سپریم کورٹ میں فلم پدماوتی کیخلاف درخواست مسترد

بی جے پی قائد کو پارٹی نوٹس، ریاستوں سے جواب عدم وصول : مرکز ، چیف منسٹروں کا ردعمل
نئی دہلی ؍ بھوپال ۔ 20 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج ایک درخواست کو جس نے بالی ووڈ فلم پدماوتی سے قابل اعتراض بعض مناظر حذف کرنے کی خواہش کرتے ہوئے انہیں ناپختہ قرار دیا تھا، مسترد کردی۔ دریں اثناء سنجے لیلا بھنسالی کے تاریخی فلم پر تنازعہ عروج پر ہے۔ ہریانہ کے ایک بی جے پی قائد کو جس میں بھنسالی اور دیپیکا کے سر قلم کرنے پر 10 کروڑ روپئے انعام دیا تھا، پارٹی نے آج وجہ بتاؤ نوٹس جاری کردی جبکہ مدھیہ پردیش کے چیف منسٹر شیوراج سنگھ چوہان اور پنجاب کے چیف منسٹر امریندر سنگھ تاریخ کو مسخ کرنے کے سر میں اپنا سر ملانے لگے۔ دریں اثناء مرکزی بورڈ برائے فلموں کی توثیق کے سربراہ پرسون جوشی نے کہا کہ سنسر بورڈ ایک متوازن فیصلہ کرنے کی کوشش کررہا ہے لیکن اسے مہلت کی ضرورت ہے تاکہ غوروخوض کے بعد فیصلہ کیا جاسکے۔ چیف جسٹس دیپک مشرا کی زیرقیادت سپریم کورٹ کی بنچ نے درخواست مسترد کردی۔ مرکز نے کہا کہ ہنوز فلم کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں اور نہ ریاستوں کی جانب سے تاحال کوئی اطلاع دی گئی ہے۔ تاہم مرکزی حکومت صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے جو احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے پیدا ہوگئی ہے حالانکہ فلم کو ہنوز بازارمیں پیش نہیں کیا گیا۔ تاہم اس کے بارے میں تنازعات پیدا ہوگئے ہیں۔ دریں اثناء سپریم کورٹ نے قانون داں ایم ایل شرما کے اس ادعا کو مسترد کردیا کہ فلم میں چند مناظر کو جو قابل اعتراض ہیں، ضبط کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اپنے فرائض انجام دے رہی ہے اور عدالت کا مقصد معاشرہ میں انتشار پیدا کرنا نہیں ہے۔ سماعت کے دوران قانون داں شرما نے فلم کے گیتوں کا مسئلہ اٹھایا تھا حالانکہ ابھی فلم کو نہ تو سرٹیفکیٹ دیا گیا ہے اور نہ یہ نمائش کیلئے پیش کی گئی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ دیپیکاپڈوکون، رنویر سنگھ، شاہد کپور پر مشتمل فلم جس حقیقت کے باوجود نمائش کیلئے پیش کردی گئی ہیکہ سنسر بورڈ نے درخواست واپس کرتے ہوئے فلمسازوں سے کچھ وضاحتیں طلب کی تھیں۔ سینئر قانون داں ہریش سالوے نے مدعی علیہان میں سے ایک کی پیروی کرتے ہوئے شرما کے بیان پر اعتراض کیا اور کہا کہ صرف فلم کا پرومو نمائش کیلئے پیش کیا گیا ہے اور اس کو سنسر بورڈ کی منظوری حاصل ہے۔ درخواست گذار نے بار بار الزام عائد کیا تھا کہ فلم کا کچھ حصہ نمائش کیلئے پیش کیا جاچکا ہے۔ سپریم کورٹ کی بنچ نے کہا کہ سنسر بورڈ یقینا اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ وہ اس بات کو پیش نظر رکھتے ہیں کہ سنیما ٹوگراف قانون کی خلاف ورزی نہ ہونے پائے۔ یہ ان کا فرض ہے۔ سپریم کورٹ فلم کو نمائش سے روکنے کیلئے مداخلت نہیں کیا کرتی۔ دریں اثناء چندی گڑھ میں ہریانہ بی جے پی نے چیف میڈیا کوآرڈینیٹر سورج پال امو سے انصاری اور پڈوکون کے سر قلم کردینے پر 10 کروڑ روپئے انعام دینے کے اعلان کے بارے میں وجہ بتاؤ نوٹس جاری کردی۔ بی جے پی نے ان کے تبصروں سے دوری اختیار کرلی ہے۔ امو نے کہاکہ انہوں نے یہ تبصرے اپنی شخصی حیثیت میں کئے ہیں اور وہ پارٹی سے مستعفی ہوجائیں گے اگر وہ برداشت نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی برادری کی توہین برداشت نہیں کرسکتے۔ چیف منسٹر یوپی، راجستھان اور مدھیہ پردیش نے کہا کہ فلم کی نمائش کی اجازت نہیں دی جائے گی اگر اس میں تاریخی حقائق کو مسخ کرکے پیش کیا گیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ رانی پدماوتی کو پورا ملک ان کی بہادر فوج کے سپاہیوں کی بناء پر یاد کرتا ہے لیکن فلم میں انہیں بزدل دکھایا گیا ہے۔ مغربی بنگال کی چیف منسٹر ممتابنرجی نے الزام عائد کیا کہ منصوبہ بند طریقے سے آزادی تقریر اور اظہار کو کچلا جارہا ہے۔ سنسر بورڈ کے سربراہ جوشی نے بین الاقوامی فلمی میلے کی افتتاحی تقریب سے گوا میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھنسالی کا بے حد احترام کرتے ہیں لیکن فلم کے بارے میں تنازعہ پیدا ہوگیا ہے جس کو سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ ایک متوازن فیصلہ کیا جاسکے۔ مرکزی وزارت داخلہ نے کہا کہ وہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ مؤرخین کی رائے اس سلسلہ میں منقسم ہے کہ رانی پدماوتی کا وجود تھا بھی یا نہیں۔ افواہیں گرم ہیکہ فلم میں ایک خواب کا منظر پیش کیا گیا ہے جس میں رانی پدماوتی کو علا الدین خلجی سے عشق کرتے دکھایا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT