Friday , November 24 2017
Home / سیاسیات / سپریم کورٹ کے فیصلہ پر سیاسی پارٹیوں سے رائے طلبی

سپریم کورٹ کے فیصلہ پر سیاسی پارٹیوں سے رائے طلبی

مجرم قرار دیئے ہوئے سیاستدانوں کو انتخابات میں حصہ لینے کے نااہل قرار دینے پر سیاسی پارٹیوں کو مکتوب
نئی دہلی۔/22اگسٹ، ( سیاست ڈاٹ کام ) اس بات کے اندیشے ظاہر کئے جارہے ہیں کہ امیدواروں کو انتخابات میں حصہ لینے کیلئے نااہل قرار دیا جائے گا ان کے خلاف عدالت میں فرد جرم پیش کرنے کی تاریخ سے انھیں نااہل قرار دیا جاسکتا ہے، ممکن ہے کہ سپریم کورٹ کو برسر اقتدار ارباب غلط استعمال کریں۔ اگر اسے اس کا اختیار حاصل ہوجائے کہ پارلیمانی کمیٹی نے یہ تبصرہ کیا۔ پارلیمانی مجلس قائمہ برائے قانون و ارکان عملہ نے انتخابی اصلاحات کا جائزہ لیتے وقت سیاسی پارٹیوں سے ان کی معلومات سپریم کورٹ کے تبصرہ کے بارے میں روانہ کرنے کی خواہش کی۔ تمام سیاسی پارٹیوں کو اس سلسلہ میں ایک مکتوب روانہ کیا جاچکا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اندیشہ ہے کہ الزامات عائد کرنے کے سلسلہ میں اور بعد ازاں خودکار طور پر نااہل قراردینے کے اختیارات کا غلط استعمال کیا جائے گا خاص طور پر برسر اقتدار پارٹی ایسا کرسکتی ہے۔ مکتوب میں جو سیاسی پارٹیوں کو روانہ کیا گیا ، کہا گیا ہے کہ فی الحال ایک امیدوار کو انتخابات میں حصہ لینے کیلئے ایک مخصوص میعاد کیلئے نااہل قرار دیا جاتا ہے اگر اسے کسی عدالت نے مجرم قرار دے کر سزا سنائی ہو۔ موجودہ موقف جولائی 2013کے سپریم کورٹ کے فیصلہ پر مبنی ہے۔ سیاستداں جیسے کہ لالو پرساد کو انتخابات میں مقابلہ کرنے کا سپریم کورٹ کے اسی حکمنامہ کی بناء پر قرار دیا گیا ہے۔ قبل ازیں جاریہ ماہ سپریم کورٹ نے 5 ججس پر مشتمل ایک دستوری بنچ قائم کی تھی کہ کیا سیاستداں جن پر جرائم کے ارتکاب کا الزام ہو جن میں پانچ یا اس سے زیادہ سال کی سزائے قید دی جاسکتی ہے انتخابات میں حصہ لینے کے لئے نااہل قرار پائیں گے۔ عدالت ایک درخواست کی سماعت کررہی تھی جس میں قانون عوامی نمائندگی کی دفعات کے تحت جو مجرم سیاستدانوں کو انتخابات میں حصہ لینے کا 6 سال کیلئے نااہل قرار دیتی ہیں دستور کے غیر معمولی اختیارات کے تحت ایسے سیاستدانوں کو نااہل قرار دینے کیلئے عدالت کے فیصلہ کا حوالہ دیا جانا تھا۔ گزشتہ ماہ عدالت نے الیکشن کمیشن پر واضح موقف اختیار نہ کرنے کی بناء پر سرزنش کی۔ ایک درخواست میں مجرم قرار دیئے ہوئے سیاستدانوں کو عمر بھر کیلئے انتخابات میں حصہ لینے کا نااہل قرار دیا گیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن اس معاملہ میں خاموشی اختیار نہیں کرسکتا اور اظہار حیرت کیا تھا کہ کیا اس پر کسی قسم کا دباؤ ہے جس کی وجہ سے وہ اس معاملہ میں اپنا نکتہ نظر ظاہر کرنے سے جھجھک رہا ہے۔

سی پی ایم کا طلاق ثلاثہ پر عدالتی فیصلے کا خیر مقدم
نئی دہلی، 22 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) مارکسی کمیونسٹ پارٹی نے تین طلاق معاملے پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا آج خیر مقدم کیا ہے ۔پولیٹ بیورو نے آج یہاں جاری بیان میں کہا کہ پارٹی سپریم کورٹ کے اس اکثریتی فیصلے کا خیرمقدم کرتی ہے ۔ ابھی عدالت کے فیصلے کی نقل انہیں نہیں ملی ہے ۔ فیصلے کی نقل ملنے پر وہ پانچ رکنی بنچ کے ججوں کی طرف معاملے کے حق اور مخالفت میں دئے گئے بیان کا جائزہ لینے کے بعداس فیصلے پر تفصیلی تبصرہ کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT