Wednesday , May 23 2018
Home / شہر کی خبریں / سڑکوں کی از سر نو تعمیر کے لیے جرمن ٹکنالوجی کا استعمال

سڑکوں کی از سر نو تعمیر کے لیے جرمن ٹکنالوجی کا استعمال

حیدرآباد میں پہلی آزمائش ، دس برس تک سڑک مستحکم ، جی ایچ ایم سی کا دعویٰ
حیدرآباد ۔ 21 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : شہر میں عظیم تر مجلس بلدیہ حیدرآباد سڑکوں کی دیکھ بھال و مرمت کے لیے جرمن ٹکنالوجی کا استعمال کررہی ہے ۔ اس ٹکنالوجی کی خوبی یہ ہے کہ بی ٹی روڈس کی مرمت و میٹننس کے لیے نئی تعمیری اشیاء بشمول ڈانبر استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ موجودہ سڑک کو ایک فٹ گہرائی تک کھود کر اس کا کیمیکل ٹریمنٹ دیا جاتا ہے ۔ اس عمل کو ’ فل ڈیپتھ ری سائیکلنگ ‘ کہا جاتا ہے ۔ جی ایچ ایم سی سکریٹریٹ کے قریب مجسمہ اندرا گاندھی تا تلگو تلی عبوری پل 1.7 کلو میٹر روڈ پر کام کررہی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ کام وشوا سمودرا انجینئرنگ پرائیوٹ لمٹیڈ کے ذریعہ کروایا جارہا ہے جو شہر میں اپنی نوعیت کا منفرد کام ہے ۔ اس ٹکنالوجی کے ذریعہ دراصل موجودہ بی ٹی روڈ کو سمنٹ کی ایک پرت سے ڈھانکا جاتا ہے اور اس پرت پر ایک کیمیائی مرکب ڈالا جاتا ہے اور پھر سڑک ایک فٹ تک کھود کر اس میں پانی ملا کر رولر چلائے جاتے ہیں ۔ اس کی نگرانی جی ایچ ایم سی چیف انجینئر ( مینٹننس ) محمد ضیا الدین کررہے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طریقہ سے بچھائی جانے والی سڑکیں کم از کم 10 برسوں تک مستحکم رہتی ہیں ۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ٹکنالوجی کے ذریعہ پہلے زمینی ( مٹی ) کا ٹسٹ کیا جاتا ہے اور اس کی رپورٹس کو جرمن بھیجا جاتا ہے تاکہ کیمیائی مادوں کے مکس کرنے سے متعلق رائے حاصل کی جائے ۔ مجسمہ اندرا گاندھی تا تلگو تلی عبوری پل سڑک پر یہ کام آزمائشی طور پر کیا جارہا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT