Thursday , November 23 2017
Home / ہندوستان / سڑکوں پر قبضہ والے مذہبی ڈھانچوں کو ہٹا دیا جائے

سڑکوں پر قبضہ والے مذہبی ڈھانچوں کو ہٹا دیا جائے

الہ آباد ہائیکورٹ کی حکومت ا تر پردیش کو ہدایت ۔ عوامی حمل و نقل کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں
لکھنو 11 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) الہ آباد ہائیکورٹ نے اتر پردیش حکومت کو ہدایت دی ہے کہ سڑکوں اور سڑک کے کناروں پر قبضہ کرتے ہوئے قائم کئے گئے کسی بھی نوعیت کے مذہبی نشانات اور ڈھانچوں کو ہٹا دیا جائے یا منتقل کردیا جائے ۔ عدالت نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ کوئی بھی مذہبی ڈھانچہ کسی بھی نوعیت کا ہووہ عوامی سڑکوں پر قائم نہ ہونے پائے اور نہ ہی انہیں ہائی ویز پر ‘ گلیوں میں ‘ چھوٹے راستوں وغیرہ میں تعمیر کرنے کی اجازت دی جانی چاہئے ۔ اسے فوجداری توہین سمجھا جانا چاہئے جسٹس سدھیر اگر وال اور جسٹس راکیش سریواستو پر مشتمل الہ آباد ہائیکورٹ کی لکھنو بنچ نے کہا کہ مذہبی ڈھانچے جو جنوری 2011 کے بعد قائم کئے گئے ہیں اور اس کیلئے سرکاری اراضیات پر قبضے کئے گئے ہیں انہیں ختم کیا جانا چاہئے اور انہیں فوری اثر کے ساتھ ہٹا دیا جائے ۔ اس سلسلہ میں ضلع مجسٹریٹ متعلقہ کی جانب سے ریاستی حکومت کو اندرون دو ماہ تعمیلی رپورٹ پیش کی جانی چاہئے ۔ جو مذہبی ڈھانچہ جنوری 2011 سے پہلے کے ہیں انہیں خانگی اراضیات پر منتقل کیا جاسکتا ہے یا پھر انہیں اندرون چھ ماہ ہٹایا جاسکتا ہے ۔ عدالت نے 19 مقامی افراد کی جانب سہ لکھنو میں محلہ دوڑا کھیرا میں ایک راستہ میں مندر کی تعمیر کے خلاف دائر کردہ درخواست رٹ کی یکسوئی کرتے ہوئے یہ ہدایت کل جاری کی ۔ عدالت نے کہا کہ ہر شہری کو حمل و نقل کا بنیادی حق حاصل ہے اور عوامی مقامات پر چند افراد اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انہیں اس حق سے محروم نہیں کرسکتے ۔ کچھ افراد کی سرگرمیاں دوسروں کیلئے رکاوٹ نہیں بننی چاہئیں۔ عدالت نے کہا کہ ریاستی حکومت کو اس معاملہ میں کسی طرح کی نرمی نہیں برتنی چاہئے اور تمام غیر قانونی ڈھانچوں کو فوری منتقل کردیا جانا چاہئے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT