Thursday , November 23 2017
Home / Top Stories / سکھیندر ریڈی، بھاسکر راؤ ، جی ویویک، جی ونود ٹی آر ایس میں شامل

سکھیندر ریڈی، بھاسکر راؤ ، جی ویویک، جی ونود ٹی آر ایس میں شامل

Nalgonda Congress MP Gutta Sukender Reddy, Miryalguda Congress MLA N Bhaskar Rao and lone CPI Devarkonda (ST) MLA Ravindra Kumar Ramavath, Former Congress Peddapally MP G Vivekanand, former Congress minister G Vinod (both sons of G Venkataswamy) joined the ruling Telangana Rashtra Samiti (TRS) party in presence of Chief Minister K Chandrasekhar Rao at TG Bhavan in Hyderabad on Wednesday.Pic:Style photo service.

نلگنڈہ میں کانگریس کو زبردست دھکا ، اسمبلی سے سی پی آئی کا عملاً صفایا

حیدرآباد ۔ 15 ۔ جون (سیاست نیوز) کانگریس پارٹی اور سی پی آئی کو آج اس وقت زبردست دھکا لگا جب اس کے اہم قائدین نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی ۔ نلگنڈہ سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ جی سکھیندر ریڈی ، مریال گوڑہ اسمبلی حلقہ کے کانگریسی رکن اسمبلی بھاسکر راؤ ، دیورکنڈہ اسمبلی حلقہ کے سی پی آئی رکن اسمبلی رویندر کمار ، سابق رکن پارلیمنٹ جی ویویک ، سابق وزیر جی ونود اور کریم نگر کے کورٹلہ اسمبلی حلقہ کے کانگریس انچارج جی نرسنگ راؤ نے اپنے حامیوں کے ساتھ ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی ۔ تلنگانہ بھون میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ان قائدین کا پارٹی میں استقبال کیا ۔ اس موقع پر تلنگانہ بھون میں نلگنڈہ اور کریم نگر سے تعلق رکھنے والے کارکنوں اور عوام کی کثیر تعداد موجود تھی اور ان قائدین کی شمولیت کا استقبال کیا گیا۔ چیف منسٹر نے ان قائدین کو پارٹی کا کھنڈوا پہناکر ٹی آر ایس میں شامل کیا۔ سکھیندر ریڈی ایم پی اور ایک رکن اسمبلی کی ٹی آر ایس میں شمولیت سے نلگنڈہ ضلع میں کانگریس پارٹی کو زبردست دھکا لگا ہے ۔ تلنگانہ ریاست میں کانگریس کے دو لوک سبھا ارکان منتخب ہوئے تھے جن میں سے ایک نے آج پارٹی کو چھوڑدیا جبکہ ناگر کرنول کے رکن پارلیمنٹ نندی ایلیا کانگریس میں برقرار رہنے والے واحد رکن پارلیمنٹ ہیں۔ مریال گوڑہ کے رکن اسمبلی بھاسکر راؤ کی شمولیت سے حالیہ عرصہ میں کانگریس سے ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے ارکان اسمبلی کی تعداد بڑھ کر 8 ہوچکی ہے ۔ ریاست میں سی پی آئی کو صرف ایک نشست پر کامیابی حاصل ہوئی تھی اور وہ رکن اسمبلی رویندر کمار بھی آج ٹی آر ایس میں شامل ہوگئے ۔ اس طرح ریاستی اسمبلی سے سی پی آئی کا عملاً صفایا ہوگیا۔ سابق مرکزی وزیر اور بزرگ قائد آنجہانی جی وینکٹ سوامی کے فرزندان جی ونود اور جی ویویک کی شمولیت سے کانگریس کو عادل آباد اور کریم نگر میں نقصان ہوا ہے۔ یہ دونوں بھائی 2014 ء سے قبل ٹی آر ایس میں شامل ہو ئے تھے لیکن انتخابات کے وقت کانگریس میں واپس ہوگئے اور انہیں انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ اب دوبارہ وہ ٹی آر ایس میں واپس ہوچکے ہیں۔ ان قائدین کی شمولیت کے موقع پر ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی ، ریاستی وزراء ٹی ناگیشور راؤ ، جگدیش ریڈی ، ارکان کونسل کے پربھاکر ، سدھاکر ریڈی ، پی راجیشور ریڈی ، رکن پارلیمنٹ جتیندر ریڈی اور ٹی آر ایس کے قومی سکریٹری جنرل و رکن راجیہ سبھا ڈاکٹر کیشو راؤ اور دیگر قائدین موجود تھے ۔ پارٹی ذرائع کے مطابق آنے والے دنوں میں کانگریس کے مزید قائدین ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرسکتے ہیں۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے قائدین کی شمولیت کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ حکومت کی فلاحی اور ترقیاتی اسکیمات سے متاثر ہوکر مختلف جماعتوں کے قائدین ٹی آر ایس میں شامل ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سنہرے تلنگانہ کی تشکیل کیلئے تمام سیاسی جماعتوںکو مل کر کام کرنا ہوگا۔ چیف منسٹر نے دعویٰ کیا کہ 2019 ء کے انتخابات میں ٹی آر ایس دوبارہ کامیابی حاصل کرے گی کیونکہ عوام کے دلوں میں ٹی آر ایس نے اپنے کارناموں کے ذریعہ جگہ بنالی ہے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران کئی چیلنجس اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کے روشیا کے دور حکومت میں ٹی آر ایس نے دفعہ 14F کے خلاف جدوجہد کی تھی۔ انہوں نے کہاکہ تلنگانہ کیلئے صرف ٹی آر ایس کے قائدین نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دیا تھا جبکہ کسی اور پارٹی کے قائدین نے استعفیٰ نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں ٹی آر ایس کو 63 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے اور یہ اس کی عوامی تائید کا اظہار ہے۔ کے سی آر نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو نے تلنگانہ کے قیام کو روکنے کیلئے کئی سازشیں کیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ نے انہیں اطلاع دی تھی کہ تلگو دیشم اور کانگریس مل کر ٹی آر ایس کا صفایا کرنا چاہتے ہیں۔ بعد میں مقامی جماعت نے ٹی آر ایس کی تائید کا اعلان کیا ۔ انہوں نے کانگریس اور دیگر جماعتوں کے قائدین کی ٹی آر ایس میں شمولیت کی تائید کی اور کانگریس قائدین کے الزامات کو مسترد کردیا ۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس کی رکن پارلیمنٹ وجئے شانتی کو کانگریس میں شامل کیا گیا تھا، اس وقت یہ قائدین کیوں خاموش رہے۔ چیف منسٹر نے واضح کیا کہ تمام قائدین اپنے طور پر ٹی آر ایس میں شامل ہورہے ہیں اور ہم نے کسی بھی رکن اسمبلی کو نہیں خریدا ہے۔ اس طرح کے الزامات افسوسناک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 2019 سے قبل تمام آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر مکمل کرلی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT