Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / سکّے ، ضرورت کے بجائے مصیبت بن گئے

سکّے ، ضرورت کے بجائے مصیبت بن گئے

گراہک اور دکانداروں کا ریزگاری لینے سے انکار ، بینکوں کی جانب سے بھی عذر
حیدرآباد ۔ 25 ۔ اکٹوبر : ( ایجنسیز ) : ایک ، دو ، پانچ اور دس روپئے کے سکوں کی کثرت ان دنوں زیادہ تر علاقوں میں پریشانی کا باعث بن گئے ہیں ۔ اسے دکاندار سے لے کر بینکوں تک لینے سے انکار کی اطلاع ہے ، کل تک عوام ریزگاری ( سکوں ) کی قلت کو لے کر پریشانی تھی لیکن آج بازار میں کثرت سے پائے جاتے ہیں ۔ سکوں کی وجہ سے بسوں ، دکانوں اور پیسے کے لین دین کی دوسری جگہوں پر بلاوجہ لوگوں کے بیچ بحث دیکھنے میں آتے ہیں ۔ ان سکوں کو بھاری مقدار میں بازار میں لانے کا سہرا آر بی آئی کو جاتا ہے ۔ نوٹ بندی کے بعد ملک بھر میں پھیلے 4211 کرنسی چیسٹ سے ہزاروں کروڑ روپئے کے چھوٹے نوٹ اور سکے بینکوں کو جاری کئے گئے ۔ چنانچہ بینکوں اور ڈاک خانوں سے 3200 کروڑ کے نئے سکے جاری کئے گئے تھے ۔ لیکن اب ایک نئی مصیبت آکھڑی ہے سکوں کے جاری ہوتے ہی ایسے چھوٹے نوٹ 14 سے بڑھ کر 23 فیصدی ہوگئے تھے ان دنوں اس کی تیزی سے چلن میں آنے کے بعد اب جب لوگوں کے پاس جمع ہوگئے ہیں تو اسے چلانا مشکل ہوگیا ہے ۔ حالت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ نہ تو گراہک ، دکاندار سے اور نہ ہی دکاندار گراہک سے سکے لینا چاہتے ہیں ۔ چھوٹے دکانداروں کا رونا یہ ہے کہ بڑے دکاندار سکے لینے سے صاف طور پر منع کرچکے ہیں ۔ بڑے دکانداروں کا کہنا ہے کہ بینک ان سکوں کو جمع نہیں لیتا ہے ۔ بینک نے گذشتہ سال دسمبر امید دلائی تھی کہ جنوری سے سکے بینک میں جمع کئے جاسکیں گئے ۔ تاہم یہ ممکن نہیں ہوا تھا ۔ بینکوں کو ملی ہدایت کے مطابق کوئی بھی شخص 20,000 روپئے جمع کروانے کے عمل کے دوران صرف ایک ہزار روپئے کے سکے ہی جمع کرواسکتا ہے ۔ لیکن جن کے پاس لاکھوں روپئے کے سکے ہوں تو انہیں ایک لاکھ روپئے کے سکے کو جمع کروانے کے لیے پہلے 95,000 روپئے کے بڑے نوٹ کا انتظام کر کے پانچ مرتبہ بینک کے چکر لگانے پڑیں گے ۔ اس طرح سے باقی پیسے جمع کروانے میں لمبا عرصہ گذر جائے گا ۔ اوپر سے ریزرو بینک کے قواعد کے مطابق ایک کھاتہ دار کو اپنے کھاتے میں رقم جمع کرنے کی بھی متعین کی گئی ہے ۔ اطلاع کے مطابق بازار میں تقریبا 25 ہزار کروڑ روپئے سے زائد سکے ہیں ، اس سے بازار میں بڑے پیمانے پر پونجی پھنسی ہوئی ہے ۔ اور کاروباری کو منافع کے بجائے نقصان ہورہا ہے ۔ بہتر معاشی صورتحال کے لیے سبھی طرح کے کرنسی کا توازن ہونا ضروری ہے ۔ کمی زیادتی کا اثر کاروباریوں اور اشیاء فراہم کرنے والوں پر پڑتا ہے ، ایک طرف کوئی سامان خریدنے پر ڈیجیٹل ٹرانزکشن کے لیے زور ڈالا جارہا ہے تو دوسری طرف سے خریداروں یا دوسرے کام کاج کو نمٹانے کے لیے بھاری پریشانیوں کا بھی سامنا ہے ۔ سکوں کا چلن بازار کے ساتھ ساتھ بینکوں تک کیا جانا ضروری ہے ۔ سکے یا ریزگاری کو لے کر مسئلہ اس کے نقلی یا بند کئے جانے کا بھی ہے ۔ حالیہ دنوں میں 10 روپئے کے سکوں کو لے کر بازار کافی گرم ہے ۔ بعض علاقوں میں کچھ دنوں سے گراہک اور دکاندار ایک اور دو روپئے کے سکے لینا بند کردئیے ہیں ۔چنانچہ اشیاء کی قیمتیں بھی اس بنیاد پر منحصر کی جانے لگیں ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT