Thursday , April 19 2018
Home / Top Stories / سپریم کورٹ نے فلم ’پدماوت‘ کی ملک بھر میں نمائش کی اجازت دے دی

سپریم کورٹ نے فلم ’پدماوت‘ کی ملک بھر میں نمائش کی اجازت دے دی

گجرات، راجستھان، ہریانہ اور مدھیہ پردیش کی جانب سے فلم کی نمائش پر پابندی کے نوٹیفکیشن پر عدالت عظمیٰ کا حکم التواء
نئی دہلی 18 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج فلم ’’پدماوت‘‘ پر جاری تنازعہ پر ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے ملک کی چار ریاستوں میں عائد پابندیوں پر حکم التواء جاری کردیا اور ملک کی تمام ریاستوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ بغیر کسی روک ٹوک فلم کی نمائش کی اجازت دے، ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے متعلقہ ریاستوں کو فلم پدماوت کی نمائش کے دوران کسی امکانی گڑبڑ پر قابو پانے کے لئے لاء اینڈ آرڈر کو برقرار رکھنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ چیف جسٹس دیپک مشرا نے اِس حوالہ سے ملک کی دیگر ریاستوں کو بھی فلم پدماوت کے خلاف نوٹیفکیشن جاری کرنے سے باز رہنے کی ہدایت دی ہے۔ جسٹس دیپک مشرا، اے ایم کھانویلکر اور ڈی ائی چندر چوڑ پر مشتمل بنچ نے تمام ریاستوں کو لاء اینڈ آرڈر کی برقراری پر سختی سے ہدایت دی ہے۔ بنچ نے کہاکہ ’’ہم فلم پدماوت پر جاری کئے گئے نوٹیفکیشن پر حکم التواء جاری کرتے ہیں اور دوسری ریاستوں کو بھی اس طرح کی نوٹیفکیشن جاری کرنے سے منع کردیا ہے۔ بنچ نے واضح کیاکہ یہ عبوری حکمنامہ ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے اس موقع پر سخت ریمارک کرتے ہوئے کہاکہ اس قسم کے مسائل اُس وقت پیدا ہوتے ہیں جب اس طرح کی فلموں کی نمائش پر روک لگادی جاتی ہے۔ دستوری اعتبار سے اس پابندی نے مجھے تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ واضح رہے کہ سینئر ایڈوکیٹ ہریش سالوے اور مکل روہتگی نے وی کام 18 اور فلم کے دیگر پروڈیوسرس کی جانب سے عدالت میں پیش ہوتے ہوئے بتایا کہ ملک کی ریاستیں ایک ایسے وقت جب مرکزی فلم سنسر بورڈ (سی بی ایف سی) نے اِس فلم کی نمائش کے لئے سرٹیفکٹ جاری کردیا ہے، تو ملک کی ریاستیں اس پر پابندی عائد کرنے کے لئے نوٹیفکیشن جاری کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔ بنچ نے آئندہ کی سماعت مارچ میں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پروڈیوسرس نے چار ریاستوں گجرات، راجستھان، ہریانہ اور مدھیہ پردیش کی جانب سے فلم کی نمائش کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع ہوئے تھے۔ حکومت ہریانہ، گجرات، مدھیہ پردیش اور راجستھان نے قبل ازیں یہ واضح کردیا تھا کہ اُن کی حکومت فلم پدماوت کی نمائش کی اجازت نہیں دے گا جس میں شاہد کپور، دپیکا پڈکون اور رنویر سنگھ نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ دوسری طرف اڈیشنل سالیسٹر جنرل تشار مہتا جو راجستھان، گجرات اور ہریانہ کی نمائندگی کررہے تھے، عدالت عظمیٰ کو مطلع کیاکہ مذکورہ نوٹیفکیشن صرف گجرات اور راجستھان کی حکومت نے جاری کیا ہے۔ مہتا نے عدالت پر زور دیا کہ اِس مسئلہ پر کل یا پھر 22 جنوری تک سماعت مکمل کرلی جائے تاکہ متعلقہ ریاستیں عدالتی احکام کے مطابق لائحہ عمل مرتب کرسکیں۔ انھوں نے کہاکہ اس طرح کی انٹلی جنس اطلاعات ہیں کہ فلم کی نمائش کے ردعمل میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال خراب ہوسکتی ہے اور جس وقت مرکزی سنسر بورڈ نے اِس فلم کو نمائش کی اجازت دی تھی ممکن ہے کہ اُن کے ذہن میں یہ پہلو نہ آیا ہو۔ اُنھوں نے کہاکہ ہمارے ملک میں اظہار رائے کی آزادی کا غلط استعمال کئی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT