Saturday , December 15 2018

سپریم کورٹ کی ہدایات کے باوجود باغ عامہ میں مذہبی ڈھانچہ کی تعمیر

حکام اور پولیس کی خاموشی نئے فتنہ کا باعث، بزرگ شہریوں کا اظہارتشویش

حکام اور پولیس کی خاموشی نئے فتنہ کا باعث، بزرگ شہریوں کا اظہارتشویش
حیدرآباد ۔ 29 مارچ ۔ سپریم کورٹ نے گذشتہ سال ایک تاریخی رولنگ دیتے ہوئے مرکزی و ریاستی حکومتوں کو حکم دیا تھا کہ کسی بھی سرکاری اراضی پر مندر، مسجد، گردوارہ، گرجا گھر یا دیگر مذہبی ڈھانچہ تعمیر کرنے کی اجازت نہ دیں۔ عدالت عظمیٰ نے قیمتی سرکاری اراضیات پر مفاد پرست و ناعاقبت اندیش عناصر کی جانب سے بناء خوف و خطر کئے جارہے ناجائز قبضوں کا سنجیدہ نوٹ لیتے ہوئے سرکاری اراضیات پر مذہبی ڈھانچوں کی تعمیر پر ایک طرح سے پابندی عائد کردی لیکن نقص امن کے خواہاں اور قانون کے دشمنوں نے سپریم کورٹ کی ہدایات کو نظرانداز کردیا۔ باغ عام اور پھر باغ عامہ (پبلک گارڈن) کی حیدرآباد میں اپنی ایک منفرد پہچان ہے۔ قلب شہر میں واقع اس باغ کو 1846 میں آصف سابع نواب میر عثمان علی خاں صدیقی بہادر نے تعمیر کروایا تھا۔ چنانچہ اس باغ کو ہمارے شہر کا قدیم ترین باغ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ اس باغ میں حضور نظام کے دور میں 1920 کے دوران ایک غیرمعمولی میوزیم بھی قائم کیا گیا جسے پولیس ایکشن کے بعد آندھراپردیش اسٹیٹ میوزیم کا نام دے دیا گیا۔

اس تاریخی باغ عامہ میں جان بوجھ کر غیرقانونی طور پر مندریں تعمیر کرنے کی مسلسل کوشش کررہے ہیں۔ اعلیٰ حکام اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی خاموشی کے نتیجہ میں ان کے حوصلے اس قدر بلند ہوگئے ہیں کہ اب وہاں غیرقانونی طور پر 3 تا 4 مذہبی ڈھانچوں کی تعمیر شروع ہوگئی ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال آصف ٹینس کورٹ کے بالکل قریب غیرقانونی طور پر تعمیر کی جارہی ایک عبادتگاہ ہے۔ دفتر سیاست سے رجوع ہوکر باغ عامہ میں چہل قدمی کرنے والے بعض افراد نے جن میں ہندو مسلم سب شامل ہیں،نے بتایا کہ 1887 میں قائم کردہ تاریخی ٹینس کورٹ کے قریب چند ناعاقبت اندیش عناصر نے 10×10 فٹ کے رقبہ پر ایک فٹ کی دیوار تعمیر کرتے ہوئے وہاں ایک مورتی کی تصویر ایک ترشول اور ناریل پھوڑنے کیلئے ایک پتھر نصب کردیا ہے۔ ان فکرمند شہریوں نے بتایا کہ اس غیرقانونی کام میں کوئی باہر کا فرد ملوث نہیں ہے بلکہ باغ عامہ میں کام کرنے والے افراد ہی ان غیرقانونی حرکتوں کے ذریعہ ایک تاریخی باغ کی پرامن فضاء کو بگاڑنے کی مبینہ کوشش کررہے ہیں ایسے میں اگر اعلیٰ حکام حرکت میں آتے ہیں تو اس سے نہ صرف کورٹ کی ہدایات کی تکمیل ہوگی بلکہ پرامن ماحول فرقہ وارانہ آلودگی سے محفوظ بھی رہے گا اس لئے کہ فرقہ وارانہ آلودگی، فضائی و آبی آلودگی سے بھی خطرناک ہوتی ہے۔ ایک بزرگ شہری کے مطابق اگر پولیس حرکت میں آجائے تو اشرار کے حوصلے پسند ہوجائیں گے بصورت دیگر باغ عامہ میں مختلف مذاہب کے ماننے والے اپنے اپنے مذہبی علاقوں یا عبادتگاہوں کی تعمیر شروع کردیں گے۔ پولیس اور اعلیٰ عہدیداروں کو چاہئے کہ اس طرح کی مذموم حرکتوں میں ملوث ملازمین کی حوصلہ شکنی کریں۔ اب دیکھنا یہ ہیکہ حکام اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں باغ عامہ میں غیرقانونی مذہبی ڈھانچہ کے معاملہ میں سپریم کورٹ کی ہدایت پر عمل آوری کو یقینی بناتی ہیں یا پھر ایسے عناصر کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ [email protected]

TOPPOPULARRECENT