Saturday , June 23 2018
Home / Top Stories / سپریم کورٹ کو کالا دھن ملک واپس لانے میں زیادہ دلچسپی

سپریم کورٹ کو کالا دھن ملک واپس لانے میں زیادہ دلچسپی

نئی دہلی ۔ 20 ۔ جنوری (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج کہا ہے کہ اسے بیرون ممالک میں جمع کالا دھن ملک واپس لانے میں زیادہ دلچسپی ہے۔ غیر ملکی بینکوں میں غیر قانونی اکاؤنٹس رکھنے والوں کے ناموں کے انکشاف سے زیادہ وہ کالا دھن ملک واپس لانا چاہتی ہے۔ چیف جسٹس ایچ ایل دتو کی زیر قیادت بنچ نے آج بحث کے دوران اس وقت یہ ریمارک کیا جب اس بات پر ز

نئی دہلی ۔ 20 ۔ جنوری (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج کہا ہے کہ اسے بیرون ممالک میں جمع کالا دھن ملک واپس لانے میں زیادہ دلچسپی ہے۔ غیر ملکی بینکوں میں غیر قانونی اکاؤنٹس رکھنے والوں کے ناموں کے انکشاف سے زیادہ وہ کالا دھن ملک واپس لانا چاہتی ہے۔ چیف جسٹس ایچ ایل دتو کی زیر قیادت بنچ نے آج بحث کے دوران اس وقت یہ ریمارک کیا جب اس بات پر زیادہ اصرار کیا جانے لگا کہ حکومت کو ان ناموں کا انکشاف کرنا چاہئے جنہوں نے بیرونی ممالک میں غیر قانونی اکاؤنٹس موجود ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ بنچ نے کہا ہے کہ ’’ہمیں رقم واپس لانے میں دلچسپی ہے، ناموں کے انکشاف میں نہیں‘‘۔ تاہم بنچ نے نامور وکیل رام جیٹھ ملانی کی درخواست کو قبول کرلیا۔ اس بنچ میں جسٹس ایم بی لوکور اور جسٹس اے کے سکری بھی شامل ہیں۔ رام جیٹھ ملانی اس معاملہ میں درخواست گزاروں میں ایک ہے۔ انہوں نے یہ اپیل کی تھی کہ سپریم کورٹ کی جانب سے صدرنشین جسٹس ایم بی شاہ کی زیر قیادت تشکیل دی گئی۔ اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم کالا دھن واپس لانے کیلئے مختلف تجاویز پر غور کرے۔بنچ نے کہا کہ ہم تمام فریقین بشمول درمیانی افراد کو اجازت دیتے ہیں کہ وہ اندرون دو ہفتہ اپنی تجاویز ایس آئی ٹی کو پیش کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایس آئی ٹی صدرنشین اور نائب صدرنشین سے خواہش کی جاتی ہے کہ وہ ان درخواستوں کا قانون کے مطابق جائزہ لیں اور اس معاملہ میں تمام پہلوؤں پر مبنی رپورٹ کی ایک نقل مہر بند لفافے میں عدالت کو پیش کریں۔ بنچ نے یہ وضاحت کی کہ رام جیٹھ ملانی کی تجویز کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ ایس آئی ٹی کو اس پر غور کرنا ہوگا۔ رام جیٹھ ملانی کے وکیل اور سینئر ایڈوکیٹ انیل دیوان نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران ایک روپیہ بھی ملک میں واپس نہیں لایا گیا اور صرف تلاشی و جائیدادیں ضبط کرنے کا کام کیا جارہا ہے۔ اس دوران بی جے پی کے برطرف رکن رام جیٹھ ملانی نے آج سپریم کورٹ میں کالا دھن مسئلہ پر این ڈی اے حکومت کے خلاف شدید برہمی کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ مسودہ قانون جو تیار کیا گیا تھا، اور وزیراعظم نریندر مودی کو روانہ کیا گیا ، اس پر اب تک عمل نہیں ہوا ہے ۔ نامور وکیل کی یہ برہمی اس وقت دیکھنے میں آئی جب چیف جسٹس ایچ ایل دتو کی زیر قیادت بنچ نے کالا دھن معاملہ پر ان کی درخواست پر حکم جاری کیا ۔ جیٹھ ملانی نے بنچ سے اجازت طلب کی اور غیر ملکی بینکوں میں جمع کالا دھن واپس لانے کے سلسلہ میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران حکومت کی کوششوں پر برہمی کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے رویہ سے وہ ناراض ہیں۔ وہ یہاں پر اپنی رقم بازیاب کرانے کیلئے موجود نہیں ہیں بلکہ یہ رقم قومی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون سازی کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا۔ ایس آئی ٹی نے رام جیٹھ ملانی سے قانون سازی کا مسودہ تیار کرنے کی خواہش کی تھی ۔ انہوں نے اسے ایس آئی ٹی اور وزیراعظم کو روانہ کیا لیکن افسوس کا پہلو ہے کہ اب تک وزیراعظم نے اس بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہا ہے ۔ انہوں نے اسے صرف وزارت فینانس کے حوالے کردیا ۔ وہ موجودہ حکومت سے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ قانون سازی کی ضرورت ہے یا نہیں؟

TOPPOPULARRECENT