Friday , October 19 2018
Home / Top Stories / سپریم کورٹ نے پندرہ دنوں کا دروازہ بند کرکے سارے کھیل بگاڑدیا۔ سنگھوی

سپریم کورٹ نے پندرہ دنوں کا دروازہ بند کرکے سارے کھیل بگاڑدیا۔ سنگھوی

سنگھوی کانگریس کے قانونی دماغوں میں سے ایک ہیں جنھوں نے نہایت آہستگی کے ساتھ سپریم کورٹ میں حکومت کی تشکیل کے یدی یوراپا کو گورنر وجو بھائی والا کی جانب سے مدعو کئے جانے کے فیصلے کو چیالنج کیا تھا ’ جو اکثریت پیش نہ کرنے کی صورت میں گر بھی گئی۔

نئی دہلی۔کرناٹک کو بھارتیہ جنتا پارٹی سے بچانے کے لئے کانگریس کی جانب سے لڑی گئی قانونی لڑائی کے محرک ابھیشک سنگھوی کے مطابق بی ایس یدی یوراپا کو کرناٹک اسمبلی میں اپنی اکثریت پیش کرنے کے لئے دئے گئے پندرہ دنوں کے وقت میں کمی کے سپریم کورٹ کے فیصلے اور ایک روز میں اکثریت ثابت کرنے کی ہدایت نے سارے کھیل بدل کر رکھ دیا ہے۔

سنگھوی کانگریس کے قانونی دماغوں میں سے ایک ہیں جنھوں نے نہایت آہستگی کے ساتھ سپریم کورٹ میں حکومت کی تشکیل کیلئے یدی یوراپا کو گورنر وجو بھائی والا کی جانب سے مدعو کئے جانے کے فیصلے کو چیالنج کیا تھا ’ جو اکثریت پیش نہ کرنے کی صورت میں گر بھی گئی۔

والا نے یدی یوراپا کو ایوان میں اپنی اکثریت دیکھنے کے لئے پندرہ دنوں کا وقت دیا تھا ۔ پندرہ دنوں کی طویل مدت مخالفین کے لئے خوف پیدا کررہی تھی کہ بی جے پی اس دوران کچھ بھی دھاندلیاں کرسکتی ہے۔ہفتہ کے روز اعتماد کے ووٹ کا سامنا کئے بغیر یدی یوراپا کے استعفیٰ پیش کرنے کے بعد ہندوستان ٹائمز سے بات کرتے ہوئے سنگھوی نے کہاکہ ’’ یقیناًسپریم کورٹ کے احکامات نے کھیل بدل دیا۔ بنچ نے اصولوں پر بات کی ۔

اور ہم نے بھی اس کو صحیح انداز میں قبول کیا‘‘۔سنگھوی نے ایچ ڈی کو دئے گئے انٹرویو میں کہاکہ ’’ بنچ نے مجھ سے خاص طور پر ( جمعرات کے روز) پوچھا کہ کیا وہ اس معاملے پر تین چار دنوں تک تبصرہ چاہتے ہیں یا پھرآپ دو دن کے اندر ٹرسٹ ووٹ کے عمل کو قطعیت دینے کے خواہاں ہیں۔ میں نے قبول کرلیا۔ پتہ نہیں یہ کہاں تک جاری رہتا؟۔ ہماری تعداد پر ہمیںیقین تھا مگر بی جے پی ہمارے کچھ ایم ایل ایز کو حاصل کرنا چاہ رہی تھی۔

میں نے عدالت سے کہاکہ یہ غلط بات ہے کہ ایسی صورت میں گورنر نے پندرہ دنوں کا وقت دیا ہے‘‘۔جمعہ کے روز عدالت کے عظمی ٰ نے یدی یوراپا سے کہاکہ وہ ہفتہ کے روز 4بجے تک ایوان میں اعتماد کا ووٹ حاصل کریں۔

کانگریس کے لئے جیت کرناٹک میں’’ بڑی کامیابی ہے‘‘ جو گوا ‘ منی پورا او رمیگھالیہ میں جہاں پر اکثریت میں رہنے کے باوجود اور ایوان کی واحد بڑی جماعت کا درجہ ملنے کے بعد بھی بی جے پی انتخابات کے بعد اتحاد سے اپنی حکومت تشکیل دیدی ہے۔سنگھوی نے کہاکہ ’’ عادی سیاست کا حصہ بن گئی مہم پر عدالت کا یہ فیصلہ ایک کارضرب ہے‘‘۔ کرناٹک اسمبلی میں پیش ائے واقعہ کو سنگھوی نے ذاتی طور پر حوصلہ افزاء قراردیا ۔

TOPPOPULARRECENT