Saturday , November 17 2018
Home / ہندوستان / سپریم کورٹ کے حکمنامہ کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزی

سپریم کورٹ کے حکمنامہ کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزی

اس کے باوجود پٹاخوں کے بارے میں عدالتی حکمنامہ ایک نقطۂ آغاز: ماہرین
نئی دہلی 9 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان گیر پیمانے پر سپریم کورٹ کی دیوالی کے دوران پٹاخوں پر عائد تحدیدات کی خلاف ورزی سے شکوک و شبہات پیدا ہوئے ہیں کہ کیا مختصر مدتی طور پر ایسے احکامات نافذ کئے جاسکتے ہیں لیکن قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حکمنامہ یقینا طویل مدتی بنیاد پر بھی نافذ کیا جاسکتا ہے۔ یہ ایک تاریخی مہم بن گئی ہے۔ نفاذ قانون محکموں کو جوابدہ بنانا چاہئے کہ عوام نے ایسے عدالتی حکمنامے کی خلاف ورزی کی جس سے آلودگی کے خلاف جدوجہد کو نقصان پہونچ سکتا ہے۔ 8 بجے شب سے پہلے اور 10 بجے رات کے کافی بعد بھی پٹاخے جلائے جاتے رہے حالانکہ سپریم کورٹ نے پٹاخے جلانے کے لئے 8 بجے شب تا 10 بجے شب کا وقت مقرر کیا تھا۔ لیکن جمعرات کے دن بھی عدالتی حکمنامہ کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اس کے نتیجہ میں نئی دہلی کثیف دھویں کے غلاف میں آگئی۔ اِس کا فضائی معیار دیوالی کی دوسری صبح بدترین ہوگیا اور ’’ہنگامی‘‘ صورتحال والے زمرہ میں پہونچ گیا۔ قابل اجازت حد سے 10 گنا زیادہ آلودگی پٹاخے چھوڑنے کے نتیجہ میں پیدا ہوئی۔ اس کے باوجود قانونی اور ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے احکام درست سمت میں بتدریج نافذ کرنے کے لئے تھے اور اِس سے آلودگی پر قابو پانے کے مسئلہ کے سلسلہ میں پالیسی سازی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ اُنھوں نے حکمنامہ کے نفاذ کو غیر عملی قرار دینے کی تنقید کو مسترد کردیا۔ سپریم کورٹ کے حکمنامہ پر اِس لئے عمل آوری نہیں کی گئی کیوں کہ اِن احکام کی حیثیت صرف صبر و تحمل اختیار کرنے کا پیغام تھے۔ سینئر قانون داں راجیو دھون نے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ جبکہ ایک اور قانون داں گوپال شنکر نارائنن نے کہاکہ حکمنامہ بڑے پیمانے پر ملک گیر سطح پر نافذ کیا گیا صرف چند قومی دارالحکومتوں میں اِس پر عمل نہیں کیا گیا۔ دہلی کے لئے اُس نے دہلی پولیس کو ذمہ دار قرار دیا۔ مرکزی حکومت کے ایگزیکٹیو ڈائرکٹر برائے سائنس و ماحولیات انومیتا رائے چودھری نے کہاکہ مختلف آلودگی سے متعلقہ مسائل پر حکومت سپریم کورٹ کی تائید کررہی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ قانون اور قواعد و ضوابط پٹاخوں کے بارے میں موجود ہیں لیکن اب وقت آگیا ہے کہ شہری اپنے آپ کو زیادہ ذمہ دار محسوس کریں۔

TOPPOPULARRECENT