Tuesday , September 18 2018
Home / دنیا / سڈنی کا یرغمالی بحران پولیس دھاوے کیساتھ ختم ،تین ہلاک

سڈنی کا یرغمالی بحران پولیس دھاوے کیساتھ ختم ،تین ہلاک

سڈنی ۔ 15 ڈسمبر ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) لگ بھگ 17 گھنٹے طویل یرغمالی ڈرامہ جس میں ایرانی نژاد بھاری طورپر مسلح شخص نے کوئی 15 لوگوں کو یہاں کی ایک کیفے میں یرغمال بنالیا تھا ، رات دیر گئے ختم ہوگیا جبکہ پولیس نے وہاں دھاوا کیا جس کے نتیجہ میں بتایا جاتا ہے کہ تین افراد ہلاک ہوئے لیکن یرغمالیوں میں شامل دو ہندوستانی بحفاظت نکال ۴لئے گئے۔ پولیس

سڈنی ۔ 15 ڈسمبر ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) لگ بھگ 17 گھنٹے طویل یرغمالی ڈرامہ جس میں ایرانی نژاد بھاری طورپر مسلح شخص نے کوئی 15 لوگوں کو یہاں کی ایک کیفے میں یرغمال بنالیا تھا ، رات دیر گئے ختم ہوگیا جبکہ پولیس نے وہاں دھاوا کیا جس کے نتیجہ میں بتایا جاتا ہے کہ تین افراد ہلاک ہوئے لیکن یرغمالیوں میں شامل دو ہندوستانی بحفاظت نکال ۴لئے گئے۔ پولیس نے گرینیڈس فائر کئے اور سڈنی کے کمرشیل ڈسٹرکٹ میں واقع لینٹ چاکلیٹ کیفے پر مقامی وقت منگل رات دیر گئے ڈھائی بجے (دوشنبہ رات 9 بجے ہندوستانی وقت ) دھاوا کردیااور بعد میں اعلان کیا کہ یہ محاصرہ ختم ہوچکا ہے ۔ تاہم انھوں نے اُس بندوق بردار کے حشر کی کوئی تفصیلات نہیں بتائی جس کی شناخت 50 سالہ ہارون مونس کی حیثیت سے کی گئی ، یا اُن یرغمالیوں کے بارے میں بھی وضاحت نہیں کی گئی جن میں سے اکثر اپنے طورپر بچ کر نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے ۔ آسٹریلین ٹی وی نٹ ورکس نے اطلاع دی کہ دو اشخاص … بندوق بردار ہارون اور یرغمالیوں میں سے ایک …مر گئے اور تین دیگر افراد کو اس پولیس آپریشن میں شدید زخم آئے ہیں۔ تاہم نیو ساؤتھ ویلس پولیس نے بعد میں کہا کہ ایک 50 سالہ شخص ، ایک 38 سالہ خاتون اور ایک 34 سالہ نوجوان مہلوکین میں شامل ہیں۔ دو ہندوستانی شہری وشوا کانت انکیت ریڈی اور پشپندو گھوش یرغمالیوں میں شامل رہے جب ہارون نے اس سارے ڈرامہ کا آغاز کیا تھا۔ تاہم ریڈی جو زائد از 30 سال کا ہے اور انفوسیس کا ملازم ہے ، اور گھوش جس کی تفصیلات معلوم نہیں ہوئی ، بحفاظت بچ نکل آئے۔ ریڈی گزشتہ 7 سال سے آسٹریلیا میں کام کررہا ہے اور آندھراپردیش میں گنٹور کا متوطن بتایا گیا ہے ۔وزیر اُمور خارجہ سشما سوراج نے دہلی میں کہا کہ دونوں ہندوستانیوں کا میڈیکل چیک اپ جاری ہے ۔ بندوق بردار جو خودساختہ عالم ہے ، اُس کے تعلق سے اُس کے سابق وـکیل کا کہنا ہے کہ وہ عمومی ڈگر سے ہٹا ہوا شخص ہے ، جو اپنے طورپر ذاتی منصوبہ پر عمل پیرا ہے ۔ ہارون جو 1996 میں پناہ گزیں کی حیثیت سے آسٹریلیا آیا تھا، اُس نے افغانستان میں اپنی جانیں گنوانے والے آسٹریلیائی سپاہیوں کے خاندانوں کو قابل اعتراض مکتوبات بھیجتے ہوئے انھیں قاتل گردانا تھا۔ گزشتہ سال نومبر میں اُس پر اپنی سابقہ بیوی کے ماقبل اور مابعد قتل میں شریک ہونے کا الزام عائد ہوا ، جس نے مبینہ طورپر اُسے چاقو گھونپا اور اُس کے اپارٹمنٹ کامپلکس میں آگ لگادی تھی ۔ مارچ میں اُسے 2002 ء کے دوران ایک نوجوان خاتون پر جنسی اور نازیبا حملے کا الزام بھی عائد ہوا تھا ۔ 5 تا 6 یرغمالی بشمول ہندوستانی آئی ٹی پروفیشنل پولیس کے ہوٹل پر دھاوے سے قبل طعام خانے سے بچ کر نکلتے دیکھے گئے ۔ ایک بلبلاتی خاتون کو عہدیداروں نے باہر نکالا اور کم از کم دو دیگر افراد اسٹریچرس پر باہر لائے گئے ۔ نیو ساؤتھ ویلس پولیس نے یہاں مارٹن پلیس میں ہوٹل پر پولیس دھاوے کے دوران زبردست آوازوں اور بندوق کی گولیوں کی گھن گرج کے تھوڑی دیر بعد ٹوئٹ کیا کہ سڈنی کا یرغمال ڈرامہ ختم ہوچکا ہے ۔ اس مقام واردات سے قریب میں ہندوستانی قونصل خانہ واقع ہے ۔

TOPPOPULARRECENT