Friday , November 24 2017
Home / Top Stories / سپریم کورٹ کا فیصلہ متضاد : مولانا ولی رحمانی

سپریم کورٹ کا فیصلہ متضاد : مولانا ولی رحمانی

مسلم پرسنل لاکے تحفظ کا اعتراف، مسلمانان ہند کی فتح
نئی دہلی۔ 22 اگست:(سیاست ڈاٹ کام) طلاق، تعدد ازدواج اور حلالہ سے متعلق ملک کی سب سے بڑی عدالت (سپریم کورٹ) میںجاری مقدمہ کا فیصلہ باہم ٹکرارہا ہے، سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ پرسنل لا پورے طور پر محفوظ رہے گا، وہ آئین ہند کی دفعہ 25کے دائرے میں آتا ہے ،فیصلہ کا یہ حصہ تمام مسلمانان ہند کی کامیابی ہے، سپریم کورٹ کایہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ شرعی احکام مسلم پرسنل لا کا حصہ ہیں، اور ان میں ترمیم یا اضافہ کا حق کورٹ کو حاصل نہیںہے، سپریم کورٹ کے تازہ فیصلہ سے متعلق ان خیالات کااظہار آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈکے جنرل سکریٹری حضرت مولانا محمد ولی صاحب رحمانی مدظلہ نے فرمایا: انہوںنے فرمایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے دوسرے حصے میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ تین طلاق واقع نہیں ہوگی، اس لحاظ سے یہ فیصلہ باہم ٹکرارہا ہے،ایک طرف کورٹ کہہ رہا ہے کہ پرسنل لا میں تبدیلی نہیںہوسکتی، اور دوسری طرف تین طلاق کو بے اثر قرار دے رہا ہے، فیصلہ کے دوسرے حصہ سے بددل یا مایوس ہونے کی ضرورت نہیںہے، ایک مجلس میں تین طلاق کو شریعت نے پسند نہیں کیا ہے،اور اسے گناہ قراردیا گیاہے، لیکن اگر کوئی تین طلاق دیدے تو طلاق ہوجائے گی، یہ بھی مسلم پرسنل لا کا حصہ ہے، سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے تناظر میں حضرت مولانا محمدولی صاحب رحمانی جنرل سکریٹری بورڈ نے فرمایا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ نے بھر پور تیاری کے ساتھ یہ مقدمہ لڑا ، بہترین وکلاء کے ذریعہ بورڈ نے اپنا موقف پوری مضبوطی کے ساتھ کورٹ کے سامنے پیش کیا، متعدد مرتبہ نامور علماء اور ماہر وکلاء کے درمیان مشورہ ہوا، اور بورڈنے طویل غور وخوض کے بعد ملکی اور شرعی قوانین کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنے دلائل کورٹ کے سامنے پیش کیے ،کورٹ میں جو بحث بورڈ کی جانب سے پیروی کرنیوالے وکلاء نے کی وہ بھی بہت واضح ، مدلل اور مکمل تھی۔ خود فیصلے میں ججوں کی رائے میں بھی اختلاف ہے، مگر بورڈسپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتا ہے۔

دارالعلوم دیوبند، مسلم پرسنل لا بورڈ کیساتھ :مفتی نعمانی
دیوبند۔22اگست(سیاست ڈاٹ کام) طلاق ثلاثہ کے معاملے میں سپریم کورٹ کی طرف سے آئندہ چھ ماہ کیلئے روک لگا دیئے جانے کے بعد دارالعلوم دیوبند کی جانب سے بڑا بیان آیا ہے۔دارالعلوم دیوبند، بورڈ کے فیصلے کی تائید کریگا، دارالعلوم دیوبند کے مہتمم کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو لے کر وہ مسلم پرسنل لا بورڈ کیساتھ ہیں، جیسا بورڈ فیصلہ کرے گا اس پر ہی دارالعلوم حمایت کریگا، دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابو القاسم نعمانی کے حوالے سے ترجمان اشرف عثمانی کا کہنا ہے کہ ابھی تک دارالعلوم کے پاس سپریم کورٹ کے فیصلے کی کوئی کاپی نہیں آئی ، لہذا اس معاملے میں کچھ بھی بولنا منصفانہ نہیں ہو گا، انہوں نے بتایا کہ جب تک کورٹ کے فیصلے کی کاپی دارالعلوم کو حاصل نہیں ہو جاتی ہے، اس وقت تک دارالعلوم سپریم کورٹ کے فیصلے پر کوئی رائے نہیں دیگا، انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو لے کر دارالعلوم مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ساتھ ہے۔

مسلم پرسنل لابورڈ کا 10 ستمبر کو بھوپال میں اجلاس
ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں مستقبل کی حکمت عملی کو قطعیت: ظفریاب جیلانی
لکھنؤ 22 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے طلاق ثلاثہ سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر اپنی مستقبل کی حکمت عملی کو قطعیت دینے کے لئے 10 ستمبر کو بھوپال میں ورکنگ کمیٹی کا اجلاس طلب کیا ہے۔ یہ اجلاس پہلے ہی طلب کیا جاچکا تھا تاہم گزشتہ روز اس کے ایجنڈہ کا اعلان کیا گیا۔ بورڈ کی ورکنگ کمیٹی کے ایک رکن ظفریاب جیلانی نے تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہاکہ ’’ورکنگ کمیٹی کا اجلاس 10 ستمبر کو بھوپال میں منعقد ہوگا جس میں سپریم کورٹ کی طرف سے آج صادر کردہ فیصلہ کا بغور تفصیلی جائزہ لینے کے بعد مستقبل کی حکمت عملی کو قطعیت دی جائے گی‘‘۔ ظفر یاب جیلانی نے جو ایک سینئر ایڈوکیٹ بھی ہیں، کہاکہ مجوزہ اجلاس میں اہم موضوع اگرچہ سپریم کورٹ کا فیصلہ رہے گا لیکن دیگر مسائل پر بھی غور و خوض کیا جائے گا۔ بابری مسجد مقدمہ کی سماعت پر غور و بحث بھی بھوپال اجلاس کے ایجنڈہ میں شامل ہے۔ ایک سوال پر جیلانی نے کہاکہ عدالت عظمیٰ کے فیصلہ کا تفصیلی جائزہ لئے بغیر اس پر تبصرہ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT