Thursday , January 17 2019

سپریم کورٹ کا رافیل حکم نامہ کرپشن کا الزام لگانے والوں کیلئے طمانچہ : بی جے پی

نئی دہلی۔14 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) رافیل معاملت کی تحقیقات کی استدعا کے ساتھ داخل کردہ عرضیوں کو سپریم کورٹ سے خارج کردینے پر بلند حوصلہ صدر بی جے پی امیت شاہ نے آج اس حکم نامہ کو ’’سچائی کی فتح‘‘ قرار دیا اور کانگریس سربراہ راہول گاندھی سے معذرت کا مطالبہ کیا ہے۔ امیت شاہ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ کرپشن کا الزام لگانے والوں کے منہ پر طمانچہ ہے۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی قیادت والی سپریم کورٹ بنچ نے آج کہا کہ فرانس سے 36 رافیل جیٹ طیاروں کی حصولیابی کے فیصلہ سازی عمل میں شبہ کا کہیں موقع نہیں ہے۔ قیمتوں کی تقابلی تفصیلات سے نمٹنا عدالت کی ذمہ داری نہیں ہے۔ امیت شاہ نے 58 ہزار کروڑ روپئے کے معاملت کے بارے میں پارلیمنٹ میں مباحث کے لیے اپوزیشن پارٹی کو چیلنج کیا اور کہا کہ بی جے پی مباحث کے لیے جتنا وقت چاہے اتفاق کرے گی جبکہ اپوزیشن نے معاملہ کی جے پی سی اینکوائری کے لیے اپنے مطالبہ کا اعادہ کیا ہے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ آتے ہی اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال، مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے ساتھ ساتھ ریلائنس گروپ چیرمین انیل امبانی نے بھی اس کا خیرمقدم کیا ہے۔ تاہم کانگریس لیڈر جیوتر آدتیہ سندھیا نے کہا کہ سپریم کورٹ کا حکومت کو رافیل معاملت پر کلین چٹ دینا کوئی جھٹکہ نہیں ہے کیوں کہ یہ مسئلہ عوام کی عدالت میں بدستور زندہ ہے اور کانگریس اسے پارلیمنٹ میں اٹھائے گی۔ اٹارنی جنرل نے عدالتی فیصلے کو نہایت عمدہ بتاتے ہوئے کہا کہ اس نے نریندر مودی حکومت کو بے قصور قرار دیا ہے۔ راج ناتھ سنگھ نے لوک سبھا میں مطالبہ کیا کہ صدر کانگریس راہول گاندھی رافیل مسئلہ پر ملک کو گمراہ کرنے پر ایوان میں معذرت خواہی کریں۔ انیل امبانی نے کہا کہ عدالتی فیصلے سے ان کی فرم کے خلاف سیاسی مقصد براری کے الزامات کا جھوٹ ثابت ہوگیا ہے۔ رافیل تیار کرنے والی فرانسیسی کمپنی ڈسالٹ ایویشن نے ذیلی کاموں کی انجام دہی کے سلسلہ میں امبانی کے ریلائنس ڈیفنس لمیٹیڈ (آر ڈی ایل) کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ کانگریس یہ الزام عائد کرتی آئی ہے کہ حکومت نے ڈسالٹ ایویشن پر دبائو ڈالا کہ آر ڈی ایل کو اپنے پارٹنر کے طور پر منتخب کرے۔ حکومت، آر ڈی ایل اور ڈسالٹ ایویشن نے ایسے الزامات کی تردید کی ہے۔ امبانی نے کہا کہ ہم ہندوستان کی قومی سلامتی کی برقراری کے پابند عہد ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT