Thursday , September 20 2018
Home / Top Stories / سپریم کورٹ کی کارکردگی پرسینئرجج کا اظہار تشویش

سپریم کورٹ کی کارکردگی پرسینئرجج کا اظہار تشویش

سابق مرکزی وزیر کی درخواست مفاد عامہ کی سماعت سے گریز ‘ سپریم کورٹ کے سینئر ترین جسٹس چلمیشور کا اقدام

نئی دہلی ۔ 12اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس چلمیشور نے آج ایک بار پھر سپریم کورٹ کی کارکردگی کے بارے میں اظہار تشویش کیا ۔ انہوں نے سابق مرکزی وزیر قانون شانتی بھوشن کی مقدمات مختص کرنے کیلئے رہنمایانہ خطوط کے تعین کی درخواست مفاد عامہ کی سماعت سے عملی طور پر گریز کرتے ہوئے اس کو سماعت کے مقدمات میں شامل کرنے کی ہدایت نہیں دی ۔ چیف جسٹس آف انڈیا کی زیر قیادت بنچ نے کہا ’’ ہم اس کا جائزہ لیں گے ‘‘ شانتی بھوشن نے ابتدائی طور پر کہا تھا کہ معاملہ جسٹس چلمیشور کے سپرد کردیا گیا ہے اور یہ ہنگامی صورتحال کا معاملہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ درخواست مفاد عامہ جس میں ماسٹر آف روسٹر کے نظریہ کو چیلنج کیا گیا ہے اور چیف جسٹس آف انڈیا اس کی سماعت نہیں کرسکتے ۔ جسٹس چلمیشور نے کہا کہ وہ اس معاملہ کی سماعت نہیں کرنا چاہتے اور اس کی وجوہات کافی نمایاں ہیں ۔ ان کی تبصرے اس پس منظر میں سامنے آئے ہیں کہ حال ہی میں انہوں نے دو مکتوبات وصول کئے تھے جن میں سے ایک جسٹس کورئین جوزف نے سپریم کورٹ کے اُمور کے بارے میں تحریر کیا تھا اور الزام عائدک یا تھا کہ عاملہ عدلیہ کے اُمور میں مداخلت کررہا ہے ۔ جسٹس چلمیشور نے آج کہا کہ وہ چند دن قبل ایک مکتوب سپریم کورٹ کے اُمور اور ملک کی صورتحال کو اُجاگر کرتے ہوئے تحریر کرچکے ہیں ۔ کوئی نہ کوئی اس کے خلاف انتھک کوشش کررہا ہے ‘ ان کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کیا گیا ہے کہ وہ کسی چیز پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور وہ اس کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں کرسکتے ۔ انہوں نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ برائے کرم میری مشکل کو سمجھیں ‘ جسٹس چلمیشور نے شانتی بھوشن سے کہا کہ ملک ہر چیز اس وقت سمجھ لے گا جب کہ حالات اس کے سامنے آئیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ اپنے ایک اور حکم سے آئندہ 24گھنٹے کے اندر دستبرداری اختیار کرلیں ۔ میں ایسا کیوں نہیں کرسکتا اس کیلئے میری مشکل کو سمجھیں ۔ وہ واضح طور پر ان کی زیرقیادت ایک بنچ کے حکم نامہ کو برعکس کرنے کا حوالہ دے رہے تھے جو گذشتہ سال 10نومبر کو چیف جسٹس آف انڈیا نے کیا تھا ۔ چلمیشور کی بنچ نے حکم دیا تھا کہ ایک وسیع تر بنچ جس میں پانچ سینئر ترین جج شامل ہوں عدلیہ کی جواب دہی اور اصلاحات سے متعلق ایک این جی او کی مہم کے بارے میں درخواست مفاد عامہ کی سماعت کرنے کی گذارش کرتے ہوئے مبینہ میڈیکل ایڈمیشن اسکام کا تذکرہ کیا گیا تھا ۔ چیف جسٹس آف انڈیا زیرقیادت بنچ نے اس کے بعد کہا تھا کہ کیونکہ چیف جسٹس ماسٹر آف روسٹر ہیں ‘ وہی اختیار رکھتے ہیں کہ بنچیں تشکیل دیں ۔ دو ججس میںسے کوئی بھی یا تین ججس پر مشتمل بنچ معاملہ اپنے طور پر اپنے آپ کیلئے مختص نہیں کرسکتی اور نہ کوئی بنچ تشکیل دینے کے احکامات دے سکتی ہے ۔ چیف جسٹس کی زیرقیادت سپریم کورٹ کی بنچ نے کل پھر فیصلہ سنایا کہ چیف جسٹس آف انڈیا ’’ مساوی افراد میں سے اولین شخص ‘‘ ہیں اور اُن کا موقف منفرد ہے کیونکہ وہ ’’ خصوصی اختیارتمیزی ‘‘ رکھتے ہیں کہ مقدمات مختص کریں اور مقدمات کی سماعت کیلئے بنچس تشکیل دیں ۔ جاریہ سال 12جنوری کو انتباہ دیا گیا تھا کہ جمہوریت خطرہ میں ہے ۔ سپریم کورٹ کے چار سینئر ججس جسٹس چلمیشوری ‘ جسٹس رنجن گوگوئی ‘ جسٹس ایم پی لوکر اور جسٹس کورئین جوزف نے عملی اعتبار سے چیف جسٹس کے کئے ہوئے سوالات کے خلاف بغاوت کی تھی ۔

TOPPOPULARRECENT