Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / سکریٹریٹ سے دفاتر کی منتقلی کا کام تیزی سے جاری

سکریٹریٹ سے دفاتر کی منتقلی کا کام تیزی سے جاری

چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤنئی عمارت کیلئے سنگ بنیاد رکھنے کی تیاری میں مصروف

حیدرآباد ۔ 9 ۔  نومبر  (سیاست نیوز) نئے سکریٹریٹ کی تعمیر کا مسئلہ ایک طرف ہائیکورٹ میں زیر التواء ہے تو دوسری طرف حکومت نے سکریٹریٹ سے دفاتر کی منتقلی کے کام میں تیزی پیدا کردی ہے۔ کانگریس اور تلگو دیشم ارکان اسمبلی نے سکریٹریٹ کی موجودہ عمارتوں کے انہدام کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست داخل کی اور ابتدائی سماعت کے وقت حکومت کے وکیل نے واضح کیا تھا کہ انہدام کے بارے میں کوئی قطعی فیصلہ نہیں کیا گیا ۔ حکومت کو اندرون تین ہفتے تحریری طور پر حلفنامہ داخل کرنا ہے لیکن سکریٹریٹ سے محکمہ جات کے دفاتر کی منتقلی کا کام جاری ہے اور توقع ہے کہ اندرون ایک ماہ سکریٹریز اور ماتحت عملے کے دفاتر کسی اور مقام پر منتقل کردیئے جائیں گے۔ حکومت نے وزراء کے دفاتر کے ساتھ متعلقہ سکریٹری اور ماتحت عملہ کے دفاتر رکھنے کی ہدایت دی ہے۔ شہر کے مرکزی مقامات پر واقع سرکاری عمارتوں میں وزراء اور متعلقہ عہدیداروں کے دفاتر رہیں گے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ دفاتر کی منتقلی پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور جیسے ہی یہ کام مکمل ہوجائے گا ، سکریٹریٹ کے نئے پلان کو منظوری دی جائے گی ۔ چیف منسٹر تعمیری کام کا سنگ بنیاد رکھیں گے اور حکومت ایک سال میں نیا کامپلکس تعمیر کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ تلنگانہ حکومت نے سکریٹریٹ کی موجودہ عمارتوں کو غیر محفوظ اور قدیم قرار دیتے ہوئے ان کے انہدام کا جواز پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ہائیکورٹ میں جو حلفنامہ داخل کیا جائے گا ، اس میں حکومت یہ تاثر دینے کی کوشش کرے گی کہ موجودہ سکریٹریٹ کئی اعتبار سے موزوں اور محفوظ نہیں ہے۔ اگرچہ سکریٹریٹ میں بعض عمارتیں حالیہ عرصہ میں تعمیر کی گئیں لیکن ٹی آر ایس حکومت کا ماننا ہے کہ ماہرین کی کمیٹی نے ان عمارتوں کو غیر محفوظ قرار دیا ہے۔ لہذا تمام عصری سہولتوںکے ساتھ نیا سکریٹریٹ تعمیر کیا جائے گا ۔ موجودہ سکریٹریٹ 4 لاکھ 40 ہزار مربع گز احاطہ پر مشتمل ہے اور ماہرین کے مطابق یہ تعمیرات عوام کی سہولتوں کے مطابق نہیںہے۔ تلنگانہ حکومت 8 لاکھ مربع گز اراضی پر عصری سہولتوں کے ساتھ سکریٹریٹ قائم کرنا چاہتی ہے جس کے تحت تین بلاک تعمیر کئے جائیں گے اور باقی علاقہ میں منصوبہ بند انداز میں پارکنگ اور دیگر سہولتیں حاصل رہیں گی۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ سکریٹریٹ کا موجودہ احاطہ پارکنگ کیلئے بھی ناکافی ہورہا ہے، لہذا جامع منصوبے کے تحت نئی عمارتوں کی تعمیر ناگزیر ہے۔ سکریٹریٹ کے مختلف محکمہ جات میں 2500 سے زائد ملازمین ہیں اور ہر محکمہ کیلئے ایک ہی بلاک میں دفاتر کی کمی کے سبب اعلیٰ عہدیداروں کو دشواریوں کا سامنا ہے۔ حکومت کو جو رپورٹ پیش کی گئی ، اس میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ سکریٹریٹ وی وی آئی پیز کیلئے محفوظ نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ آئی اے ایس عہدیدار جن عمارتوں میں کام کر رہے ہیں، وہ سیفٹی کے اعتبار سے محفوظ نہیں ہے۔ سکریٹریٹ میں ایک سے زائد مرتبہ شاٹ سرکٹ کے سبب آتشزدگی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے عہدیدار یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مصروف اوقات میں اس طرح کے واقعات انسانی جانوں کیلئے خطرہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ عہدیداروں نے موجودہ صورتحال کیلئے سابقہ حکومتوں کو ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ کسی بھی حکومت نے سیفٹی اور سیکوریٹی پر توجہ نہیں دی ہے۔ نظام دور حکومت میں تعمیر کردہ عمارت انتہائی مخدوش حالت میں ہے اور اسے گزشتہ 22 برسوں میں استعمال نہیں کیا گیا۔ آثار قدیمہ کے تحفظ سے متعلق تنظیموں کے احتجاج کے سبب حکومت اس عمارت کو منہدم نہیں کرسکی۔ ٹی آر ایس حکومت نے اس عمارت کو بھی دیگر عمارتوں کے ساتھ شامل کرتے ہوئے انہدام کا منصوبہ بنایا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہائی کورٹ میں حکومت کے کس فیصلہ کو کس حد تک کامیابی حاصل ہوگی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT