سپریم کورٹ نے رافیل کی قیمت اور تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ نہیں لیا

کوئی ثبوت نہیں ، کوئی جرح نہیں پھر کلین چٹ کیسی، صرف جے پی سی ہی تحقیقات کرسکتی ہے : کپل سبل

نئی دہلی۔ 15 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس نے آج کہا کہ سپریم کورٹ جس نے رافیل جیٹ کیس میں حکومت کو راحت دی ہے، اس لڑاکا طیارہ کی قیمت اور تکنیکی پہلوؤں سے نہیں نمٹ سکتا اور صرف ایک مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) ہی یہ تحقیقات کرسکتی ہے کہ آیا اس معاملت میں کوئی بے قاعدگی ہوئی ہے۔ کانگریس کے لیڈر کپل سبل نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے جمعہ کو معلنہ فیصلہ کا ایک حصہ دکھایا جس میں کہا گیا ہے کہ مرکز کی طرف سے اس کے روبرو پیش کردہ مواد کا پارلیمنٹ میں انکشاف نہیں کیا جاسکتا۔ لڑاکا طیارہ کی قیمت کی تفصیلات ایوان میں پیش نہیں کی جاسکتی لیکن کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی سے اس کا انکشاف کیا جاسکتا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے یہ بھی کہا ہے کہ سی اے جی رپورٹ کا حتی کہ پارلیمانی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بھی جائزہ لیا تھا۔ اس مسئلہ پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کپل سبل نے کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے صدرنشین ملکارجن کھرکے کو رافیل جیٹ پر ایسی کوئی رپورٹ موصول نہیں ہوئی ہے۔ سبل نے کہا کہ ’’اس کے لئے کون ذمہ دار ہے‘‘۔ یہ کس نے کہا ہے؟ کیا یہ حکومت ہے جس نے یہ کہا ہے؟ اٹارنی جنرل نے حلف نامہ کو کس طرح منظور کیا؟‘کپل سبل نے حکومت پر خود اس کا ہی حلف نامہ نہ پڑھنے پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی سنگین مسئلہ ہے۔ اس معاملے پر فی الفور کوئی کارروائی کی جانی چاہئے کیونکہ عوام میں یہ پیغام پہونچا ہے کہ سی اے جی نے منظوری دی ہے اور پارلیمنٹ نے معاملت کی تفصیلات کو دیکھا ہے جو غلط ہے۔ سبل نے کہا کہ سپریم کورٹ نے نہ تو ان طیاروں کی قیمت اور نہ ہی اس کے تیکنیکی پہلوؤں کی تفصیلات کا جائزہ لیا ہے۔ پھر یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ سپریم کورٹ نے حکومت کو کلین چٹ دی ہے۔ سبل نے سوال کیا کہ ’کیا آپ (حکومت) نے کوئی ثبوت پیش کیا تھا، کوئی (ثبوت) نہیں۔ اگر کوئی جرح بھی نہیں ہوئی تھی تو پھر آپ کو کس نے کلین چٹ دی۔ صرف جلد یا بہ دیر تشکیل دی جانے والی جے پی سی ہی اس کی تحقیقات کرسکتی ہے‘۔

TOPPOPULARRECENT