Wednesday , January 24 2018
Home / ہندوستان / سکّوں پر مذہبی علامتوں کا دستور اجازت نہیں دیتا:ہائیکورٹ

سکّوں پر مذہبی علامتوں کا دستور اجازت نہیں دیتا:ہائیکورٹ

نئی دہلی ۔ 3 ۔ ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) دہلی ہائیکورٹ نے آج مرکز کے اس اقدام پر سوال اٹھایا ہے کہ سکّوں کی اجرائی کے ذریعہ مذہبی تہواروں کی یاد منائی جائے۔ مرکز نے فیصلہ کیا ہے کہ سکّوں پر مذہبی تصاویر یا علامتیں چھاپ کر انہیں جاری کیا جا ئے۔ عدالت نے کہا کہ کسی بھی سکے پر مذہبی علامتوں کی دستور اجازت نہیں دیتا۔ ہمارا دستور اس بات کی اجاز

نئی دہلی ۔ 3 ۔ ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) دہلی ہائیکورٹ نے آج مرکز کے اس اقدام پر سوال اٹھایا ہے کہ سکّوں کی اجرائی کے ذریعہ مذہبی تہواروں کی یاد منائی جائے۔ مرکز نے فیصلہ کیا ہے کہ سکّوں پر مذہبی تصاویر یا علامتیں چھاپ کر انہیں جاری کیا جا ئے۔ عدالت نے کہا کہ کسی بھی سکے پر مذہبی علامتوں کی دستور اجازت نہیں دیتا۔ ہمارا دستور اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ہم کرنسی یا سکّوں کو مذہبی علامتوں کی اشاعت کے ذریعہ استعمال کریں۔ چیف جسٹس جی روہنی اور جسٹس راجیو ساہی کی بنچ نے کہا کہ بحیثیت ایک حکومت آپ مذہبی مسائل کو نہیں چھیڑ سکتے، اس طرح کے عوامل کو روک دیں۔ سکّے جاری کرتے ہوئے آپ ایک خاص مذہب کا جشن منارہے ہیں جو دستور اجازت نہیں دیتا۔ وزارت فینانس کی جانب سے داخل کردہ ایک حلفنامہ پر عدالت نے تاثر ظاہر کیا کہ دستور کے مطابق ہی کام کیا جانا چاہئے ۔ عدالت نے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل سنجے جین سے اس مسئلہ پر جواب داخل کرنے کی خواہش کی ہے۔ اس معاملہ کی سماعت کے دوران ایڈیشنل سالیسٹر جنرل نے کہا کہ سکّوں کے قانون کے تحت مرکز کو اختیار ہے کہ وہ ایسے سکے جاری کریں جو خاص تاریخی یا مذہبی موقع یا یادگار سے مربوط ہو۔ مرکز نے سکّوں کے نمونے بھی پیش کئے تھے اور کہا تھا کہ قانون کی دفعہ 4 کے تحت مرکزی حکومت کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ اپنی مرضی سے سکّوں کو تیار کریں۔ عدالت نے کہا کہ اس معاملہ کی سماعت دہلی کے شہریوں نفیس قادری اور ابو سعید کی جانب سے داخل کردہ مفاد عامہ کی درخواستوں پر کی جارہی ہے۔ وکیل رشید قریشی کے ذریعہ ان دونوں شہریوں نے عدالت میں درخواست داخل کی تھی اور مذہبی علامتوں کے اشاعت والے سکّوں کو واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT