Saturday , June 23 2018
Home / مضامین / سکھایئے لڑکوں کو کمانا اور لڑکیوں کو پکانا

سکھایئے لڑکوں کو کمانا اور لڑکیوں کو پکانا

محمد مصطفی علی سروری
یہ سال 1992ء کی بات تھی جب (40) سال کے سید محبوب صاحب نے اچھا کمانے کیلئے سعودی عرب کا رخ کیا تھا۔ ان کا تعلق بنگلور سے ہے، لیکن ان کے ہاں کوئی خاص تعلیمی قابلیت نہیں تھی۔ ہاں محبوب صاحب ایک کام جانتے تھے جس کو دنیا ٹیلرنگ کا کام کہتی تھی۔ ایک ٹیلر ہونے کے ساتھ سید صاحب ایک دو نہیں بلکہ چار لڑکیوں کے باپ بھی تھے۔ جی ہاں سید صاحب اچھا کمانے سے زیادہ اس بات کے لئے فکر مند تھے کہ ان کی چار لڑکیاں ہوگئی ہیں اور ان لڑکیوں کی شادی کیسے ہوگی۔ یہ سوچ کر ہی وہ پریشان تھے اور انہیں احساس ہوا کہ اگر وہ سعودی جاکر خوب محنت کریں گے تو ان کے پاس اتنے پیسے ضرور جمع ہوجائیں گے کہ وہ اپنی چاروں لڑکیوں کی شادی آسانی سے کریں گے۔ 17 فروری 2018ء کو سعودی عرب کے انگریزی اخبار ’’سعودی گزٹ‘‘ نے “Scourge of Dowry forces Indian Father to Work in KSA for 25 Years.” کی سرخی کے تحت سید صاحب کی اسٹوری شائع کی۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق سید صاحب نے جب 1992ء میں سعودی عرب کا رخ کیا تھا، اس وقت ان کی سب سے چھوٹی لڑکی کی صرف 3 سال تھی جو آج 28 برس کی ہوگئی۔ چار لڑکیوں میں سے 2 لڑکیوں کی شادیاں بھی ہوگئی اور سب سے خاص بات یہ رہی کہ 1992ء میں ہندوستان چھوڑ کر سعودی جانے کے بعد سید صاحب ایک مرتبہ بھی واپس ہندوستان نہیں آسکے۔ کچھ تو ان کی مجبوریاں تھی کہ دو ایک نہیں 25 سال انہوں نے اکیلے محنت کرکے گذار دیئے صرف اس کوشش میں کہ ان کی بچیوں کی شادی کے لئے پیسے جمع ہوجائیں لیکن ایک ٹیلر کتنی محنت کرسکتا اور کتنا کماسکتا ہے، اس کا صرف اندازہ لگایا جاسکتا تھا۔ دن رات محنت کرنا کیا ہوتا ہے، کوئی سید صاحب سے پوچھے۔ دن میں کنسٹرکشن لیبر کا کام کرتے اور رات میں ٹیلرنگ کا کام کرتے ہوئے سید صاحب نے 25 برس گذار دیئے۔ ویزا ختم ہوگیا، اقامہ ختم ہوگیا، سید صاحب کی سعودی عرب میں پوزیشن illegal ہوگئی مگر سید صاحب نے کام نہیں چھوڑا، فون کی سہولت سے فائدہ اٹھاکر گھر پر بات تو کرلیتے تھے مگر 25 برسوں کے دوران گھر واپس نہیں جاسکے۔ ان کی تین سال کی لڑکی اب 28 سال کی ہوچکی تھی اور ایک جگہ جاب بھی کررہی ہے، اپنے باپ سے وہ کہتی ہے کہ اس کی شادی کے لئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اب وہ خود کمانے لگی ہے تو اپنے شادی کے اخراجات بھی اٹھانے کیلئے تیار ہے۔

اپنے وطن ہندوستان واپس آنے کی خواہش رکھنے کے باوجود سید صاحب کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا پھر ایک صاحب خیر کی مدد سے سید صاحب کی اپنے وطن واپسی کا سفر ممکن ہوسکا۔ سعودی اخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ جہیز پورے جنوبی ایشیا کے ملکوں میں پھیلی ہوئی بیماری ہے اور خاص کر غریب ماں باپ جن کے ہاں لڑکیاں ہوں، ان کے کیلئے تو یہ ایک ڈراؤنا خواب بن گیا، اس پس منظر میں جنوبی ایشیائی ملکوں کے کئی غریب تارکین وطن اپنی پوزیشن (illegal) ہونے کے باوجود سعودی عرب میں اس لئے ٹھہرے رہتے ہیں کہ کچھ بچت کرسکیں۔

