Friday , January 19 2018
Home / Top Stories / سپریم کورٹ میں 627 بیرونی اکاونٹ ہولڈرس کی فہرست پیش

سپریم کورٹ میں 627 بیرونی اکاونٹ ہولڈرس کی فہرست پیش

نئی دہلی ۔ 29 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ کے احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے مرکز نے آج 627 ہندوستانی شہریوں کی فہرست پیش کی جن کے ایچ ایس بی سی بینک، جنیوا میں اکاونٹس ہیں۔ ان کے پاس مشتبہ کالادھن موجود ہونے کے سلسلہ میں ٹیکس تحقیقات آئندہ سال مارچ تک مکمل کرلی جائے گی۔ حکومت نے آج سربمہر لفافے پیش کئے جس میں فرانس کے حکام کے ساتھ ہوئی

نئی دہلی ۔ 29 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ کے احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے مرکز نے آج 627 ہندوستانی شہریوں کی فہرست پیش کی جن کے ایچ ایس بی سی بینک، جنیوا میں اکاونٹس ہیں۔ ان کے پاس مشتبہ کالادھن موجود ہونے کے سلسلہ میں ٹیکس تحقیقات آئندہ سال مارچ تک مکمل کرلی جائے گی۔ حکومت نے آج سربمہر لفافے پیش کئے جس میں فرانس کے حکام کے ساتھ ہوئی مراسلت، اکاونٹ رکھنے والوں کے نام اور کالادھن مقدمات کے سلسلہ میں اب تک کی تحقیقات سے متعلق موقف رپورٹ شامل ہے۔ یہ تمام تفصیلات علحدہ مہربند لفافوں میں اٹارنی جنرل نے پیش کی ہیں اور عدالت نے ہنوز کشادگی عمل میں نہیں لائی ہے۔

عدالت نے کہا کہ یہ لفافے صدرنشین ایم وی شاہ اور نائب صدرنشین اریجیت پسایات کھولیں گے جو سپریم کورٹ کے سابق ججس ہیں اور وہ عدالت کی جانب سے مقرر کردہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم کا حصہ بھی ہیں۔ وہی مستقبل کے لائحہ عمل کا فیصلہ کریں گے۔ عدالت نے ایس آئی ٹی سے کہا ہیکہ وہ اکاونٹ رکھنے والوں کے خلاف تحقیقات کرتے ہوئے موقف رپورٹ جلد از جلد پیش کرے۔ عدالت نے کہا کہ یہ رپورٹ نومبر کے ختم تک پیش کی جاسکتی ہے۔ مرکز نے اپنا یہ موقف پیش کیا ہیکہ تقریباً نصف اکاونٹ ہولڈرس ہندوستان کے رہنے والے ہیں جن کے خلاف انکم ٹیکس قوانین کے تحت قانونی چارہ جوئی کی جاسکتی ہے اور مابقی این آر آئیز ہیں۔ چیف جسٹس ایچ ایل دتو کی زیرقیادت بنچ کے روبرو پیش ہوتے ہوئے اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے بتایا کہ بعض اکاونٹ ہولڈرس نے پہلے ہی اپنے کھاتوں کی موجودگی اور ٹیکس کی ادائیگی کا اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکاونٹس ہولڈرس کی یہ تفصیلات 2006ء کی ہیں جو فرانس کی حکومت نے مرکز کو 2011ء میں فراہم کی تھی۔

ان میں کئی رقمی معاملتیں 1999ء اور 2000ء کے مابین ہوئی ہیں۔ ان تمام معاملات کا تجزیہ 31 مارچ 2015ء کو مکمل کرلیا جائے گا۔ اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ ایس آئی ٹی ہی اس مسئلہ پر مزید کارروائی کا فیصلہ کرے گی، عدالت نے اس کیس کی آئندہ سماعت 3 ڈسمبر کو مقرر کی ہے۔ وکیل پرشانت بھوشن نے کہا کہ عدالت نے ہدایت دی کہ تمام دستاویزات کو ایس آئی ٹی کے حوالے کیا جانا چاہئے تاکہ ایس آئی ٹی اس کیس پر مناسب فیصلے کرسکے۔ روہتگی نے کہا کہ اس کیس کی جائزہ رپورٹ 31 مارچ 2015ء تک پوری کرلی جائے گی اور سربمہر لفافوں کو ایس آئی ٹی کی جانب سے کھولا جائے گا۔ اس تبدیلی پر تبصرہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے سابق جج سنتوش ہیگڈے نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ اس میں حکومت کا کوئی مقصد پوشیدہ ہے۔ حکومت کو عدالت کے احکام کی تعمیل کرنی تھی اس لئے یہ فہرست پیش کی گئی۔ تاہم اٹارنی جنرل روہتگی نے عدالت سے کہا کہ حکومت کسی کو بچانے کی کوشش نہیں کررہی ہے۔

وزیرفینانس ارون جیٹلی نے بھی یہی کہا ہیکہ حکومت کو عدالت میں فہرست پیش کرنے میں کوئی مشکل یا رکاوٹ نہیں ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے حلف لینے کے بعد پہلے ہی دن کالے دھن کا پتہ چلانے اور اکاونٹ ہولڈرس کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے ریگولیٹری اور سابق ججس پر مشتمل ایک ایس آئی ٹی ٹیم تشکیل دی تھی۔ آج سماعت کی ختم پر چیف جسٹس دتو نے حکومت کے اس مسئلہ پر اختیار کردہ طرزعمل کے بارے میں کل کئے گئے ان کے ریمارکس کا حوالہ دیا اور کہا کہ اگر حکومت (ناموں کے افشاء سے متعلق) احکامات میں ترمیم کی درخواست کے ساتھ بروقت رجوع ہوتی تو ہمیں کل اس طرح کا سخت موقف اختیار کرنا نہیں پڑتا تھا۔

TOPPOPULARRECENT