاص طور پر میڈیا میںکسی طرح کے ریمارکس یا تبصروں سے گریز کرتے ہیں وہی خود ایک پریس کانفرنس کرنے آگے آئے ہیں۔ وہ کیا حالات ہیں جن پر انہیں تشویش ہے اور ان کی تشویش دور نہیں ہورہی ہے ۔ آخر کیا وجوہات ہیں کہ ان سینئر ترین ججس کی شکایات پر کسی طرح کے رد عمل کا اظہار نہیں کیا گیا ہے ۔ آخر کیوں ان کی تشویش دور نہیں کی گئی ؟ ۔ یہ ایسے سوالات ہیں جو ملک کے عوام کے ذہنوں میں ابھرنے لگے ہیں۔ معزز ججس کی جانب سے ناراضگی کا اظہار باعث تشویش ہے اور اس ناراضگی کو دور کرنا ضروری ہے ۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ جو حالات سپریم کورٹ جیسے معزز ادارہ میں بگڑے ہیں ان کی جامع تحقیقات کروائی جانی چاہئے اور عدلیہ کے وقار اور اس کی کارکردگی کو متاثر ہونے نہیں دیا جانا چاہئے ۔ یہاں تمام حالات کی انتہائی باریک بینی سے جانچ ہونی چاہئے ۔ یہاں ان حالات کا پتہ چلانا چاہئے کہ جن کی وجہ سے ججس ایسا کرنے پر مجبور ہوئے ہیں اور یہ بھی پتہ چلانے کی ضرورت ہے کہ حالات کے اتنے ناگفتہ بہ ہونے کے پس پردہ وجوہات اور محرکات کیا ہیں ؟ ۔ اب جمہوریت کے تمام شعبوں کیلئے ضروری ہوگیا ہے کہ ججس کے پریس کانفرنس کرنے پر سوال اٹھانے کی بجائے ان کی شکایات کو دور کرنے کیلئے اجتماعی طور پر زور دیا جائے ۔ جو مسائل انہوں نے اٹھائے ہیں اور تشویش ظاہر کی ہے ان کو دور کیا جائے اور وہ عوامل عوام کے سامنے لائے جائیں جن کی وجہ سے یہ حالات پیدا ہوئے ہیں۔ یہاں عدلیہ کے وقار اور احترام کا تحفظ ضروری ہے ۔

TOPPOPULARRECENT