قارئین کرام! اپنی لڑکیوں کی شادیوں کے لئے والدین کس قدر پریشان ہیں، اس کا اندازہ صرف سید صاحب کی قربانیوں سے نہیں لگایا جاسکتا، آئے دن ایک سے بڑھ کر ایک ایسے دل سوز واقعات ہمارے سامنے آتے ہیں جنہیں پڑھ کر ہم لوگ وقتی طور پر غم زدہ تو ہوجاتے ہیں مگر عملی طور پر وہی بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہ کوئی بہت زیادہ پرانا واقعہ نہیں ہے، اتوار کا دن تھا اور ڈسمبر 2017ء کی 10 تاریخ تھی، زیبا باغ (آصف نگر) کے رہنے والے ایک شخص نے اپنے تین بچوں کو تیار ہونے کو کہا۔ غریب بچے خوشی خوشی اپنے والد کے ساتھ باہر جانے کیلئے تیار ہوگئے۔ ان بچوں میں بڑی لڑکی آٹھویں جماعت میں دوسرا لڑکا ساتویں جماعت میں اور تیسری لڑکی چھٹی جماعت میں پڑھتی تھی۔ ان بچوں کو ساتھ لے کر اس شخص نے ٹینک بنڈ کا رُخ کیا۔ بچوں کے ذہن پر تفریح سوار تھی اور بچوں کا باپ اپنے ذہن میں کچھ اور ہی سوچ رہا تھا۔ ٹینک بنڈ پر لیپاکشی کے قریب جاکر اس باپ نے اپنے تینوں بچوں کے ساتھ ٹینک بنڈ میں چھلانگ لگاکر خودکشی کرنے کی کوشش کی لیکن خدائے تعالیٰ کو یہ منظور نہیں تھا تبھی تو ایک اے ایس آئی اشوک کمار اور ان کے ساتھیوں نے ان تینوں بچوں کو عین اس وقت پکڑ لیا جب ان کے باپ نے ان کو ٹینک بنڈ میں پھینکنے کیلئے تیاری کرلی تھی۔ پولیس کے جوان ان لوگوں کو جب مشتبہ حالت میں دیکھے تو پکڑنے کیلئے دوڑ پڑے۔ پولیس کو آتا دیکھ کر بچوں کا باپ بھاگ گیا کہ مرنا تو گوارا ہے مگر پولیس کے ہاتھ آنا نہیں۔ لیک پولیس ان تین بچوں کو اپنے ساتھ لے کر پولیس اسٹیشن پہونچی، بچوں سے فون نمبر لے کر ماں کو اطلاع دی گئی تب ان بچوں کی ماں دوڑی دوڑی وہاں پہونچی اور پولیس نے ان بچوں کی ماں سے بات کرنے کے بعد میڈیا کے لئے ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے تفصیلات سے آگاہ کیا کہ یہ شخص آٹو چلاتا ہے مگر اس کو معاشی پریشانیاں لاحق تھی، وہ یہ سوچ کر ہی پریشان تھا کہ ابھی جبکہ اس کی بیٹیاں چھوٹی ہیں اور اسکول میں پڑھ رہی ہیں، اس کے معاشی حالات ٹھیک نہیں ہے اور کل جب یہ بچیاں بڑی ہوجائے گی تو ان کی شادی کے لئے تو اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ پولیس والے اچھے ہوتے ہیں یا بُرے نہیں معلوم لیکن پولیس نے ان بچوں کو مرنے سے بچا لیا اور پھر ان کو ان کی ماں کے حوالے کرنے سے پہلے ان لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوکر پولیس اسٹیشن کے احاطہ میں ایک گروپ فوٹو اتاری۔ تصویر میں دو خاتون پولیس اہلکاروں کے علاوہ دو مرد پولیس والے موجود ہیں، ان کے ہمراہ برقعہ پوش ماں دونوں لڑکیاں اور لڑکا بھی کھڑا ہے۔ بڑی لڑکی ہی نہیں بلکہ باقی دونوں بچوں نے بھی ایسے کپڑے زیب تن کئے ہیں کہ جیسے انہیں کسی دعوت میں جانا ہو۔ذرا سوچئے اور اندازہ لگایئے کہ جہیز کی رسم کس قدر اذیت ناک بن گئی ہے کہ ماں باپ اپنے بچوں کو موت کے منہ میں ڈھکیلنے کے لئے تیار ہیں۔

