Tuesday , June 19 2018
Home / شہر کی خبریں / سکندرآباد حلقہ لوک سبھا پر کشن ریڈی اور بنڈارو دتاتریہ کے درمیان سرد جنگ

سکندرآباد حلقہ لوک سبھا پر کشن ریڈی اور بنڈارو دتاتریہ کے درمیان سرد جنگ

دونوں قائدین کا ہائی کمان پر دباؤ ، وینکیا نائیڈو کے لیے مسئلہ الجھن کا باعث

دونوں قائدین کا ہائی کمان پر دباؤ ، وینکیا نائیڈو کے لیے مسئلہ الجھن کا باعث
حیدرآباد۔/27مارچ، ( سیاست نیوز) حلقہ لوک سبھا سکندرآباد کے مسئلہ پر بی جے پی کے ریاستی صدر کشن ریڈی اور سینئر قائد بنڈارودتاتریہ میں سرد جنگ کا آغاز ہوچکا ہے۔ دونوں قائدین ہائی کمان کو اپنی اپنی امیدواری کے حق میں راضی کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں۔ تلنگانہ کے دیگر پارٹی قائدین کے ذریعہ بھی اپنے اپنے نام کے حق میں نمائندگیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان حالات میں پارٹی کے سینئر قائد وینکیا نائیڈو کیلئے یہ مسئلہ اُلجھن کا باعث بن چکا ہے کہ وہ پارٹی صدر کے پاس کس نام کی تائید کریں کیونکہ دونوں قائدین کا شمار وینکیا نائیڈو کے قریبی رفقاء میں ہوتا ہے۔ بی جے پی جو بظاہر ایک ڈسپلن پارٹی مانی جاتی ہے لیکن سکندرآباد لوک سبھا حلقہ نے پارٹی قائدین میں اختلافات کو ہوا دی ہے۔ بنڈارو دتاتریہ جو دو مرتبہ لوک سبھا حلقہ سکندرآباد سے منتخب ہوچکے ہیں وہ اس بار بھی شدت کے ساتھ اپنی دعویداری پیش کررہے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ پارٹی دوبارہ ٹکٹ دے گی۔ وہ پارٹی ٹکٹ کیلئے اپنی کارکردگی کو بھی بنیاد بنارہے ہیں۔ دوسری طرف پارٹی کے تلنگانہ یونٹ کے صدر کشن ریڈی سکندرآباد لوک سبھا حلقہ کے ٹکٹ کے بارے میں پُرامید ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ آر ایس ایس نے کشن ریڈی کے نام کی تجویز پیش کی ہے چونکہ مرکز میں نریندر مودی کی کامیابی کی صورت میں نئے چہروں کو مرکزی وزارت میں شامل کیا جاسکتا ہے لہذا آر ایس ایس کشن ریڈی کی حوصلہ افزائی کررہی ہے۔ کشن ریڈی سابق میں اکھل بھارتیہ یوا مورچہ کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ ٹکٹ کی دعویداری کے مسئلہ پر دونوں قائدین کے درمیان حالیہ عرصہ میں کافی دوری پیدا ہوگئی۔ دتاتریہ کے حامی اس بات کو لے کر فکرمند ہیں کہ پارٹی کی قومی قیادت نے ابھی تک نام کی منظوری نہیں دی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ قومی قیادت دتاتریہ کو سکندرآباد لوک سبھا کے بجائے اس کے تحت آنے والے کسی اسمبلی حلقہ سے مقابلہ کی صلاح دے رہی ہے اور اس سلسلہ میں اسمبلی حلقہ عنبرپیٹ کی تجویز پیش کی گئی جس کی نمائندگی کشن ریڈی کرتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ دونوں سینئر قائدین کی رسہ کشی میں کامیابی کس کے ہاتھ آئے گی۔

TOPPOPULARRECENT