Sunday , December 17 2017
Home / مضامین / سپریم کورٹ کا ایک اور اہم اقدام

سپریم کورٹ کا ایک اور اہم اقدام

 

غضنفر علی خان
ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے مویشیوں کی خرید و فروخت کے بارے میں پابندی سے متعلق مرکزی حکومت کے نئے قانون کے نفاذ کو ملتوی کردیا ہے ۔ اس طرح سے حکومت کو ایک اور قانونی جنگ ہارنے پرمجبور کردیا ہے ۔ اگرچیکہ یہ فیصلہ ایک طرح سے حکم التواء ہے لیکن اس کا اثر ملک کی ساری آبادی پر پڑے گا ۔ قانون یہ بنایا گیا تھا کہ ذبیحہ کے لئے جانوروں کی مویشیوں کی ما رکٹ میں خرید و فروخت نہیں ہوسکتی ۔ اصل بات یہ ہے کہ مرکزی حکومت نے کچھ سوچے سمجھے بغیر یہ متنازع اور ناقابل عمل قانون بنایا تھا ۔ گاؤ رکھشکوں کو اس قانون سے مدد ملی تھی اور ان رکھشکوں نے پچھلے چند ماہ میں 22 زندہ انسانوںکو مارپیٹ کر کے ہلاک کردیا ۔ یہ بات بھی سپریم کورٹ کے فیصلہ میں ملحوظ رکھی گئی ۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو سارے ملک میں ایک ایسی صورتحال پیدا ہوجائے گی جو اس کی معیشت اور قوم کی حیثیت سے ملک میں خون خرابہ کا ماحول پیدا ہوجائے گا ۔ معیشت پر اس کے اثرات تو ناقابل بیان حد تک مرتب ہوسکتے تھے ۔ ہندوستان جانوروں کے گوشت ان کی کھالوں کی برآمدات کرنے والا دنیا بھر میں صف اول کا ملک ہے ، یہ ایک بڑی اور نہایت مضبوط صنعت ہے ۔ اس سے کروڑہا افراد کا روزگار وابستہ ہے ۔ ان تمام حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے حکومت نے یہ امتناع عائد کردیا تھا جس پر ملک کے مختلف حصوں میں کہرام مچ گیا تھا ۔ عام آدمی سے لیکر ماہرین قانون سیاست داں سبھی اس کی مخالفت میں اتر آئے تھے اور مدراس ہائی کورٹ کے مدورائی بنچ نے 23 مئی 2017 ہی کو اس قانون پر عمل آوری کے خلاف حکم التواء جاری کردیا تھا ۔ اب سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کو بنیاد بناتے ہوئے ایک ایسا قدم اٹھایا ہے جس کے دور رس اثرات ملک پر اور خاص طور پر اس کی معیشت پر مثبت انداز میں پڑیں گے۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ میں یہ بھی واضح کردیا گیا ہے جبکہ اس کے حکم التواء پر عمل سارے ملک میں ہوگا۔ جس شدت سے مرکز نے اس متنازع قانون کو نافذ کرنے کا عزم کیا تھا ، اس شدت سے اس کے خلاف التوائی عدالتی احکامات مرکزی حکومت کی ایک اور شکست کی علامت ہے ۔