حیدرآباد کے ایک انگریزی اخبار ’’تلنگانہ ٹوڈے‘‘ نے 24 جنوری 2018ء کو ایک خبر شائع کی تھی، خبر کے مطابق حبیب نگر پولیس اسٹیشن کے حدود میں غوثیہ بیگم نام کی ایک 23 سالہ لڑکی نے زہر پی کر خودکشی کرلی ہے۔ خبر کی تفصیلات میں بتلایا گیا کہ غوثیہ کی عبداللہ نام کے ایک نوجوان سے صرف 3 مہینے قبل 17 نومبر 2017ء کو ہی شادی ہوئی تھی اور شادی کے کچھ ہی عرصے بعد عبداللہ نے مزید جہیز کا مطالبہ شروع کردیا تھا۔ اخبار نے لکھا کہ غوثیہ کا شوہر بے روزگار ہے اور اس نے شادی کے وقت ہی جہیز لیا تھا مگر شادی کے بعد جہیز کے نام پر جھگڑے ہونے لگے تھے۔ 23 سال کی عمر کوئی بڑی نہیں ہوتی اور دلہن بن کر بھی اس لڑکی کو کوئی بہت زیادہ عرصہ نہیں ہوا۔ 17 نومبر سے لے کر 24 جنوری 2018ء تک صرف 69 دن ہی تو ہوتے تھے اور 69 دنوں کی دلہن نے اپنے ساتھ ہونے والے مظالم کی بنیادوں پر زہر پی کر اپنی جان ختم کرلینے کا فیصلہ کیا۔
کیا کچھ نہیں سوچا ہوگا اس نئی نویلی دلہن نے کہ پہلے ہی اس شادی کے لئے اس کے ماں باپ کو کتنے پاپڑ بیلنے پڑے اور اب مزید جہیز کا مطالبہ کیسے پورا کیا جاسکتا ہے۔ وہ تو لڑکی ہی بہتر جانتی تھی یا اس کے ماں باپ؟ انہی سب باتوں کو اس لڑکی نے بھی سوچا ہوگا اور تب ہی اس نے نہ صرف اپنے لئے بلکہ اپنے چاہنے والوں کے لئے بھی ایک آسان راستہ تلاش کیا اور زہر پی کر خودکشی کرلی۔ جہیز کے لئے خودکشی کرنے کی خبریں ہوسکتا ہے کہ اخبارات میں بڑی بڑی جگہ حاصل نہ کرسکیں لیکن اس طرح کی خبریں بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔ وہ اس لئے کہ دانشوران قوم و ملت اس جانب توجہ کریں،ہوش کے ناخن لیں اور آئندہ اس طرح کے واقعات کے تدارک کیلئے اقدامات کریں۔ یہ کسی ایک گھر یا خاندان کا معاملہ نہیں، پوری مسلم قوم کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ آخر اس مسئلہ کو حل کرنے کیلئے ہم کیا رول ادا کرسکتے ہیں۔ ایک تجویز پیش کرتے ہوئے میں چاہوں گا کہ قارئین کرام بھی اس جانب غور کریں۔ مسلمان اپنے لڑکوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کریں، انہیں صرف کھانا ہی نہ سکھلائیں، کمانا بھی سکھلائیں اور لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانے سے پہلے گھر کی ذمہ داریوں کو نبھانا، سکھلائیں اب لڑکوں میں سے ہر ایک کو ہوٹل مینجمنٹ اور Cooking تو نہیں سکھلائی جاسکتی ہے۔ بزرگ اور وہ جن لوگوں نے دنیا دیکھ رکھی ہے، کا کہنا ہے کہ جن لڑکیوں کو پکوان آتا ہے، ان کی زندگیوں میں آسانیاں زیادہ ہوتی ہیں۔ مسئلہ صاف صاف تو یہ ہے کہ آج باہر کا، ہوٹلوں کا کھانا کھانا ہماری روزمرہ کی عادات بن چکی ہیں۔ دوسری جانب لڑکے کما نہیں رہے ہیں تو لازمی بات ہے کہ یا تو والدین کی روٹیاں توڑیں گے یا شادی کے بعد لڑکی والوں پر بوجھ ثابت ہوں گے۔ سماج میں سارا زور لڑکیوں کی تعلیم و تربیت پر دیا جارہا ہے۔ لڑکوں کی تعلیم پر کوئی توجہ مرکوز نہیں کررہا ہے۔ نتیجہ لڑکے بغیر پڑھے لکھے کے صرف بڑے تو ہورہے ہیں مگر ان کے ہاں کمانے کی صلاحیتیں بالکل نہیں ہیں اور ان کی سوچ ایسی ہوگئی ہے کہ لڑکا ہے کوئی نہ کوئی سپورٹ کر ہی دے گا۔ وہ لڑکے اپنے گھر میں لارڈ و پیار کے مارے نہ تو صحیح پڑھتے اور نہ کچھ کرنے کے قابل رہتے ہیں۔ ڈگریاں حاصل بھی کرلیں تو کمانے کے لئے اور جاب کرنے کے قابل نہیں۔ والدین اپنے بچوں کے اس سماجی بوجھ کو جہیز کے نام پر وصول کئے جانے والے مال و اساب کی آڑ میں چھپانا چاہتے ہیں تو آخر بچوں کو محنت کرکے کمانا کون سکھلائے گا۔ آپ کیا سمجھتے ہیں، آپ کے ہاں کوئی دوسرا موثر حل ہے تو آگے بڑھئے عمل کرکے بتلایئے، اگر آپ کو میری تجاویز پسند نہ ہوں تو یہ بھی بتلایئے، آپ کیا کررہے ہیں۔ صرف میرے مضمون پر تنقید کرکے خاموش ہیں یا بحیثیت دردمند انسان آپ بھی اپنے حصہ کی شمع جلا رہے ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیک توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
[email protected]

TOPPOPULARRECENT