یہ بات مرکزی حکومت کو ملحوظ رکھنی چاہئے تھی کہ خود مرکزی کابینہ کے مملکتی وزیر داخلہ نے بھی صاف طور پر کہا تھا کہ وہ گائے کا گوشت استعمال کرتے ہیں لیکن حکومت نے اس کو اہمیت نہیں دی ہے ۔ مرکزی مملکتی وزیر کے علاوہ کیرالا کے چیف منسٹر نے بھی کھل کر اور تمام مصلحتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کہا تھا کہ قانون کے خلاف عدالت سے رجوع ہوں گے ۔ متنازعہ قانون ابتداء ہی سے باہمی اختلافات کا شکار رہا۔ بی جے پی حکومت کا یہ دعویٰ کہ اس قانون کو عوام کی تائید حاصل ہے ، یکسر غلط تھا اور رہے گا ۔ سپریم کورٹ کے بنچ نے جو چیف جسٹس آف انڈیا جے ایس کھیر اور جسٹس ڈی وائی چندرا چد پر مشتمل تھا ، ان پیچیدگیوں اور عوامی جذبات کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے حکم التواء میں واضح طور پر کہا ہے کہ سارے ملک میں ہوگا۔ اب ان ریاستوں میں جہاں بی جے پی حکمراں ہے ، اس التواء کی خلاف ورزی کی ہمت نہیں ہوگی۔ اگر اب بھی کسی ریاست میں اس حکم ا لتواء پر عمل آوری میں کوئی رکاوٹ پیدا کی جاتی تو مرکز یہ کہہ کر اپنا دامن نہیں بچا سکتا کہ لاء اینڈ آرڈر ریاستی حکومتوں کے دائرہ اختیار میں ہے ۔ اس سپریم کورٹ کے فیصلہ نے پھر ایک بار ثابت کردیا ہے کہ ملک میں قانون کی حکمرانی ہے اور حکومت یا اس کے چند افراد اپنی من مانی نہیں کرسکتے ۔ خاص طور پر اترپردیش کی ریاستی حکومت کو زیادہ محتاط رویہ اختیار کرنا پڑ ے گا کیونکہ وہاں یوگی آدتیہ ناتھ کی سرکار ہے جو ہندو قوم کی سب سے بڑی نقیب بن گئی ہے۔ ملک کی سب سے بڑی ریاست ہونے کے ناطے یہاں امن و قانون کی صورتحال کبھی بھی بگڑسکتی ہے ۔ سپریم کورٹ کے اقدام نے یہ بھی ثابت کردیا ہے کہ قانون اپنا کام کرتا رہے گا ۔ کوئی حکومت انصاف کے طالب کسی فرد یا تنظیم کو اس کی ذات پات اور مذہبی عقیدہ کی بنیاد پر انصاف رسانی سے محروم نہیں کرسکتی ۔ یہ تاثر بھی پیدا ہوا ہے کہ عدالتیں اپنے فیصلوں میں مکمل طور پر آزاد ہیں۔ قانون کی نگہداشت اور اس کے جائز نفاذ کی ذمہ داری عدلیہ پر ہے ۔ اب اگر بی جے پی یا ہندوتوا کے حامی یہ کہیں گے کہ وہ قانون سے بالاتر ہیں تو یہ ان کی ناسمجھی ہوگی ۔ قانون اور عدالتیں ہمارے ملک کی جمہوریت اس کے سیکولرازم اس کی یکجہتی کی ہمیشہ محافظ رہی ہے اور عدلیہ کا یہ عمل ہر دور ہر حکومت میں رہا ہے جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ قانون کی حکمرانی ہی ملک کی دستوری حیثیت کو برقرار رکھ سکتی ہے ۔ گاؤ رکھشکوں کو بھی اس حکم التواء سے سپریم کورٹ کے اس منصفانہ اقدام سے پیام ملا ہے کہ کوئی فرد یا گروہ قانون کی بالادستی سے انکار نہیں کرسکتا ۔ جانوروں سے متعلق اس متنازع قانون کا نفاذ اس کی موجودہ شکل میں تو نہیں ہوسکتا ، مشہور وکیل اور کانگریس کے لیڈر کپل سبل نے تو مقدمہ کی سماعت کے دوران یہ واضح کردیا ہے کہ ہم صرف مرکزی حکومت سے یہ تیقن چاہتے ہیں کہ وہ قواعد جو قانون میں بنائے گئے ہیں۔ اپنی موجودہ شکل میں نافذ نہیں کئے جاسکتے، آل انڈیا جمعیت القریش کے صدر اور وکیل عبدالنعیم قریشی نے جن کا تعلق ہمارے شہر حیدرآباد سے ہے اور جو اس قانون کے نفاذ کی مخالفت کررہے تھے، اس قانون نے جس کے نفاذ کے خلاف سپریم کورٹ نے التوائی حکم جاری کیا ہے، اس کو غیر دستوری اور غیر قانونی قرار دیا جانا چاہئے ۔ سابق مرکزی وزیر اور سپریم کورٹ کے وکیل سلمان خورشید نے کہا کہ موجودہ شکل میں اس قانون کا نفاذ ملک کی برآمدات پر مضر اثرات ڈالتے، خاص طور پر گوشت اور جانوروں کی کھال کی تجارت ختم ہوجائے گی ۔ مودی حکومت نے پہلے ان تمام باتوں پر کیوں غور نہیں کیا؟ کیوں مسئلہ کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لئے بغیر ایک عجیب و غریب قانون مدون کیا اور اس کے نفاذ میں عجلت کی ہے، وہ حکومتیں جو مسائل کا پختہ شعور نہیں رکھتی ہیں، وہ طویل عرصہ تک نہیں چلتیں۔ بی جے پی کی مودی حکومت بھی اس غبارہ کی طرح ہے جو ہوا میں اُڑا رہا ہے لیکن معمولی سی ٹھیس بھی اس کی ہوا اتار سکتی ہے ۔ وزیراعظم مودی تو بیرونی دوروں میں اپنا زیادہ وقت دیتے ہیں، اس کا ان کو اندازہ نہیں ہے ۔ ملک میں کہاں سیلاب آیا ہے ، کہاں بارش کی کمی ہے اور خشک سالی کا خدشہ پیدا ہورہا ہے ، ملک کی داخلی صورتحال کیسی ہے ، کیوں مسلم طبقہ کے افراد کو دن دھاڑے ریل کے ڈبہ میں ہلاک کردیا جاتا ہے ، کیوں کسی علیم الدین کو اس کی ویان جلاکر اور خود اس کو ضربات پہنچاکر موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے ۔ اس کی فکر وزیراعظم کو نہیں ہے ۔ انہیں تو صرف ان سرخ قالینوں پر چلنے کی فرصت ہے جو ان کے خیرمقدم میں بیرونی ممالک میں بچھائی جاتی ہیں۔ ملک کے اندر کیوں انسانوں کو ہلاک کیا جارہا ہے ؟ کیوں انسان خاص طور پر مسلمان کی اوقات اتنی کم ہوگئی ، ان مسائل پر غور و فکر کرنے کی وزیر اعظم میں ہمت ہی نہیں ہے ۔

TOPPOPULARRECENT